مکتوب سوہنا سائیں ۱۵۔ ایک اصلاحی مکتوب بنام نجم عباسی

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

ایک شفیق والد کے انداز میں نہایت ہی شفقت و محبت بھرا یہ اصلاحی مکتوب آپ نے اپنے بھانجے ڈاکٹر نجم عباسی کے نام تحریر فرمایا۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔

بخدمت جناب ڈاکٹر نجم الدین صاحب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ و علیٰ من اتبع الہدی۔

عاجز کی طرف بفضل اللہ تبارک و تعالیٰ ہر طرح خیریت ہے، باری تعالیٰ کے لاکھوں احسانات ہیں۔ آپ کی اور آپ کے اہل و عیال کی عافیت، دینی و دینوی، اور اخروی بہتری، ترقی، کامیابی، نجات اللہ تعالیٰ کے درگاہ عالی جاہ میں مطلوب ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم اور آپ سبھی کو اپنی اور حضرت تاجدار مدینہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کامل محبت، اطاعت حقیقی صحیح پیروی، اسلامی عملی زندگی خدائی قانون کے مطابق نصیب فرماوے، آمین۔

آپ کہیں گے کہ ماموں نے شاید خوشامد کے یہ الفاظ تحریر کئے ہیں، لیکن یہ صحیح حقیقت ہے کہ یہ فریاد، التجا التماس، روزانہ بلا ناغہ آپ کے لئے، آپ کے والدین بھائیوں، اہلیہ اور اولاد کے لئے اور تیرے چچا زاد بھائیوں کے لئے اس حقیر پر تقصیر ناکس گنہگار کی ہوتی ہے ۔ آپ یاد کریں یا نہ کریں اس عاجز کو تو یاد ہیں، آپکو پرواہ ضرورت ہو نہ ہو، اس عاجز کو تو ضرورت ہے، ایسا دن، ایسا ہفتہ، ایسا مہینہ اور ایسا کوئی بھی سال نہیں گزرا ہوگا جو نجم یاد نہ ہو، اور اس کے لئے دل کو فکر غم اور پیار نہ ہو، دل کو اداس اور اکیر (تڑپ) نہ ہو۔ کیسے نہ ہو، جبکہ تو جگر کا ٹکڑا ہے، کیسے نہ ہو جبکہ صغر سنی کے زمانہ میں تیری پوری پرورش اور رہائش ہمارے گھر رہی اور یہ خدمت والدہ ماجدہ مرحومہ کے سپرد تھی۔

والدہ صاحبہ کی گود ہر وقت بلا پابندی اوقات ہمیشہ نجم کے لئے وقف تھی، نہ فقط دن بھر کی خدمت، بلکہ رات کو بار بار اٹھنا، تکالیف برداشت کرنا، الغرض کسی طرح والدہ مرحومہ کی آغوش سے نجم جدا نہ تھا، وہ والدہ جس کے بطن سے بچہ پیدا ہوا ہوتا ہے فطرتاً کبھی وہ بھی اس کے رنج و ناز سے تنگ ہوکر بار بار بچہ کو اپنے سے دور کرتی ہے، لیکن والدہ مرحومہ ہر بار خندہ پیشانی سے بڑے پیار سے نجم کو گلے لگاتی اور آغوش میں لے لیتی تھی۔

تیرے خورد و نوش کا ابتدائی زمانہ ہمارے گھر میں گزرا، یہ عاجز تو ایک ناکس کمترین بیکار ہے، کسی تعریف کے لائق نہیں، نہ ہی عاجز میں کسی قسم کی نیکی ہے، لیکن نجم خواہ اس کے بھائیوں سے میرا گہرا تعلق پیار رابطہ رہا وہ کسی صورت میں والد سے کم نہ تھا بلکہ زیادہ ہوگا بس یہ ایک طویل داستان ہے۔

ختم کن و السلام

لیکن آج زمانہ کی عجب رفتار، عجب وفا ہے، محبت کے وہ قصے، بچپن کے وہ ناول، قرب کی وہ کہانیاں، وفا سچائی کے وہ اسباق قلبی یادوں کی صلاحتیں دور حاضر کی گردش اور نئی روشنی کی ترقی نے یکسر بھلا دی ہیں، بیچارے شاعر اکبر مرحوم نے سچ کہا ہے۔

باپ ماں سے، شیخ سے، اللہ سے کیا ان کو کام
ڈاکٹر جنوا گئے تعلیم دی سرکار نے

یہی امید ہے کہ پیارا نجم ان میں سے نہیں ہوگا۔ یہی اکبر مرحوم کہتے ہیں

بوڑھوں کے ساتھ لوگ کہاں تک وفا کریں
لیکن نہ موت آئے تو بوڑھے بھی کیا کریں

دوبارہ پھر وہی قوم کے درد مند شاعر پکار کر وہی وجہ بتاتے ہیں کہ

رہ گئے نا آشنا احباب غائب ہو گئے
ہم میں تھے جو دو ایک باقی وہ بھی صاحب (آفیسر) ہو گئے

پیارے نجم نے تو آفیسری بھی چھوڑ دی ہے، وہ ان میں سے ہرگز نہیں ہوگا، البتہ غفلت و سستی تو ہر ایک سے ہوتی رہتی ہے۔

مذکورہ بالا تحریر سے غرض و مدعا فقط یہ ہے کہ غفلت و سستی دور ہوجائے، محبت کا جوہر و احساس پیدا ہو، جس قدر نئے دور کے نئے دوست پیارے معلوم ہوتے ہیں، ان سے تعلق و وفا ہے، رشتہ محبت ہے، زیادہ نہ سہی اتنا ہی، یا اس کے نصف، ثلث، ربع کے برابر ہی پرانے پیارے معلوم ہوں، اور ان سے رشتہ محبت و تعلق رکھا جائے۔ اور کوئی دنیاوی غرض تو ہے نہیں، امید ہے کہ ضرور احساس پیدا ہوگا اور سلسلہ خط و کتابت جاری رہے گا۔ اس عاجز کی چند روز کے لئے دعوت بہر صورت ضرور قبول کرکے کچھ دن صحبت میں آکر رہیں، جو گزرا سو گزرا مستقبل مضبوط رکھو۔

اس عاجز نے میاں علی محمد کے ہاتھوں آپ کے لئے کتاب اسلام اور عقیات دو حصے اور سائنس اور اسلام نامی ایک کتاب بھیجی تھی، امید ہے کہ ضرور ملی ہونگی۔ جو کہ عجیب و مدلل بدلائل عقلیہ ہیں، آج کل یورپ کے اثر کی وجہ سے نوجوان طبقہ کو جو اسلام کے خلاف خطرات و خیالات در پیش ہیں، ان کے حل و صفائی کے لئے بالکل کافی و شافی ہیں، بوقت فراغت دل سے غور کر کے پڑھنا۔ ان کے علاوہ بھی کافی خرچہ کرکے آپ کے لئے کتابیں خریدی ہیں، قرآن مجید کی تفسیر انگریزی زبان میں نصراللہ اور مشتاق احمد دونوں کے لئے علیحدہ علیحدہ خریدی ہیں، نیز اور بھی کافی کتابیں، مولانا عبدالماجد دریا آبادی جو بڑا فیلسوف ماہر آدمی ہے انگریزی میں اس کی تفسیر تاج کمپنی کی مطبوعہ ہے، اگر آپ کے پاس موجود ہے یا خود خریدیں ورنہ یہ عاجز خرید کرکے بھیج دے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ روزانہ کسی قدر تھوڑا بہت پڑھیں گے ضرور، اس کے علاوہ کچھ اور کتابیں بھی خریدنے کا شوق ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ کتابیں پڑھنے کے شوقین ہیں، لیکن اس شرط کے ساتھ اور اس عاجز کی طرف سے آپ کے ذمہ یہ فرضی کام ہوگا کہ جو کتابیں بھیجی جائیں ابتداء سے انتہا تک غور سے پڑھیں گے، اگر آپ بھی کتابیں بھیجیں گے تو انشاللہ تعالیٰ یہ عاجز بھی پڑھے گا۔

عزیز من! موجودہ دور میں بہت سے جدید مذاہب کے پیرو ظاہر ہو رہے ہیں، اور کچھ اس قسم کی مخفی تحریکیں مذہبی رنگ و نمونہ میں یورپ کی پیدا کردہ اسلام کے مخالف اسلام میں رخنہ ڈالنے، نقصان کرنے کے لئے مذہبی جماعت کی صورت میں کام کر رہی ہیں۔ یہ کوئی نئی بات بھی نہیں، ہم اور آپ چھوٹے ہیں، آپ کو پتہ نہیں کہ ترکی سے حجاز، عراق، اردن، شام وغیرہ کے علاقے اور وہاں کے باشندے کس طرح جدا ہو گئے، کس طرح پروپیگنڈہ کے زہریلے ذریعہ سے بدظنی پھیلا کر انکو علیحدگی تک پہنچا دیا۔ (لارنس آف عریبیہ) یا کوئی اور نام کا مکار و چالاک انگریز تھا جس نے یہ کچھ کرایا، افغانستان میں امان اللہ خان کے زمانہ میں کس طرح بغاوت کرائی گئی؟ یہ کس کی پیدا کردہ بغاوت تھی جس نے آج پھر افغانستان میں روس سے اسلام کے خلاف مسلمانوں کے خلاف طوفان برپا کر دیا ہے؟

مصر و اسرائیل کے مابین کشیدگی کس نے بپا کی؟ اسرائیل کو کس کی امداد و ہمدردی حاصل ہے؟ الجزائر پر برسوں سے ڈھائے جانے والے مظالم اب بھی جاری ہیں، ہلاکتوں اور مصیبتوں کے طوفان، اس قسم کی آندھیاں زور و شور سے جاری ہیں ان کے مناسب مطالبات اور حقوق نہیں تسلیم کئے جاتے۔ آخر یہ کس کے مظالم کی داستان ہے۔ مذکورہ تمام مصائب و مظالم ہزارہا افراد کا قتل و خونریزی محض اسلام کے لئے نہیں تو اور کس لئے ہیں؟ محض ان کے مسلمان ہونے ، مذہب اسلام رکھنے کی وجہ سے یہ مظالم یورپ والوں نے نہیں کئے تو اور کس نے کئے؟ فقط فرانس و سپین نہیں، امریکہ، برطانیہ تمام کی یہ سازش اور ایک دوسرے سے ہمدردی اور رضا ہے، ورنہ امریکہ اور برطانیہ سچ کیوں نہیں کہتے؟ مظلوموں سے ہمدردی کیوں نہیں کر رہے؟ یہ مانا کہ امریکہ کی پاکستان سے ہمدردی ہے اس کی مدد بھی کرتا ہے لیکن پاکستان کے لئے نہیں، اپنی ذات اور بقاء کے لئے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں عملاً امریکی جنگی اڈے موجود ہیں۔ یہ کس لئے ہیں، روس کے مقابلہ کے لئے کہ درمیان فقط افغانستان واقع ہے، امریکہ نے یہ عقلمندی اس لئے اپنائی کہ اگر جنگ کی آگ بھڑک اٹھے تو یہی ملک تباہ ہو جائے۔ قوم نصاریٰ، حکومت نصاریٰ شروع سے ہی اسلام، اسلامی حکومتوں اور مسلمانوں کے دشمن ہیں، یہ کوئی آج کی نئی بات نہیں ہے تاریخ کے اوراق کھول کر دیکھو! افسوس کہ موجودہ زمانے کے مسلمان بھی اسلام کی اصلیت، حقیقت، قرآن پاک، اللہ تعالیٰ اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات و فرمودات کو ناقص، کہنہ، ناقابل عمل قدیم کہتے اور مخالفت کرتے ہیں، اپنے ہی مذہب کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شریفہ کا صاف انکار کرتے ہیں، کسی مذہب والے نے اپنے نبی کے سلسلہ میں ایسا نہیں کیا، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے جان نثار اصحاب رضی اللہ عنہم نے تو نبی پاک، اسلام، قرآن پاک اور ان کے نشرواشاعت اور تبلیغ میں اپنا تن من دھن، جان، مال،گھر بار کنبہ ملکیت، سب کچھ قربان کر دکھایا، اپنی زندگی جوانی اور صحت کو اسلام کے لئے وقف کر دیا۔

آج ہم چودھویں صدی کے مسلمان، یورپ کے پرورش یافتہ کا یہ حال ہے کہ جن لوگوں کی مدح قرآن میں موجود ہے ان پر اعتراض، ان کا انکار، ان پر تنقید و تنکیر کہ سرمایہ داری کے حامی تھے سرمایہ دار ہو کر رہے وغیرہ۔ شیعوں کو چھوڑ دیں فقط وہی نہیں، نئی روشنی والے جو اپنے ملک و قوم کی ترقی کے خواہاں ہونے کے دعویدار ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی دارالعلوم اور مدارس، درسگاہیں جہاں قرآن پاک ،حدیث شریف اور دیگر اسلامی تعلیمات دی جاتی ہیں ان کو بند کردیا جائے۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *