مکتوباتِ صدی، مکتوب ۵۔ طلبِ پیر کے بیان میں

مکتوب شریف حضرت شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۷۸۲ھ)

موضوع: طلبِ پیر کے بیان میں

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: سید نجم الدین احمد فردوسی اور سید شاہ الیاس فردوسی

حوالہ: مکتوباتِ صدی، مرتبہ پروفیسر ڈاکٹر سید شاہ محمد نعیم ندوی ، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


بسمِ اللہ الرّحمٰن الرّحیم

اے میرے بھائی شمس الدین! اللہ تُم کو دونوں جہان میں مشرف بنائے۔ تمہیں معلوم ہو کہ مشائخِ طریقت رضوانُ اللہِ علیہم اجمعین کا اتفاق ہے کہ تکمیلِ توبہ کے بعد مبتدی پر فرض ہے کہ ایسا پختہ پیر تلاش کرے جو نشیب و فرازِ راہ سے آگاہ، صاحبِ حال و مقام ہو۔ صفاتِ جلالی کے قہر و غضب اور صفاتِ جمالی کے لطف و کرم کا مشاہدہ کر چکا ہو۔ ”اَلۡعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الۡاَنۡبِيَاءِ“ (علماء انبیاء کے وارث ہیں) جس کی شان میں پورا پورا صادق آتا ہو۔ اور ایسا طبیبِ حاذق ہو گیا ہو کہ مرید کے جملہ امراض و عوارضِ باطن کا علاج جانتا ہو، اور سب کی دوا کر سکتا ہو۔

اب سُنو! کلام اللہ کا حکم ہے: ”كُوۡنُوۡا مَعَ الصَّادِقِيۡنَ“ صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ یہ مرتبہ اوّل درجے میں پیغمبروں کو حاصل ہے صلوٰۃ اللہ علیہم۔ بعد اُنکے اُن کے خلفاء کا درجہ ہے، یعنی مشائخِ کرام کا۔ کیونکہ ”اَلۡعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الۡاَنۡبِيَاءِ“ (علماء انبیاء کے وارث ہیںں) اور ”عُلَمَاءُ اُمَّتِيۡ كَاَنۡبِيَاءِ بَنِيۡ اِسۡرَائِيۡل“ (میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی مانند ہیں) انھیں کے فرمان کا سرنامہ ہے۔ اور ”قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيۡهِ وَسَلَّمَ اَلشَّيۡخُ فِيۡ قَوۡمِهٖ كَالنَّبِيِّ فِيۡ اُمَّتِهٖ“ شیخ اپنی قوم میں خدا کی راہ اسی طرح دکھلانے والا ہے، جس طرح اپنی امّت میں پیغمبر۔ اور یہ ظاہر ہے کہ امت کو راہِ طلب میں بغیر پیغمبر کے چارہ نہیں۔ تو قوم کو بھی بغیر شیخ یعنی خلیفۂ پیغمبر کے چارہ نہیں۔ اسی وجہ سے حضراتِ مشائخ کا قول ہے کہ ”لَا دِيۡنَ لِمَنۡ لَا شَيۡخَ لَهٗ“ (جس کا کوئی پیر و مرشد نہیں اُس کا مذہب ہی نہیں)۔ اور حضرت صلّی اللہ علیہ وسلّم کا یہ فرمان کہ ”اِقۡتَدُوۡا بِالدِّيۡنِ مِنۡ بَعۡدِيۡ اَبَابَكۡرٍ وَ عُمَرَ“ (میرے بعد حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضوان اللہ علیہم کی پیروی کرو)۔ اور پھر فرمایا ”اَصۡحَابِيۡ كَالنُّجُوۡمِ بِاَيِّهِمۡ اقۡتَدَيۡتُمۡ اهۡتَدَيۡتُمۡ“ (میرے اصحاب ستاروں کی طرح ہیں، تم نے جس کی بھی پیروی کی رستہ پا لیا) اسی کی تائید میں ہے۔

یہ بات مسلّم ہے کہ ابتدائے ہدایت میں نہ پیغمبر کی حاجت ہوتی ہے اور نہ شیخ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ پہلی ہدایت کا بیج محض اللہ تعالیٰ کے دستِ عنایت و کرم پر موقوف ہے۔ جس دل کی زمین میں چاہے بو دے۔ ”وَلٰكِنَّ اللَّهَ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَاءُ“ (جس کی چاہتا ہے اللہ ہی ہدایت کرتا ہے)۔ مگر جہاں وہ بیج اُگ چلا اُس کی پرورش کے لیے پیغمبر کی حاجت ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ حضرات اللہ کے نائب اور خلیفہ ہیں۔ ”اِنَّكَ لَتَهۡدِيۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمِ“ (بیشک تم سیدھا راستہ دکھاتے ہو)۔ یا شیخ کی ضرورت پڑتی ہے، کہ اِن کی ذات بابرکات پیغمبروں کی نائب ہے۔ ”وَمِمَّنۡ خَلَقۡنَا اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ“ (اور میں نے جن کو پیدا کیا، وہ اپنی اُمّت کو حق اور راستی کی طرف لے جاتے ہیں)۔ علاوہ ازیں مشائخ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کتابوں میں بکثرت عقلی دلائل موجود ہیں۔

پہلی دلیل یہ سنو۔ کعبہ کی راہِ ظاہر، ظاہر اور کھلی ہوئی ہے، اور جانے والا ایسا ہے کہ اس کی آنکھوں میں روشنی بھی ہے۔ بلکہ پاؤں میں قوت اور جسم میں توانائی بھی موجود ہے۔ راستے کا یہ حال ہے کہ دکھائی دے رہا ہے۔ مگر آج تک نہ سُنا کہ بغیر کسی راہبر یا راہ شناس کے کوئی شخص پہنچا ہو۔ پھر طریقت کی راہ جو غیر محسوس اور غیر معلوم ہے اور یہ شان رکھتی ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران علیہم السلام اس راہ سے یقینی گزرے، مگر کسی کے نقشِ قدم کا پتہ نہیں ہے۔ تو بالکل محال ہے کہ بغیر کسی راہبر یا راہ شناس کے اس کو قطع کر سکے۔

دوسری دلیل سنو۔ اکثر راستوں میں چور ڈاکو ملا کرتے ہیں۔ بغیر محافظ کے جانے میں لُٹ جانے کا خوف ہے۔ طریقت کی راہ میں بھی خود نفس کافر اور اصلی شیطان اور نقلی شیاطین یعنی بعض بعض جنات اور بعض انسان راہزن ہیں۔ بغیر کسی صاحبِ دل یا صاحبِ ولایت کے جانا اپنی پونجی کو برباد کر دینا ہے۔

تیسری دلیل سُنو۔ اس راہ میں ایسا ستھراؤ ہے کہ قدم پھسلتے ہیں۔ اور وہ گھاٹیاں ہیں کہ جانبری محال ہے۔ سیکڑوں فلسفی، دہری، ملاحدہ، معتزلہ، اباحتی اور اکثر بندۂ نفس و ہوا بغیر امدادِ شیخِ کامل اور مقتدائے واصل کے محض اپنی عقل کے بھروسے پر اس راہ میں چلے، پس فوراً ہی بھٹک کر دشتِ پُرخار میں ایسے اُلجھے کہ نکل نہ سکے۔ دین و ایمان سب برباد ہو کر رہ گئے۔ کیا خوب کسی نے کہا ہے۔ بیت:

تو چوں موری و این راہیست ہمچوں موئے بت رویان
مَرو زنہار بر تخمین و بر تقلید و بر عمیان

(تو چیونٹی کی طرح ہے۔ اور یہ راہ بال کی طرح باریک ہے۔ قیاس اور اندھی تقلید کو سامنے رکھ کر ہرگز نہ جانا)

دیکھو ان خوش نصیبوں کو جو کسی صاحبِ ولایت کے سایۂ عاطفت میں کس مزے سے تمام گھاٹیوں کو صحیح و سالم عبور کر چکے ہیں۔ اور ہر لغزش اور ہر تہلکہ سے محفوظ رہے ہیں۔ اس سلوک میں یہ بات بھی ان پر کھل جاتی ہے کہ کون کہاں گرا۔ کون مقام کیسا ہے۔
چوتھی دلیل سنو۔ اس راہ کے چلنے والوں کو مصائب کا سامنا ہوتا ہے۔ طرح طرح کے امتحان کی نوبت آتی ہے۔ یہاں تک کہ دل چھوٹ جاتا ہے اور پست ہو جاتا ہے۔ اگر شیخِ کامل صاحبِ تصرف نہ ہو تو اور بھی دل بیٹھا چلا جاتا ہے۔ یہ رنگ دیکھ کر شیخ رہبر وہ وہ نادر باتیں کرتا ہے کہ مرید کے جذبات تیز ہو جاتے ہیں۔ اور ہمّت بڑھ جاتی ہے۔ مرید راہِ طلب میں جان جی دھو کر مستعد اور آمادہ ہو جاتا ہے۔ ورنہ خوف تھا کہ حق سے اُس کو دُوری ہو جائے۔ اور راہِ طریقت چھوڑ کر رسم و عادت کے چنگل میں قدم رکھے۔ اور ساری کوششیں اس کی ضایع ہو جائیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ قطعہ:

در سایۂ پیر شو کہ نابینا
آن اولیٰ تر کہ باعصا گردد

کاہے شود کوہِ عُجب برہم زن
تا پیر ترا چو کہربا گردد

گر این نہ کنی کہ گفت عطّار
ہر رنج کہ می کنی ہبا گردد

(کسی شیخ کی پناہ میں رہو۔ اندھے کے لیے لاٹھی رکھنا ضروری ہے۔ کاہ بن جا، اور غرور کی چٹان پاش پاش کر دے۔ تاکہ تجھہ کو تیرا شیخ کہربا کی طرح کھینچ لے۔ عطار نے جو یہ باتیں کہیں، اگر تو نہیں کرتا تو جتنی محنت و مشقت جھیلتا ہے سب برباد ہو جائے گی)

پانچویں دلیل سنو۔ کہ سالک کا گزر ایسے مقامات پر بھی ہوتا ہے جہاں رُوح اس جسمِ خاکی سے مجرد ہو کر نورِ حق کے پرتَو میں ڈوب جاتی ہے۔ چونکہ روح خلیفۂ حق ہے، عجب رنگ میں اپنے کو دیکھتی ہے۔ ذوقِ سبحانی و انا الحق سے اس عالمِ خلوت میں لبریز ہو جاتی ہے کہ ہم کو جو پانا تھا پا لیا۔ اور جو ملنا تھا مل گیا۔ بیشک ایسی حالت میں عقل و فہم کام نہیں کر سکتی ہے۔ خاص ضرورت صاحبِ ولایت شیخ کی ہے۔ تاکہ اپنے لطف و کرم سے نہ ایمان جانے دے، نہ توحیدِ حلولی ثابت ہونے دے، نہ توحیدِ اتحادی کی طرف رُخ کرنے دے۔ بلکہ توحیدِ خالص اور ایمان کے رستے پر قائم رکھے۔

چھٹی دلیل سنو۔ کہ اثنائے سلوک میں مبتدی کو غیب کے عجائبات دیکھ کر طرح طرح کے شبہے پیدا ہوتے ہیں۔ اور عجیب عجیب مہیب خبریں ملتی رہتی ہیں۔ علاوہ ازیں شیطانی، نفسانی اور رحمانی احوال و کیفیات رنگ بدل بدل کر سامنے آتے ہیں۔ بیچارے غریب مبتدی کو اتنی صلاحیت اور واقفیت کہاں کہ غیب کی باتیں سمجھے، اور وہاں کے راز سے واقف ہو سکے۔ کیونکہ جو غیب داں ہے وہی غیب کی زبان، غیب کی بات جان سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے۔ کسی نے خوب کہا ہے۔ بیت:

تو چہ دانی زبانِ مرغاں را
چون ندیدی گہے سلیماں را

(تو چڑیوں کی بولی کیونکر سمجھ سکتا ہے جب کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو کبھی دیکھا نہیں)

ایسے موقع پر اگر شیخ مؤید بتائیدِ الٰہی اور معلّم بعلمِ تاویلات اور اس زبان و معانی کا آگاہ نہ ہو تو مرید ہکّا بکّا ہو کر وہیں رہ جائیگا، ترقّی نہیں کر سکتا۔

ساتویں دلیل سنو۔ کہ اگر کوئی شخص دنیاوی بادشاہ کے ہاں کچھہ رتبہ یا درجہ یا منصب یا تقرب حاصل کرنا چاہے، مگر اس کی صلاحیت نہ ہو کہ بادشاہ کے لائق کوئی کام انجام دے سکے۔ اور کوئی استحقاق بھی کسی حیثیت سے نہ رکھتا ہو، تو اس کو کیا کرنا چاہیے۔ یہی کہ اپنے کو کسی مقربِ درگاہ کے ساتھ وابستہ کر دے تاکہ وہ مقبول و منظورِ نظرِ بادشاہ اُس کی عرض بادشاہ کے حضور میں پہنچا دے۔ اس صورت میں یقینِ کامل ہے کہ بادشاہِ دنیا عدم استحقاق یا کم خدمتی کو اس شخص کے نہ دیکھے گا۔ بلکہ وہ اُس مقرب کے حقوقِ سابق اور حاضر باشی کا لحاظ کرے گا۔ اور اسی وسیلے سے اُس کی عرض قبول کی جائے گی۔ اور سائل کو حسب خواہش منصب وغیرہ عطا ہوگا۔ اگر یہی شخص ایک مدتِ دراز تک اپنے طور پر اس درجہ تک رسائی چاہتا تو ہرگز مقصود حاصل نہ ہوتا۔ تم اس کو باور کرو کہ مشائخ رضوان اللہ علیہم اجمعین اس درگاہ میں بادشاہِ دو جہاں کے ایسے مقرب اور مقبول ہیں کہ ان کی بات سنی جاتی ہے۔ جس نے اپنے کو ان کے ساتھہ وابستہ کردیا وہ مقصود و مطلوب تک پہنچ گیا۔ مشائخ رضوان اللہ علیہم اجمعین نظر کی صفائی اور دل کی پاکی کے باعث رموز و اشاراتِ قرآنِ قدیم و احادیثِ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ وسلم سے خوب واقف ہوتے ہیں۔ اور باطن کی راہ طے کر کے بیٹھے ہیں۔ مریدوں کے لیے اصول و ضوابط قاعدہ و قانون ان حضرات نے مقرر کر دیے ہیں۔ اور احکام جاری کیے ہیں۔

پہلا حُکم۔ ایک شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ایسی بینائی دی کہ اپنے افعال میں سے نیک کو نیک اور بد کو بد سمجھتا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ بُری باتیں دُور ہو جائیں۔ لیکن اس غریب کو اس کی خبر کہاں کہ اس کا طریقہ کیا ہے۔ تو ایسی صورت میں اس کو چاہیے کہ مقرب اور مقبولِ درگاہ بندے کے ساتھ اپنے کو وابستہ کر دے۔ اور اپنے صفاتِ ذمیمہ کے بدلنے کا کامل ارادہ کر لے تاکہ وہ بندۂ مقبول اس دُور افتادہ اور گم شُدہ کو قبول کر لے اور نفسِ امارہ کے مکر سے اس کو بچا لے۔

دوسرا حکم۔ اگر مرید میں کچھہ قصور و فتور پیدا ہو گیا ہو تو از راہِ لطف و شفقت پیر ایسی ترغیب دے کہ ہمّت بلند ہو جائے۔

تیسرا حکم۔ بُروں کی صحبت اور ہم نشینی سے اور بُری باتوں کو سُننے سے مرید کو منع فرمائے۔ حالت یہ ہے کہ مرید سالہا سال میں جو بات حاصل کرسکتا ہے، یہ حضرات ایک ساعت میں اس کے دل کو ویسا بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح اور باتوں کو بھی سمجھو۔

بہرحال پیر و مرید کا معاملہ نہایت نازک ہے۔ اس کے متعلق یہ ممکن ہے کہ مرید ایک پیر سے منزلِ مقصود تک نہ پہنچے، بلکہ دو تین یا چار یا اس سے بھی زیادہ صحبتِ شیخ کی اس کو ضرورت پڑے۔ بعد اس کے مقصود حاصل ہو۔ اور ہر پیر کی صحبت ایک مقام کے کشف کا باعث ہو۔ لیکن مرید کے لیے بہتر اور مناسب یہی ہے کہ ہرگز ہرگز یہ خیال دل میں پیدا نہ ہونے دے کہ موجودہ پیر سے میری ترقی ناممکن ہے۔ اور اُن کی رسائی اس مرتبہ سے زیادہ نہیں ہے۔ بلکہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ مرید اپنے پیر کو بہت بڑا کامل سمجھے اور اس کا یقین کر لے کہ میرا حصّہ حضرت کے یہاں اسی قدر تھا۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ایک سچّا پیر کسی مرید کی ترقی کا خواہاں نہ ہو اور اُس کو اپنے مقام میں اُلجھا رکھے۔ بہر کیف مسئلہ یہ ہے کہ مرید نے جب کسی پیر کی صحبت اختیار کر لی تو بغیر اجازت اسکی صحبت سے الگ نہیں ہو سکتا۔ اور دوسرے پیر کے یہاں رجوع نہیں کر سکتا۔ اس امر کی سخت نگہداشت رکھنا چاہیے، اور پیروں کی غیرت سے بچنا چاہیے۔ کیونکہ اگر بغیر اجازت یا بطریقِ بطلان اپنے پیر کو چھوڑ کر مرید دوسرے پیر کی طرف رجوع کرے گا تو وہ مرتدِ طریقت ہو گا۔

خیر، مشائخ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہ روش رہی ہے کہ جب کسی مرید نے اُن کے ساتھ تعلق پیدا کر لیا تو تین سال کی مدّت میں تین کام اس سے لیتے ہیں۔ اگر اس پر اس نے استقامت کی اور اچھی طرح انجام دیا تو مرید کو تقلیداً نہیں، بلکہ تحقیقاً خرقہ پہناتے ہیں۔ اور اگر مرید حسبِ فرمان کاربند نہ ہوا تو فرما دیتے ہیں کہ طریقت اس کو قبول نہیں کرتی۔ وہ تین باتیں یہ ہیں۔ ایک سال خلق اللہ کی خدمت کرنا۔ ایک سال اللہ تعالیٰ کی بکثرت بندگی کرنا۔ ایک سال دل کی پاسبانی کرنا۔

اور ضمناً یہ حکم بھی دیتے ہیں کہ ہاتھ دُعا کے لیے اُٹھا رہے۔ زبان سوال کے لیے کھلی رہے۔ ”اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ فِي الدُّعَاءِ“ (اللہ رونے گڑگڑانے والوں کی دعا کو دوست رکھتا ہے)۔ بزرگوں کا قول ہے کہ سوال و دعا میں شرم کا بالکل پردہ اُٹھا دینا اچھا ہے۔ اور جو دل چاہے وہی مانگنا بہتر ہے۔ بلکہ جو چیز مانگی جائے ذلیل و حقیر نہ طلب کی جائے۔ اور جب تک حاجت پوری نہ ہو طالب درگاہ سے ٹالے نہ ٹلے۔ اور اس کا یقین رکھے کہ وہاں سے جو کچھ ملا بے قیمت ملا، مفت ملا۔ جس کسی کو ایمان عطا ہوا، مفت عطا ہوا۔ اور جس کی بخشائش ہوئی مفت ہوئی۔ لینے والا ہو تو سارا جہاں وہ بخش دے۔ ”هَلۡ مِنۡ سَائِلٍ هَلۡ مِنۡ دَاعٍ هَلۡ مِنۡ مُسۡتَغۡفِرٍ“ (کیا کوئی سائل ہے؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے؟ کیا کوئی بخشش چاہنے والا ہے؟)۔ اے مانگنے والو مانگو، ہمارے کرم کی کوئی حد نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ تم مانگو۔ اگر نہ مانگو گے تو ہم تقاضا کریں گے۔ اس پر بھی نہ سنو گے تو ہم بے مانگے دیں گے۔ قطعہ

آنکہ نا خواستہ عطا بخشد
گر تو خواہش کنی چہا بخشد

بادشاہے ست او اگر خواہد
ہر دو عالم بیک گدا بخشد

(جو بغیر مانگے ہوئے دیتا ہے، اگر اُس سے تُو مانگے گا تو کِس قدر عطا فرمائے گا۔ اگر وہ چاہے تو دونوں جہان کی بادشاہی ایک فقیر کو بخش دے، وہ شہنشاہ ہے۔)

اے بھائی! یہ بات چیت درِ کرم کی ہے۔ یہاں استحقاق کا ذکر نہیں ہے۔ کریم کی یہی شان ہے کہ بلا استحقاق دے۔ استحقاق کے ساتھ جو دیتا ہے کریم نہیں کہلاتا۔ کیونکہ استحقاق ادائے حق کو واجب کرتا ہے۔ اور جب ادائے حق واجب ہوا تو ایک قسم کا دَین ٹھہرا۔ اور دَین کا دینا کرم نہیں ہوتا، نہ کریم کی یہ شان ہوتی ہے۔

نقل ہے کہ ایک کافر نے جب حضرت امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کے وقت عرض کی، اے علی اپنی تلوار تم مجھے دے دو۔ آپ نے تلوار اُس کو دے دی۔ پھر اس کافر نے کہا کہ اے علی، یا تو آپ بہت ہی بڑے شجاع ہیں یا سخت نادان ہیں کہ اپنی تلوار دشمن کو دے دی۔ آپ نے فرمایا کہ بے شک دشمنِ جان ہے، مگر سائلوں کے لہجہ میں تو نے سوال کیا ہے، اور حال یہ ہے کہ سائل کو محروم رکھنا کریموں کا دستور نہیں ہے۔ والسلام

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *