مکتوب سوہنا سائیں ۱۶۔ شریعت مطہرہ اور ذمہ داری سے دینوی کام کرنے کے بیان میں

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

شریعت مطہرہ اور ذمہ داری سے دینوی کام کرنے کے موضوع پر اپنے بہنوئی میاں عبداللہ کے نام خانواہن تحریر فرمایا۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔

بخدمت جناب محترمی میاں عبداللہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! ہمارے یہاں ہر طرح خیریت ہے، تمام چھوٹے بڑے خیریت سے ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو ظاہری و باطنی صحت و عافیت اور سعادت دارین عطا فرمائے۔

عرض یہ کہ اس سے پہلے بھی خط لکھے گئے ہیں اور اب بھی یہی عرض ہے کہ اصل کام آخرت کے لئے توشہ و ثمر جمع کرنا ہے، اولین فرضی اور ضروری کام یہ سمجھیں اور دوسروں کو بھی تلقین کریں، آپ کے کہنے کے مطابق مشتاق احمد اور امان اللہ کے نام تاکیدی خط لکھے ہیں، لیکن اس سے بڑھ کر اثر کرنے والا خط ان کی والدہ کا فرمان ہے۔ کسی فراغت کے وقت نصراللہ کے نام بھی خط لکھا جائے گا، غلام مصطفیٰ خواہ دوسرے چھوٹے بڑے مرد خواہ مستورات کو دینی امور کے لئے ہوشیار رکھیں، غفلت ہر گز نہ کریں۔

امید ہے کہ گندم کا بیج ڈال دیا گیا ہوگا، اور زمین محنت سے تیار کرلی گئی ہوگی۔ نہروں کے بند ہو جانے سے پہلے دو مرتبہ پانی دینے کی کوشش کریں۔ حاجی خیر محمد صاحب آئے تھے انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں بعض گندم کی فصلیں سر سبز ہیں۔ اگر پانی کی ضرورت ہو تو ماسٹر اللہ آندو خان سے ملنا کہ اس نے مجھے کہا تھا کہ ایک پہر پانی ہم دے دیں گے، ان کو بتانا کہ ساڑھے چار پہر پانی تو سرکاری طور پر ہمارا حق بنتا ہے، آبدار سے پوچھ کر دیکھیں، آپ کے کہنے کے مطابق احسان کر کے ایک ڈیڑھ پہر پانی زیادہ دے دیں۔ امید ہے کہ آنے والے موقعہ پر آپ اور غلام مصطفیٰ ضرور آئیں گے۔ دیگر عرض کہ ماسٹر غلام حسین کو ایک روپیہ دے دینا کہ شیرو قادیانی کے بیٹے غلام قادر کو دیدے جو حضرت مرشد سائیں کے محبت والے غلام ہیں، اپنی پرانی بستی میں رہتے ہیں اور طب کا کام کرتے ہیں، پہلے درگاہ شریف پر جب آئے تھے ازخود اپنی تیار کردہ یاقوتی مجھے دیدی تھے کہ سردیوں میں بچوں کے لئے اچھی چیز ہے، ان کو ایک روپیہ دے کر اگر پہلے سے تیار یاقوتی ہو تو لے لیں، اگر تیار نہ ہو تو احتیاط سے بنا کر دے، موقعہ پر آپ آجائیں تو ساتھ لائیں، یا قاری غلام حسین صاحب والوں میں سے کوئی آنے والا ہو تو اس کے ہاتھ بھیج دیں۔ خاص تاکید یہ کہ ہاریوں کو بھی نماز ضرور پڑھائیں، لیکن کوشش، خلق اور پیار سے ان کو نمازی بنائیں، محبت کے ساتھ مسجد شریف لے جائیں، علی بخش کو بھی تاکید کریں کہ نماز پڑھتا رہے۔

واہ بھانڈی کے کام کی کوشش کرنا، آدم کے کام کا احوال بھی تحریر نہیں کیا تھا کہ اس نے کتنا کام کیا ہے۔ دونوں ٹکڑوں میں گندم بوئیں، چھوٹا ٹکڑا بھی نہ رہے کہ میاں علی حیدر شاہ نے اس کو ہل دیئے تھے۔ کھتری کو بھی کہنا کہ اگر اکثر یا ساری زمین تو آباد کرنا چاہتا ہے تو بیلوں کا بہتر جوڑا خرید لے اور بیل گاڑی بھی خرید لے کہ گنے کی زمین فارغ ہو گی، اس کو ہل دینے ہونگے۔

اتفاقاً اگر جلسہ میں آنا ہو تو احوال سے مطلع کریں، محمد طاہر اور اس کی ہمشیرہ اپنی پھوپھیوں کی خدمت میں آداب و تسلیمات عرض کر رہے ہیں۔

لاشی فقیر اللہ بخش غفاری

از درگاہ رحمت پور شریف

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *