مکتوب سوہنا سائیں ۱۸۔ اصلاحی مکتوب بنام کرنل مشتاق احمد

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

وعظ و نصیحت پر مشتمل یہ پر تاثیر مکتوب حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے اپنے بھانجے کرنل مشتاق احمد صاحب کے نام تحریر فرمایا۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔

۷۸۶

بخدمت جناب عزیز القدر میاں مشتاق احمد صاحب سلمکم اللہ تعالیٰ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! یہ عاجز بفضل اللہ تبارک و تعالیٰ ہر طرح سے خوش باش ہے، امید ہے کہ آپ صاحبان بھی ہر طرح خوش و خرم ہوں گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو ظاہری و باطنی صحت و خیریت، کامل ہدایت اور اپنے حبیب پاک حضرت رسول اکرم تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل محبت، اطاعت اور پیروی کی توفیق عطا فرماوے، اور دین و دینا و آخرت کی عزت، ترقی و کامیابی نصیب فرماوے، آمین۔ بس یہی مدعا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ بلاناغہ ہر رات اس عاجز بدکار کی یہ درخواست و گذارش بارگاہ حضرت رب العالمین میں پیش ہوتی رہے گی۔

عزیزا! تم مجھ کو چاہو نہ چاہو، لیکن میں تم کو بہت ہی چاہتا ہوں اور آپ کے لئے بہت کچھ مانگتا ہوں، اور آپ کو بہت زیادہ ڈھونڈتا ہوں۔ لیکن آپ نے تو دوری اختیار کر رکھی ہے، نہ فقط مجھ جیسے ناکارہ ناکس سے بلکہ اپنے والدین سے اور اپنے حقیقی خالق و مالک سے، اپنے ہادی برحق حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے، اسلام سے قرآن سے۔

میرے پیارے میں آپ کے لئے اور آپ کے بھائیوں، رشتہ داروں کے لئے بہت ہی درد مند، مجروح دل، زخمی ہوں۔ آپ کیسے سنگ دل سخت آدمی ہیں کہ اس درد و زخم کا علاج ہی نہیں کرتے۔ اور یہ درد روز بروز بڑھ رہا ہے اور طبیعت بے چین ہے۔

میرے پیارے ایک درد نہیں ایک زخم نہیں، ایک فکر نہیں جو اس کا بیان یا شکایت کروں۔ بیت:

صدمات ہیں ہزاروں میں کیا کیا ذکر کروں
سجدہ کی شرح کھولوں یا ذکر رکوع کروں

اگر میں کچھ کہتا ہوں مزا الفت کا جاتا ہے
وگر خاموش رہتا ہوں کلیجہ منہ کو آتا ہے

بس یہی حالت ہے، آپ ہی بتائیں کہ کیا کروں، یہی دونوں بیت گزشتہ سال میں نے پنھوں خان کے نام بھی لکھے تھے جب وہ کنڈیارو میں تھا، درد دل کا کچھ بیان ان کے نام تحریر کیا تھا۔ لیکن وہ بڑا آفیسر، سیکریٹریٹ میں بڑے عہدے پر فائز، امیروں وزیروں کا ہم نشین اور یہ عاجز ایک ملا، لنبی داڑھی والا، غریب آدمی، نہ انگریزی بولی سیکھی نہ ہی اس میں لکھ سکتا ہوں، اس سے بڑھ کر یہ کہ خلاف مزاج بڑی بڑی باتیں کرتا ہوں، اللہ تبارک تعالیٰ اور حضرت سرور کائنات باعث کون و مکان تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن و اسلام کی باتیں۔۔۔۔ نہ اخباری دنیا کی باتیں، نہ ترانے نہ ڈرامے، نہ ہی عشقی افسانے، نہ امریکہ انگلینڈ اور روس جرمنی کی باتیں۔ آپ یہ کہیں گے کہ ماموں کو بڑا غصہ ہے کس قدر تیزی و تندی کا اظہار کیا ہے۔ میرے پیارے ایسا ہرگز نہیں، آپ نے اس عاجز کا کونسا نقصان کیا ہے، وہ اچھے آدمی ہیں، اس عاجز بدکار سے ہزار مرتبہ بہتر ہیں، میرا یہ کچھ لکھنا محض آپ کے غفلت کے پردے دور کرنے اور ایمانی جوہر ظاہر کرنے کے لئے ہے کہ حقیقی تمیز و شناس پیدا ہو کہ آدمی ہمارا ہم جنس، ہم وطن اور عہدیدار ہے، میرے پاس چل کر آیا ہے، اس کو بھیجا بھی ماموں نے ہے، ماموں والد کے قائم مقام ہے، اس کے دل کو ٹھیس پہنچے گی، نیز ماموں کو بھی ضرور بتائے گا اس کو بھی اذیت پہنچے گی۔ بس نہ کوئی خیال نہ ہی احساس ہے۔ عجب! عجب!! عجب!!! اس سے مزید عجب یہ کہ اس وقت نجم کے پاس آپ کے پیارے دوست بلکہ نصراللہ سے بھی بڑھ کر آپ کو پیارا بھائی شیخ صاحب بیٹھا ہوا تھا، اس نے تو تعجب سے اس عاجز کے نام یہ کہہ دیا کہ ابھی تک وہ ہم سے یہی امید رکھتا ہے کہ ہم بھی ملا بنیں گے۔

یہ عاجز بڑی محبت و پیار سے نجم کے نام خط لکھ رہا تھا کہ جلد ہی نجم کی مبارکباد مل گئی۔ بس ہماری پہنچ سے زیادہ اونچے آدمی ہیں، خاموشی اختیار کرلی۔ آپ کے نام بھی کافی عرصہ سے خط نہیں لکھا، خاموشی اختیار کرلی اس لئے کہ ہم آپ سے پہنچ نہ سکے، ہم غریبوں کی پہنچ سے اونچے ہیں۔ کئی سال بلکہ دراز مدت ۲۵۔۳۰ سال سے بھی زیادہ عرصہ آپ کے پیچھے پڑا لور لور کرتا رہا، جو قوت صرف کرسکتا تھا صرف کی، جو پیٹنا تھا پیٹتا رہا، لیکن آپ نے ایک نہ سنی، کوئی رحم نہیں کیا، ترس نہیں آیا، آپ طاقتور اور ہم ناتواں۔

البتہ اتنا ضرور ہوا کہ ہم نے بلا طمع اپنی حیثیت سے بھی بڑھ کر حق ادا کیا۔ آپ سے ایک پائی کا طمع بھی نہ رکھا، کسی قسم کا سوال طلب نہیں کیا، کسی قسم کی خدمت طلب نہیں کی گئی۔

اگر اتفاقًا کسی ضروری چیز کے لئے لکھا ہوگا تو وہ بھی آپ کے کہنے کے مطابق اور خاص اس ارادہ سے کہ رقم ادا کی جائے گی۔ یہ حقیقت اور سچی بات ہے، کبھی بھی دنیاوی لالچ طمع نہیں رکھی، ساتھ ہی خود ہر وقت خدمت کے لئے تیار رہا ہوگا اور خدمت کی ہوگی۔ دنیا میں کوئی ایسا خیرخواہ رشتہ دار دکھائیں؟ رشتہ دار کیا ایسے ماں باپ دکھائیں؟ آپ یہ کہیں گے کہ ماموں اپنی تعریف فخر کر رہا ہے۔ ہرگز نہیں، کبھی بھی نہیں۔ فخر و تکبر کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے، یہ عاجز ایک ضروری حقیقت آپ کے سمجھانے کے لئے عرض کر رہا ہے، اگر تعریف کر رہا ہے تو عاجز اپنی نہیں بلکہ اپنے مرشد رہبر سائیں کی تعریف کر رہا ہے، لیاقت اس عاجز کی نہیں ان کی ہے، یہ چیز اس مرشد روحانی مربی معلم سے اس عاجز کو ملی ہے، اگر اس کا تفصیلی بیان شروع کروں گا تو داستان طویل اور موضوع بدل جائے گا۔

میرے پیارے! جبکہ شیخ صاحب انجنیئر جیسے سینکڑوں آدمی دوست آپ کے بھائی، آپ کے رشتہ دار، آپ کے ہمدرد و خیرخواہ ہیں تو آپ کو ہم غریبوں مسکینوں، لمبے چوغے شلوار پہننے والوں، دستار باندھنے والوں، لمبی داڑھی رکھنے والوں کی کیا ضرورت ہے؟ اور ہم سادہ حال آدمی کب تک آپ کے ساتھ چل سکتے ہیں؟ اور آپ کو کیسے پسند آئیں گے؟ اس عاجز کو آپ خواہ نجم خواہ نصراللہ کے لئے یہی کوشش ہوتی ہے۔

انگریزی پڑھنا، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا، اعلیٰ عہدہ پر فائز ہونا، خواہ کمشنر، گورنر، فوجی کمانڈر وغیرہ بن جانا، انگلینڈ امریکا جانا، یہ عاجز ان چیزوں کا مخالف ہرگز نہیں۔ نہ ہی اسلام منع کرتا ہے۔ بیشک جس قدر ترقی کرسکتے ہو کرتے رہو، فائدہ و ضرورت کی چیزیں ہیں۔ بلکہ ثواب و عبادت میں ہیں اگر نیت خالص و درست ہے۔ اور فقط اس بات پر زور دیتا رہتا ہے کہ آپ حضرات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات، ارشادات اور احکامات پوری طرح بجا لائیں، سچے پکے مسلمان ہوکر رہیں، قرآن پاک اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کریں۔ اسی کا نام ہے اسلام اور یہی مسلمانی ہے۔ لیکن آپ کے شیخ صاحب اور آپ اس کو ملا ہونا کہتے اور پسند نہیں کرتے تو ہم بھی ہاتھ جوڑ لینے پر ہی اکتفا کریں گے۔

آپ کے لئے شیخ صاحب اور شیخ صاحب جیسے دوست بھائی، رشتہ دار، خیرخواہ و ہمدرد سلامت۔۔۔۔ اور ہم غریب ملاؤں کے لئے اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مرشد کامل کافی ہیں۔ ہم ملا آدمی تو آپ کو پسند نہیں آئے، میرے پیارے آج تو شناس و تمیز نہیں ہے قدر نہیں ہے، لیکن ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ ضرور پتہ چل جائے گا اور قدر و احساس پیدا ہوگا کہ کون خیرخواہ، دوست، سجن اور بھائی تھا۔ میرے پیارے! اللہ تعالیٰ سچا، اس کا کلام قرآن پاک سچا، اللہ تعالیٰ کا رسول سچا اور اس کی تعلیم سچی، اسلام سچا، اسلام کی جملہ تعلیمات سچی۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن پاک میں ارشاد ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تو بے پرواہی کرتا رہ، میں تیرے انتظار میں ہوں، تیرے گھات پر کھڑا ہوں، مر کر تو دیکھو۔ تجھ سے بڑھ کر ترقی یافتہ اقوام جنہوں نے دنیا میں کمال کر دکھایا، لیکن جب انہوں نے مجھ سے میرے احکام سے میرے رسولوں سے منہ موڑا تو پھر دیکھو ان سے کیا معاملہ ہوا۔

میرے پیارے! اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت اور احکام کی بجا آوری کے بغیر اور حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے بغیر نہ تو کوئی عزت ہے، نہ ترقی ہے، نہ بچاؤ ہے، نہ کامیابی ہے نہ نجات ہے۔ امریکا میں جاکر تعلیم بے شک حاصل کریں، کیپٹن، جرنل، کرنل، کمانڈر بے شک بنیں۔ لیکن اسلام، قرآن، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک سے غافل بے خبر، بے پرواہ، بے فرمان ہرگز نہ بنیں۔ اگر اس قسم کی صحیح سوچ نہ کی گئی تو مرنے کے بعد دائمًا ذلت، خواری اور عقوبت حاصل ہوگی۔ بلکہ وہ آدمی دنیا میں بھی ذلیل رہے گا، قرار و فرحت سے زندگی نہیں گزار سکے گا، زندگی تنگ گزارے گا، پریشانی دور نہیں ہوگی۔ اگر اس کے پاس دنیا نہ ہوگی تو بھی تکلیف میں مبتلا، اگر ہوگی پھر بھی تکلیف میں گرفتار۔ جس قدر زیادہ دنیا ہوگی اسی قدر بھوک میں اضافہ ہوگا، ظلم، لوٹ مار زیادہ کرے گا، ذہنی طور پر پریشان ہوگا، حرص و ہوس، حرام میں مبتلا۔۔۔۔ یہ داستان بھی بہت طویل ہے، اگر تمام باتیں تحریر کی جائیں گی تو ایک بڑی کتاب تیار ہوجائے گی۔

تو بچپن سے نیک دیندار تھا، تیرے اخلاق عمدہ تھے، تیرے والدین صالح دیندار۔ تیرے اوپر لازم ہے کہ پہلے کی طرح ہوجا۔ تونے کیوں اس قدر بے پرواہی اختیار کی ہے، تو خواہ یہ عاجز ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے، تیرے خواہ میرے والد ہاری کاشتکار، سادہ زندگی گزارنے والے۔ بس کچھ تعلیم حاصل کی، معمولی عہدہ مل گیا، اب اس قدر نشے میں مبتلا، اس قدر بے پرواہی اور مستی کہ تمام باتیں بھول گئے۔ نہ تو ماں باپ کا خیال احساس، نہ ہی اسلام، ایمان، قرآن پاک کی تعلیمات میں غور، نہ خدا تعالیٰ کا خوف، عظمت کبریائی کا خیال اور ہیبت یا فکر، نہ ہی حضرت رسول اکرم تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی واسطہ، تعلق، محبت؟ یہ کس قدر نہ ظلم عظیم ہے، بے دردی سے انصاف کا ناحق قتل ہے، اور یہ سارا ظلم اور نقصان بھی اپنے ہی لئے ہے۔ اپنی زندگی بھی برباد، اہل و عیال کی زندگی بھی تباہ۔۔۔۔ خدارا اپنے اوپر رحم کرو، اہل و عیال پر رحم کرو، ہمارے اوپر رحم کرو، بے انصاف و ظالم نہ بنو۔ تو یہ کہے گا کہ میں نے اس قدر تعلیم حاصل کی، سفر کئے، ملک و قوم کے لئے جاں افشانی کی، یہ سب کچھ رائیگاں گئے، ان کی کوئی قدر و قیمت ہی نہیں۔ اس کے جواب میں عرض یہ ہے کہ آپ کی مذکورہ تعلیم، سفر، سعی وغیرہ خواہ میری یا کسی اور کی کسی بھی قسم کی ایسی محنت، جس سے ملک و قوم کو فائدہ پہنچتا ہو، اگر اسی کو کافی سمجھا جاتا ہو کہ اس کے بعد اسلامی فرائض واجبات و دیگر احکام، اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا نہ کرنا برابر ہوجاتا ہو، ان کی کوئی خاص ضرورت تاکید باقی نہ رہے، ان پر عمل نہ کرنے سے کوئی گناہ لازم نہ آئے، دنیا و آخرت میں کسی قسم کی سزا نہ بتائی گئی ہو، فقط فوجی تعلیم، ڈاکٹری، انجنیئری وغیرہ وغیرہ پڑھی جائے جو کہ ملک و قوم کے لئے مفید و ضروری ہے، اس قسم کی کوئی دلیل قرآن پاک میں، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات میں، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کے زمانہ میں، خلافت راشدہ کے زمانہ میں بلکہ تیرہویں صدی میں ثابت ہو، ہرگز نہیں، کبھی بھی نہیں مل سکتی۔ بلکہ اسلام نے تو پیدائش کے دن سے لے کر وفات تک کی ہر ایک بات کی تعلیم دی، قانون مقرر کئے اور تاکید و تنبیہ سے سمجھایا۔

ہم اور آپ جمیع مسلمانوں کو قرآنی قانون کے ماتحت رہنا ہے، اور اسی میں نہ فقط ہمارا بلکہ جمیع مسلمانوں خواہ غیر مسلمانوں، جملہ جاندار خواہ غیر جاندار اشیاء کا فائدہ ہے۔ اسلام ایک با اصول سلامتی، فوائد و برکات کا خزینہ ہے، جس میں ہزاروں لاکھوں حکمتیں، برکتیں، نعمتیں، دینی دنیوی، اخلاقی، اخروی، قومی ترقی کے اسباب مضمر ہیں۔

آپ کو خصوصی طور پر یہ عاجز سمجھا کر ہدایت کرتا ہے کہ تو غفلت چھوڑ کر اپنا، اپنی اولاد و اہل کا بچاؤ کر، فائدہ حاصل کر۔ اپنے ساتھ خواہ ان کے ساتھ دشمنی نہ کر۔ اس عاجز نے تو آپ کو یہ کبھی نہیں کہا کہ ملازمت چھوڑ دے، لیکن تو یہ کہتا ہے کہ اگر میں ملازمت کروں گا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور احکام کی بجا آوری نہیں کرسکتا۔ تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اپنا ایمان بچانے کی خاطر ملازمت کو بھی خیرآباد کہہ دے۔ اللہ تعالیٰ رزاق و کارساز ہے، بس پیٹ گزارہ کے لئے تجارت یا کوئی اور معمولی ملازمت کرلے۔ آپ ہنسیں گے کہ ماموں کس قسم کا غلط مشورہ دے رہا ہے، لیکن یہ عاجز کہتا ہے تو ایک دن روئے گا کہ ماموں نے کیسی بہتر تجویز دی تھی، افسوس کہ میں نے ماموں کا کہا نہیں مانا۔ ماموں جبرًا ملازمت چھڑواتے تو بہتر تھا۔ آپ کہیں گے کہ میں اس قدر دور غیر ملک میں مسافر، بیوی بچوں سے دور، غیر لوگوں میں رہ رہا ہوں، ماموں دلجوئی، دلداری کی بجائے اور بھی میری طبیعت کو خراب اور مجھے پریشان کر رہا ہے۔

میرے پیارے! یہ حقیقت ہے۔ اس عاجز کی طبیعت پر بھی بوجھ بن رہا ہے، لیکن کیا کروں یہ پریشانی تھوڑی سی ہے، طبیعت برداشت کرلے گی، دراصل میں تیری دائمی پریشانی دور کر رہا ہوں اور پریشانی بھی ایسی کہ کل ہم اور آپ کسی صورت میں برداشت نہیں کرسکیں گے۔

اس موضوع پر یہ عاجز سینکڑوں قرآنی آیات پیش کرتا، لیکن تو خط پڑھ کر پھینک دے گا اور قرآن پاک کی بے ادبی سخت بڑا گناہ ہے۔ جو کچھ میں نے تحریر کیا ہے وہ قرآنی مضمون سے باہر نہیں ہے۔ تو یہ کہے گا کہ بتاؤ دینی و دنیوی اخروی بھلائی کس طرح حاصل ہوگی۔ پیارے! آؤ میں آپ کو پتہ بتا دیتا ہوں کہ تیری ملازمت بھی بحال رہے، دنیاوی عزت میں بھی اضافہ ہو، اس کے ساتھ الٰہی قانون کی پابندی بھی حاصل ہو۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *