مکتوبات شیخ محمد طاہر عباسی نقشبندی، مکتوب ۳ بنام بیدار مورائی

مکتوبات شریف حضرت مولانا شیخ محمد طاہر عباسی سندھی نقشبندی مجددی مدظلہ العالی، سجادہ نشین درگاہ اللہ آباد شریف، کنڈیارو، سندھ

مکتوب ۲: یہ مکتوب حضرت شیخ محمد طاہر عباسی نقشبندی مجددی المعروف سجن سائیں مدظلہ نے اپنے پیارے مرید و خلیفہ مولانا فتح محمد سومرو بیدار مورائی کی طرف صادر فرمایا۔

سن تحریر: 1994

حوالہ: ویبسائٹ جماعت اصلاح المسلمین، پاکستان

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:

حوالہ: ۲۷ ربیع الثانی ۱۴۱۵ھ

مؤرخہ: ۴ اکتوبر ۱۹۹۴ء

اخوی احبی ارشدی اعزی جناب بیدار مورائی صاحب زید مجدہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

خیریت طرفین نیک مطلوب من اللہ تعالیٰ

اس عاجز نے سمجھا تھا کہ ہمارے پیارے دوست بیدار صاحب نے ہم دور افتادہ، درماندہ، مہجور و مجبور کو بھلادیا ہے۔ ہر روز صبح شام یہ تشنہ آنکھیں راہ تکتی تھیں، نماز کی صفوں میں تلاش کرتی تھیں، شاید آج کا دن مبارک ثابت ہو، ملاقات ہوجائے، یا کوئی پیامبر پہنچ جائے، کوئی خیریت کی خبر مل جائے۔

الحمدللہ تعالیٰ آج مولانا غلام قادر صاحب نے آپ صاحبوں کا مبارک نامہ عطر شہامہ پہنچایا۔ آپ کی پریشانی کی خبر پڑھ کر ازحد افسوس ہوا کہ ایک دوست کی پریشانی سے بے خبر رہے۔ اپنی سستی پر ندامت ہوئی کہ کاش آپ کی اتنے دنوں کی غیر حاضری کے پس منظر کو سمجھتے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوجاتے۔ مگر افسوس کہ تکلفات اور مصروفیات نے گھیر لیا ہے کہ جن احباب کے پاس جاکر ملنا چاہتے ہیں، چار ساعتیں ان کی صحبت میں گذارنا چاہتے ہیں، وہاں پہنچ نہیں سکتے، بسا اوقات جہاں جانا نہیں چاہتے، پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات معاملہ اس عاجز کے اختیار سے بالکل باہر ہوتا ہے۔

بیدار صاحب! الحمدللہ گندم کی فصل کی رقم بالکل تازہ ملی ہے۔ جتنی رقم چاہیے واقف کریں تکلف بالکل نہ کریں۔ کیونکہ آپ ہمارے اپنے ہیں، بلکہ ہمارے گھر کے فرد ہیں۔ آقا و مولا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ “سلمان من اھلی۔” یہ الفاظ کتنے پیارے ہیں۔ بیشک حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا شیوا وفا تھی۔ یہ وصف آپ کے اندر بھی خوب ہے۔

اس کے علاوہ آپ کی قرض حسنہ والی رقم جب چاہیں لے سکتے ہیں۔ اس عاجز نے بروقت سیرت ولی کامل کے لئے رقم دے دی تھی، بعد میں ملی رقم بھی استعمال کی گئی ہے۔ البتہ آپ کو ادا کی جائے گی۔

افسوس ہے کہ آج لکھنے کے لئے دل چاہتا ہے لیکن قلم ساتھ نہیں دے رہا۔ بہت زور دینے سے لکھ رہا ہے۔

امید ہے کہ جلد ملاقات ہوگی۔ یہ عاجز اپنے متعلق کیا لکھے۔

اس شعر کا قافیہ حقیقت حال کے مطابق ہے:

؏ تقدیس کے پردے میں گنہگار بہت ہیں

والسلام

لاشئ فقیر محمد طاہر بخشی نقشبندی

یہ جوابی لفافہ بہت دنوں سے جواب کا منتظر تھا اور محفوظ تھا، آج آپ کے پاس آرہا ہے۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *