مکتوب شاہ ابوالخیر مجددی: برے خیالات کا آنا اور مولوی اشرف علی تھانوی کے بارے میں

مکتوب شریف حضرت شاہ عبداللہ ابوالخیر دہلوی فاروقی مجددی نقشبندی (وفات ۱۳۴۱ھ)، ولد شاہ محمد عمر مجددی ولد شاہ احمد سعید مجددی رحمۃ اللہ علیھما، سجادہ نشین خانقاہ مظہریہ، دہلی

یہ مکتوب آپ نے مولوی عبدالرحمٰن بن مولوی امام الدین ساکن نکودر، ضلع جالندھر، پنجاب کی طرف صادر فرمایا جو مدرسہ دیوبند میں زیر تعلیم تھے۔ ان کے والد حضرت شاہ ابوالخیر دہلوی کے عاشق صادق تھے۔ مولوی عبدالرحمٰن خود ایک سادہ دل انسان تھے اور جو بات دل میں آتی تھی وہ حضرت سے بذریعہ خط پوچھ لیتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے مولوی اشرف علی تھانوی کے متعلق اور چندہ کی بابت حضرت سے پوچھا، تو انہوں نے درج ذیل مکتوب جواباً تحریر فرمایا۔

زبان: اردو

حوالہ: مقاماتِ خیر (سوانح شاہ ابو الخیر مجددی)، تالیف مولانا ابو الحسن زید فاروقی، شاہ ابو الخیر اکیڈمی، دہلی، انڈیا، بار دوم ۱۹۸۹، صفحہ ۵۴۳

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔

بسم الله الرحمٰن الرحيم

عبدالرحمٰن کو بعد سلام علیک کے معلوم ہو، تمہارا خط پہنچا، حال معلوم ہوا۔ تم نے لکھا ہے کہ مجھ کو بُرے خیالات بہت آتے ہیں۔ اس بات کا سمجھنا مشکل ہے کہ وہ خیالات کس قسم کے ہیں؟ اپنی خواہشات اور ضروریات کے متعلق ہیں، یعنی مثلاً ضرورتِ نکاح یا ضرورتِ روپیہ وغیرہ کے متعلق خیالات ہوتے ہیں؟ یا کہ کچھ عقائد میں خرابی ہونے کی وجہ سے خیالاتِ بد ہیں؟ غرضیکہ باطنی امراض اور اُن کا علاج ایسی آسان بات نہیں ہے کہ صرف خط و کتابت سے حل ہو جائے۔ خدمت کی ضرورت ہے، بیعت کی ضرورت ہے، حاضری کی ضرورت ہے۔ مدتوں میں کہیں جا کر کچھ کچھ علاج ہوتا ہے۔ مفصل جواب تو یہ ہے جو ہم نے لکھ دیا، اور مجملاً یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے قرآن مجید میں دل لگاؤ اور اس کا ترجمہ سمجھا کرو۔ اور اگر ہماری طرف دل کو کچھ محبت ہے تو ہمارے پاس اپنا حاضر ہونا خیال کیا کرو اور اپنے دل کو ہماری طرف متوجہ کیا کرو تا کہ اس کی وجہ سے شیطانی خیالات دل سے دور ہو جائیں۔ اول تو تم میں جہل ہے، اس کی تدبیر تو یہ ہے کہ علم پڑھو۔ اور دوسری بات تم اب کہتے ہو کہ خیالاتِ بد آتے ہیں۔ اس کی تدبیر یہ ہے کہ شیخ کی خدمت میں حاضر رہو۔ اب مختلف امراض کی ایک تدبیر تو نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ ابتدا ہی سے بُرے خیالات کا دور کرنا مناسب ہے تا کہ عادت نہ ہو جائے۔ مگر اس کا علاج پیر کی خدمت ہے، اور ہمارے نزدیک فقط پیر کا کچھ تحریر کر دینا یا کچھ اسم بتلا دینا ان باتوں کے واسطے مفید نہیں ہے، اور نہ طریقت کا کوئی مرتبہ اس سے حاصل ہوتا ہے۔ یعنی دور سے پیر کچھ بتا دیوے اور مرید دور سے بیٹھ کر کچھ کہہ دیوے، اس سے طریقت کا کوئی کمال حاصل نہیں ہو سکتا۔ آج کل کے پیروں کا اعتقاد جو ہم کو نہیں ہے۔ مثلاً مولوی اشرف علی تھانہ بھون کے (یعنی مولوی اشرف علی تھانوی)، اس کی وجہ یہی ہے کہ ان لوگوں نے اپنے پیر کی خدمت مدتِ مدید تک نہیں کی ہے۔ اور مدار دین کے کمالات کا اسی پر ہے کہ مدت تک اپنے پیر کی خدمت کرے اور بغیر مدّتِ مدید کے یہ مرتبہ حاصل نہیں ہو سکتا۔

من تو شدم تو من شدی، من تن شدم تو جاں شدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری

اور جب تک یہ مرتبہ اپنے پیرِ کامل کے ساتھ حاصل نہ ہو جائے تو شریعت کے ساتھ اور پیغمبرؐ کے ساتھ کیسے حاصل ہوگا، یعنی فنا فی الرسول کیسے ہو سکتا ہے۔ غرض تم نے لکھا تھا کہ کچھ دعا کر دیجئے یا کچھ اسم ہم کو بتا دیجئے۔ اس کا جواب یہ ہم نے لکھوا دیا۔ اور مولوی حافظ احمد صاحب جو ہماری خاطر سے تمہارا خیال رکھتے ہیں اور تمہاری ضروریات پوری کر دیتے ہیں، خداوند کریم ان کو جزائے خیر دے اور نیک کرے۔

اور تم نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام کی خدمت کے واسطے چندہ وغیرہ جمع کرے، کیا اس کو گداگروں میں شمار کیا جائے گا؟ یہ باتیں خاص تمہاری ذات سے تو متعلق نہیں ہیں۔ دوسروں کی باتیں ہم سے کیوں دریافت کرتے ہو؟ ہم کو اس قدر فرصت کہاں ہے؟ مگر مختصر یہ ہے کہ اِن اُمور کا مدار زیادہ تر نیت پر ہے۔ اگر نیت بخیر ہے اور مقصود رضائے خدائے تعالیٰ و خدمتِ دین ہے تو اِنشاء اللہ مُصِیب ہے۔ و اِلّا فَلَا

اپنے والد کی رضامندی اور ان کی مرضی کے موافق رہنا ہر حالت میں تم کو ضروری اور مقدم ہے۔ والسلام

تحریر سوم شعبان روز سہ شنبہ ۱۳۲۸ھ از کوئٹہ (۱۰ اگست ۱۹۱۰ء)

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *