web analytics

صوفیائے کرام کے مکتوبات

مکتبہ مجددیہ (حیدرآباد، سندھ) کی طرف سے یہ ویبسائٹ خاص طور پر مشائخ تصوف اور بزرگان دین کے مکتوبات شریفہ (خطوط) پیش کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔

یہاں پر تمام سلسلوں کے صوفی بزرگوں کے مکتوبات شریف شایع شدہ و غیر شایع شدہ ذرائع سے شامل کیے جائیں گے۔

فی الحال صرف اردو زبان میں مکتوبات پیش کیے جارہے ہیں، جن میں ترجمہ شدہ اور اردو میں لکھے ہوئے مکتوبات شریف شامل ہیں۔ لیکن مقصد یہ ہے کہ فارسی و عربی زبان میں مکتوبات شریف کا اصل متن بھی کمپیوٹر متن کی صورت میں پیش کیا جائے، تاکہ تلاش کرنے اور پڑھنے میں آسانی ہو۔

ہمیں امید ہے کہ ہماری اس ادنیٰ کاوش سے پڑھنے والوں کو دینی و اصلاحی و روحانی فائدہ حاصل ہوگا اور انہیں اولیاء اللہ کی تعلیمات سے مزید آشنائی ہوگی۔

کسی قسم کے سوال یا پیغام کے لئے مندرجہ ایمیل پر رابطہ فرمائیں۔ ہم ہر ایک ایمیل پڑھتے ہیں، لیکن شاید ہر ایمیل کا جواب نہ دے پائیں، کہ بہت زیادہ ایمیل موصول ہوتی ہیں۔

ghaffari@maktabah.org

مکتبہ مجددیہ، حیدرآباد سندھ

www.maktabah.org

www.maktabah.org/maktubat

ویبسائٹ کی ابتدا و اشاعت ۸ اگست ۲۰۱۴ کو ۴۲ بزرگانِ دین کے ۹۱ مکتوبات شریف کے ساتھ ہوئی۔

3 تعليقات على “صوفیائے کرام کے مکتوبات”

  1. خواجہ زندہ پیر سرکار رحمة اللہ علیہ کوہاٹ میں عرس مبارک 25,26,27 اکتوبر 2013 کو میں منایا جا ئے گا۔

    اسلام کی تاریخ علم و حکمت اور طریقت و معرفت کے درخشندہ چہروں سے بھری پڑی ہے ۔روحانیت اور علم و عرفان کے نور سے اولیا کرام رحمة اللہ علیہم نے ایک دنیا کو منور کیا ۔یہ سلسلہ اولیاء کرام سے نہیں بلکہ انبیاء کرام علیہم السلام سے شروع ہوا ۔انسان کی ہدایت کے لئے اللہ کریم نے قرآن مجید نازل فرمایا اور اس کی روشنی میں عمل کے طریقوں کی آگاہی کے لئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو بھیجا ۔نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بعد اولیاء اللہ اپنے اپنے وقت میں لوگوں کو ضرورت کے مطابق اس انقلاب و اصلاح پرورکتاب سے لوگوں کو روشناس کرتے رہے ۔

    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی فہم و فراصت سے دینِ اسلام پھیلایا اور اس طرح جب اُن کے ادوار بھی پورے ہوئے تو اولیاء اللہ نے تصوف و کرامات اور اللہ کریم کے دیگر احکامات سے امت کی فلاح و بہبود کے کام سنبھالے اور اولیاء کرام نے مخصوص علاقوں میں تبلیغ دین نہیں کی بلکہ دشت و صحرا ، میدان و جنگل ہر جگہ دین حق کی پابندی کا پیغام پہنچایا ۔لوگوں کو باطنی تربیت اور کمالِ معرفت اولیاء کرام کی روشن صحبتوں اور زندگیوں کی بدولت حاصل ہوئی۔اولیاء کرام اس انسانیت کا نمونہ ہوتے ہیں جو خاص منشائے خدا وندی ہے اور جس کے سامنے ملائکہ نے سر نیاز خم کیا ہے ۔
    انہیں نیک ہستیوں میں سے ایک ہستی بانی گھمکول شریف پیر حضرت شاہ المعروف خواجہ زندہ پیر سرکار رحمة اللہ علیہ ہیں ۔

    آپ رحمة اللہ علیہ کی سوانح حیات کنز العرفان فی شانِ خواجہ زندہ پیر رحمة اللہ علیہ کے مطابق آپ رحمة اللہ علیہ 1912ء میں حضرت پیر غلام رسول رحمة اللہ علیہ کے ہاں کوہاٹ میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والدِ ماجد پیر غلام رسول شاہ سلسلہ قادریہ کے مقتدر اولیاء اللہ میں سے ہیں ۔ آپ کا سلسلہ طریقت حضرت اخوند صاحب سوات اڈے شریف سے ملتا ہے ۔آپ رحمة اللہ علیہ کا مزار مبارک اجمیر شریف انڈیا میں ہے ۔

    حضور قبلہ عالم خواجہ زندہ پیر سرکار رحمة اللہ علیہ اوائل ہی سے دن کو روزہ اور رات کو قیام و عبادت و ریاضت کے پابند تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رحمة اللہ علیہ کو طاقت دی، اطاعت کی عادت دی اور کیفیت عبادت عطا کی ۔اللہ تعالیٰ نے رشد و ہدایت آپ کو عطا فرمایا تو آغاز شعو ر ہی سے آپکو تمام محاسن و مکارم بھی بدرجہ اتم و دیعت کر دئیے تھے ۔
    ازل ہی سے ولایت جن کے ہوتی ہے مقدر میں کیا کرتے ہیں وہ بچپن سے مشقِ اتقاء گھر میں
    بلا شک حضور قبلہ عالم رحمة اللہ علیہ کمسنی ہی سے کامل انسان تھے ۔آپ رحمة اللہ علیہ کا طرز زندگی تمام انسانوں سے ہٹ کر رہا ہے ۔ذکر الہٰی کی نعمت سے آپ رحمة اللہ علیہ کا دامن کمسنی ہی سے مزین و آراستہ رہا ہے ۔
    ابھی ملبوسِ گویائی نہ تھا پوری طرح پہنا کہ سیکھا تھا زباں نے قل ھو اللہ احد کہنا

    ظاہری تعلیم : حضور قبلہ عالم کسی درس گاہ سے فارغ التحصیل نہ تھے ۔مگر جو لوگ آپ رحمة اللہ علیہ کے ملفوظات سے ذوقِ سماعت حاصل کرتے ان سے معلوم کیجئے کہ آپ رحمة اللہ علیہ کے ہم نشین آپ رحمة اللہ علیہ کی وسعتِ معلومات کو لاجواب محسوس کرتے تھے ۔مشکل سے مشکل مسائل آپ رحمة اللہ علیہ اس طرح حل فرماتے تھے ۔جیسے کسی پہاڑ کو پانی کر دیا ۔اصل بات یہ ہے کہ خاصانِ خدا اور اولیاء کرام کو اللہ تعالیٰ کے خزانے علمِ لدنی کی دولت نصیب ہوتی ہے ۔جس کی وجہ سے مسائل کی دشوار ترین اور ناہموار شاہر اہوں سے بھی ایسے گذر جاتے ہیں کہ گویا وہ اَن دیکھی بھالی تھیں ۔وہی علم لدنی جو اسرارِ الہٰی کا سر چشمہ ہوتا ہے ۔

    اولیاء کرام اور انبیاء عظام کو بھی عطا ہوتا ہے ۔اسی علم لدنی سے حضور قبلہ عالم رحمة اللہ علیہ بھی فیض یاب ہوئے ۔عالم کی نظر حروف اور سطور پر ہوتی ہے ۔جبکہ فقیر کی روشنی سے وحدانیت کا سبق سیکھاجاتا ہے ۔مگر فقیر وحد انیت کی معرفت سکھاتا ہے ۔جس چیز کو عالم ظاہری آنکھ سے دیکھتا ہے ۔ فقیر اُسی چیز کو دل کی آنکھ سے بہت پہلے دیکھ چکا ہوتا ہے ۔حضور قبلہ عالم رحمة اللہ علیہ کو جتنا علم حاصل تھا وہ ایک دنیا کو منور و سیراب کرنے کیلئے کافی تھا ۔ حضور قبلہ عالم رحمة اللہ علیہ کمسنی ہی سے شب بیداری اور کثرتِ ذکر کے سرمایہ سے سرفراز تھے ۔اسی وجہ سے آپ رحمة اللہ علیہ کا سینہ مبارک خیالات فاسدہ کی کدورتوں اور دنیا کی ظلمتوں سے پاک و منزہ تھا۔ آپ رحمة اللہ علیہ نسبت روحانی کے لئے بے قرار رہتے اور اسی ارادہ پر اُس عہد کے فقراء و صالحین سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا ۔

    حضور قبلہ عالم رحمة اللہ علیہ کی ریاضتیں ،مجاہدے ،تقویٰ، توکل ،صبر و شکر سب بدرجہ اتم تکمیل کو پہنچ چکے تھے ۔تزکیہ نفس میں بلندمرتبہ حاصل ہو چکا تھا ۔اب ضرورت تھی تو ایک معلم روحانی کی جو آپ رحمة اللہ علیہ کو رشد و ہدایت کا باضابطہ اور مستند معدن بنا دیتا۔
    جذبہ کامل ہو تو آگ لگا دیتا ہے شمع کی لو سے ہے پروانہ محفل کی کشش

    چنانچہ حافظ پیر سید جماعت علی شاہ رحمة اللہ علیہ علی پور سیداں شریف ،حضرت پیر حافظ محمد عبد الکریم رحمة اللہ علیہ آستانہ عالیہ عید گاہ شریف راولپنڈی اور دیگر مشہور ہستیوں سے ملاقات کا شرف ضرور حاصل ہوا مگر آپ رحمة اللہ علیہ کی طبیعت مقدسہ سیراب نہ ہو سکی ۔جبکہ ان ہستیوں کا اپنے وقت میں روحانی عروج زبان خلق پر عام تھا ۔تاہم آپ رحمة اللہ علیہ دربارعالیہ حضرت امام ع..
    [4/25/2016 10:25:08 PM] Mustansar Javed Naqshbandi Ghamkolvi: چنانچہ حافظ پیر سید جماعت علی شاہ رحمة اللہ علیہ علی پور سیداں شریف ،حضرت پیر حافظ محمد عبد الکریم رحمة اللہ علیہ آستانہ عالیہ عید گاہ شریف راولپنڈی اور دیگر مشہور ہستیوں سے ملاقات کا شرف ضرور حاصل ہوا مگر آپ رحمة اللہ علیہ کی طبیعت مقدسہ سیراب نہ ہو سکی ۔جبکہ ان ہستیوں کا اپنے وقت میں روحانی عروج زبان خلق پر عام تھا ۔تاہم آپ رحمة اللہ علیہ دربارعالیہ حضرت امام علی الحق شہید المعروف امام صاحب رحمة اللہ علیہ (سیالکوٹ) پر جا کر اس مقصدِ اعلیٰ کی تکمیل کے لئے مراقب ہوئے تو ادھر سے فرمان ہوا کہ دربار عالیہ موہڑہ شریف (مری) میں سو(100)سال سے آپ رحمة اللہ علیہ کا انتظار ہو رہا ہے ۔اگر آپ رحمة اللہ علیہ آب حیات کے لئے تشنہ لب ہیں تو آب حیات بھی آپ جیسے ہنسنے والے تشنہ لب کا منتظر ہے ۔ آپ کا گوہر نایاب موہڑہ شریف میں موجود ہے۔ تو جب حضور قبلہ عالم اپنے دل میں مقام الفت لئے اپنے ہمدل کے قرب کے لئے سفر کر رہے تھے تو آگے سے بھی یہی صدائیں فضا ء میں گونج رہی تھیں ۔کہ آپ رحمة اللہ علیہ اپنے دل میں مقام الفت لے کر آرہے ہیں ۔ہم بھی اپنا دل ہتھیلی پر رکھے ہوے ہیںاور ہمدل کے انتظار میں بیٹھے ہیں ۔آپ رحمة اللہ علیہ میرے سب سے آخری خلیفہ ہیں آپ کا فیض سب سے بڑنا ہے۔ آپ کی چکور میں رزو (لنگر) کافی ہو گا ۔

    حضور با واجی قاسم سرکار رحمة اللہ علیہ اپنی نگاہ کشف سے دیکھ رہے تھے کے میرے لوائے قاسمی کے حامل جناب زندہ پیر رحمة اللہ علیہ ہی بندوں کے ہادی و راہنما اور پیشوا ہوں گے اور تمام غوثیت کے پاسباں ہو ں گے۔ اسی لئے حضور باواجی سرکار رحمة اللہ علیہ نے اپنی صد سالہ کمائی کا نچوڑ جناب زندہ پیر رحمة اللہ علیہ کو عطاء فرمایا ۔یہ واقع 1938ء کا ہے ۔کہ جب حضور قبلہ عالم رحمة اللہ علیہ شرفِ بیعت سے مشرف ہوئے ۔آپ رحمة اللہ علیہ کو موذوںپا کر اور مقام قطبیت پر فائز فرمانے کے بعد حضور باواجی سرکار رحمة اللہ علیہ خلوت نشین ہوگئے ۔آپ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا جن کے لئے سو(100)سال بیٹھا تھا سب کچھ اُن کے سپرد کر دیا ہے ۔
    [4/25/2016 10:35:32 PM] Mustansar Javed Naqshbandi Ghamkolvi: Ghamkol Sharif Kohat

    باواجی سرکار نے حضرت زندہ پیر رحمة اللہ علیہ کو اپنی نگاہ انتخاب اور دعائوں کے علاوہ ملبوس مبارک بشمول خرقہ خلافت سے نوازتے ہوئے رخصت فرمایا ۔ وقتِ رخصت باواجی سرکار نے حضور قبلہ عالم کو فوج کے ساتھ سول ملازمت اختیار کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ 1938ء سے 1949ء تک بارہ سال کا عرصہ حضور قبلہ عالم نے فوج کے ساتھ منسلک رہ کر مقام قطبیت پر فائز ہونے کے باوجود اپنے آپ کو پوشیدہ رکھا ۔ بالآخر آپ رحمة اللہ علیہ امر ربی کے مطابق 1949ء میں گیارہ بلوچ رجمنٹ ایبٹ آباد چھائونی میں پردۂ حالتِ راز سے بے نقاب ہوئے اور دین اسلام کی خدمت مخلوق خدا کی ہدایت و رہنمائی اور فیض عالم کیلئے آپ رحمة اللہ علیہ یونٹ سے سبک دوش ہو گئے۔1949ء سے1952ء تک یونٹ کے کوارٹر میں مقیم رہ کر رشد و ہدایت اور زائرین سے ملاقات کرتے رہے ۔

    ایبٹ آباد کے نزدیک گائوں لساں نواب کے نام سے مشہور تھا۔ وہاں آپ رحمة اللہ علیہ کے پیر بھائی محمد شاہ المعروف طوری بابا رحمة اللہ علیہ کے نام سے مشہور تھے ۔حضور قبلہ عالم کا ان کے ساتھ الفت اور محبت کا رشتہ تھا ۔

    طوری بابا بھی موہڑہ شریف کے خلیفہ مجاز تھے آپ رحمة اللہ علیہ اپنے گائوں میں ایک ہزار کنال رقبہ کے مالک تھے ۔آپ رحمة اللہ علیہ نے حضور قبلہ عالم رحمة اللہ علیہ کے مراتب اور فقیری کمال دیکھتے ہوئے کہا کہ میں آپ رحمة اللہ علیہ کو پانچ سو کنال زمین آپ رحمة اللہ علیہ کے نام کرتا ہوں آپ میرے پاس مخلوق خدا کی رشد و ہدایت اور فیض یابی کے لئے مسند نشین ہو جائیں ۔حضور قبلہ عالم رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں مدینہ شریف جا رہا ہوں ۔وہاں جو فرمان ہو گا اُس پر عمل کیا جائے گا۔ 1952ء میں آپ رحمة اللہ علیہ بذریعہ بحری جہاز پہلی بارحج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے تشریف لے گئے ۔

    فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد آپ رحمة اللہ علیہ نے گنبد خضریٰ کے سامنے کھڑے ہو کر جناب سید عالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی بارگاہ معلیٰ میں درخواست پیش کی کہ میرے لئے کیا فرمان ہے ۔تو گنبدی خضریٰ سے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دستِ مبارک کا اشارہ اُن پہاڑوں کی طرف ہوتا ہے اور ساتھ فرمان ہوتا ہے آپ پہاڑ پر دیکھیں آپ رحمة اللہ علیہ نے پہاڑوں کی طرف دیکھا اللہ تعالیٰ نے درمیان سے تمام حجابات کو ہٹا دیا تھا ۔آپ رحمة اللہ علیہ نے ایک حجرہ پر زندہ پیر رحمة اللہ علیہ اور دربار عالیہ گھمکول شریف لکھا ہوا دیکھا ۔

    ریاض دہر میں لاکھوں آستانے موجود ہیں جو کہ آستانہ کی موجودگی سے اور ظہور سے پہلے محض آبادی کے نام سے موسوم تھے ۔جب ان آبادیوں میں اللہ والوں کے قدم مبارک اور نگاہ فیض کے چھینٹے پڑے وہی جگہیں و آبادیاں آستانوں میں بدل گئیں اور شریف کے لقب سے زبان خلق پر مشہور ہو گئیں۔ مثلاً گولڑہ سے گولڑہ شریف ،علی پور سے علی پور شریف ،جلال پور سے جلال پور شریف، شرق پور سے شرق پور شریف ، بڈیانہ سے بڈیانہ شریف ،علی پور چٹھہ سے علی پور چٹھہ شریف ۔ان آبادیوں کی عزت و تکریم کا موجب صرف اور صرف ان اولیاء عظام کا ان میں قیام و ظہور ہے ۔ جتنے بھی صاحب آستانہ گزرے ہیں ہر کسی کو اپنے شیخ نے جگہ متعین کر کے بٹھا یا ہے ۔

    ساڑھے نو سو سال قبل جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا گنبد خضریٰ سے ملک ہند ی طرف دست مبارک اُٹھا تو حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمة اللہ علیہ نے اجمیر شریف کو آباد کیا اور ساڑھے نو سو سال بعد دوسری باراشارہ ہوتا ہے ۔تو گھمکول شریف کے قیام کیلئے دربار عالیہ گھمکول شریف کو یہ خاص امتیازی حیثیت ہے کہ اس دربار عالیہ کا ظہور اور بنیاد جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اشارہ پاک کی نسبت سے ہے ۔ اس بے آب و گیاہ جنگل جہاں کسی جانور اور پرندے کی آواز تک نہ تھی کسی انسان کی گزرگاہ کا گمان بھی نہ تھا صرف اور صرف زندہ پیر رحمة اللہ علیہ نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے فرمان کی تکمیل کی اور تن و تنہا رات کو غار مبارک کو اپنی خلوت گاہ کا شرف بخشا ۔

    فرمان رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر ہر واسطہ توڑنے اور اللہ کریم سے واسطہ جوڑنے کاثمر ہے کہ اس بارگاہ مقدسہ گھمکول شریف سے ہر وقت افضل الذکر لاالہ الا اللہ کی صدائیں فضا ء کو محیط کئے رکھتی ہیں ۔حضور قبلہ عالم رحمة اللہ علیہ نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت کا کما حقہ حق ادا کر دیکھا یا ہے ۔آج آپ رحمة اللہ علیہ بفضلہ تعالیٰ دیداور کے لئے آئینہ مصطفائی ہیں اور گھمکول شریف کی بارگاہ رب تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔حضور قبلہ عالم رحمة اللہ علیہ نے پہلا حج مبارک بذریعہ بحری جہاز 1952ء میں ،دوسرا بذریعہ ہوائی جہاز 1968ء ، تیسراحج مبارک 1971ء میں اور اس کے بعد 26 حج بلا ناغہ ادا کرنے کا شرف حاصل کیا ۔

    آپ رحمة اللہ علیہ کے روحانی فیض سے لاکھوں لوگ فیض یاب ہوئے۔ مردہ دلوں کو حیات ایمان نصیب ہوئی اور بے شمار مخلوق کو صحت جسمانی او ر قوت روحانی عطا ہوئی۔ ہزاروں پریشان حال انسانوں کو راحتِ قلبی اور حیات ابدی نصیب ہوئی حضور قبلہ عالم رحمة اللہ علیہ کو جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی بارگاہ معلی سے عرفان و ایقان کی ایسی لازوال دولت عطا ہوئی کہ حضور کا دریائے بخشش بحر کرم ہمیشہ موجزن ہے اور تا ابد جاری و ساری رہے گااور تشنگان معرفت کو رشد و ہدایت کے آب حیات سے سیراب کرتا رہے گا۔

    کشف:قارئین کرام میں یہاں مختصر کشف و کرامت کا ذکر کرنا چاپتا ہوں کشف خ..
    [4/25/2016 10:40:20 PM] Mustansar Javed Naqshbandi Ghamkolvi: کشف:قارئین کرام میں یہاں مختصر کشف و کرامت کا ذکر کرنا چاپتا ہوں کشف خاصان خدا کی ایک حالت کا نام ہے جو صدیقین اور مقربین بارگاہ حق تعالیٰ کا حصہ ہے ،ایک نور ہے جو نفس کے تمام صفات زمیمہ سے پاک وصاف ہو جانے پر قلب مومن میں پیدا و ہو ید ا ہوتا ہے ۔قوت مکاشفہ اکثر و بیشتر اولیاء اللہ میں پائی جاتی ہیں چونکہ ان کے قلوب ریاضات شاقہ اور عبادات کثیرہ اور تزکیہ نفس کی وجہ سے آئینہ دار صاف شفاف ہوجاتے ہیں ۔

    انبیاء علیہ السلام کو جو باتیں بذریعہ وحی معلوم ہوتی تھیں اولیاء کرام کو وہی باتیں بذریعہ کشف ظاہر ہوتی ہیں فرق اتنا ہے کہ وحی تقد یر الہٰی کا آئینہ دار ہوتی ہے اور کشف و ارد ات و واقعات کا عکس ہوتا ہے ۔اہل اللہ لوگوں نے ہی فرمایا کہ رب کریم اپنے بندے کے سامنے سو مرتبے پھیلاتے ہیں جن میں سے کشف ستاراہواں مقام ہے کئی طالب یہاں آکر ناکام ہوجاتے ہیں کشف کے مرتبہ پر فائز ہونے سے سمجھتے ہیں سب کچھ پا لیا لیکن وہ اگلے تراسی مقامات سے محروم ہوجاتے ہیں ۔اسی وجہ سے اکثر و بیشتر اولیا ء اللہ نے کشف و کرامات سے گریز کیا ہے تاکہ سو مرتبے حاصل کر سکیں ۔

    کرامت:انسان کی روحانی ترقی کوئی راز نہیں ہے ہر قسم کی صلاحیت اس کی فطرت میں موجود ہے ان صلاحیتوں سے کام لینے کانام ترقی ہے اسی مقصد سے دنیا میں انبیاء علیہ اسلام مبعوث ہوئے اسی مقصد سے صحیفے اور آسمانی کتابیں نازل کئے گئے ہیں لوگوں کو صدائے عام دیا گیا ہے تاکہ وہ حقیقت سے آگاہ ہوں اپنی ہستی کا اصل مدعا معلوم کریں اسی لحاظ سے ہر وہ زی روح جوانسان کے نام سے پکارا جاتا ہے ہر قسم کی کثافت سے پاک ہوکر اور فقروزہد کے مدارج طے کرکے روحانیت میں پہنچ سکتا ہے یہ خاک کا انسان جب ایمان کی روشنی سے دل ودماغ کو منور کرتا ہے صوم وصلوٰة کی پابندیوں سے نفس پر قابو لاتا ہے ۔
    زکوٰة وصدقات کے ذریعے سے حب مال کو دل سے دور کرتا ہے ۔فقر وقناعت ،تسلیم ورضا کو اپنا شعار بناتا ہے ۔زہد وتقویٰ کی دولت روح کو تمام قسم کی آلو دگیوں سے پاک کرتا ہے اور اُسے حلیم وصبر ،رحم وشفقت ،اُنس ومحبت اور تمام اخلاق حسنہ کے بیش بہازیوروں سے آراستہ کر دیتا ہے تو دل میں عرفان کی تجلیات محسوس ہونے لگتی ہیں اور رفتہ رفتہ جسمانی و بہیمی کثافتیں دور ہوکر روحانی اور ملکوتی طاقتیں پیدا ہوجاتی ہیں جب بندہ ناچیز کو اپنے مولا سے یہ قرب حاصل ہوجائے تو کرامات کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔

    قارئین کرام ! حضور قبلہ عالم نے کشف وکرامات سے بہت گریز فرمایا ہے ۔آپ کو ودیعت ہی سے دین حق کی خدمت ،مصلی پاک کی حفاظت اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت و تباع تھا تاہم بعض مواقع پر ایسے واقع رونما ہوئے جن سے حضور قبلہ عالم کے کشف کا اظہار بھی ہوا اور کرامات بھی رونما ہوئیں ۔آپ رحمة اللہ علیہ کے عقیدت مند دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں ۔جن میں دبئی ،قطر ،مسقط،سعودی عرب،امریکہ ، انڈیا،اٹلی،کویت، برمنگم، لندن،سائوتھ افریقہ،یونان،فرانس ان تمام جگہوں پر آپ رحمة اللہ علیہ کے عرس مبارک منائے جاتے ہیں اور گھمکول شریف میں ہی تادم واپس حضرت زندہ پیر صاحب رحمة اللہ علیہ کا درس شریف جاری رہا ۔جس سے اطراف و اکناف کے لاتعداد تشنگان علوم معرفت سیراب ہو کر نکلے اور ایسے نکلے کہ خود انہوں نے اپنے سر چشمہ باطنی سے لاکھوں کو فیضیاب کیا ۔طریقت معرفت کا یہ نئیر تابان لاکھوں افراد کو روشنی دے کر 3ذوالحج 1419ھ بمطابق 22مارچ 1999ء بروز سوموار 87سال کی عمر مبارکہ میں غروب ہوا۔
    اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنْ

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

صÙ?Ù?Û?ائÛ? کراÙ? Ú©Û? Ù?کتÙ?بات اÙ?ر خطÙ?Ø·