مکتوب شیخ عثمان دامانی ۴۔ فضول چیزوں سے پرہیز اور لوگوں کے ساتھ حسبِ ضرورت میل جول رکھنا

مکتوب شریف حضرت شیخ محمد عثمان دامانی نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۱۳۱۴ھ)، خانقاہ احمدیہ سعیدیہ موسیٰ زئی شریف، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان

مکتوب ۴۔ یہ مکتوب آپ نے اپنے مرید و خلیفہ جناب مولانا مولوی محمود شیرازی صاحب کے نام تحریر فرمایا۔

موضوع: فضول چیزوں سے پرہیز اور لوگوں کے ساتھ حسبِ ضرورت میل جول رکھنے کے بارے میں

حوالہ: تحفۂ زاہدیہ، مکتوبات خواجہ محمد عثمان دامانی و خواجہ سراج الدین، زوار اکیڈمی پبلی کیشنز، کراچی، طبع دوم ۲۰۰۰

فارسی سے اردو ترجمہ: صوفی محمد احمد نقشبندی مجددی زواری

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ و سلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ

مخدومی و مکرمی جناب مولوی محمود شیرازی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ فقیر حقیر لاشئ عثمان عُفِیَ عَنہُ کی طرف سے بعد تسلیم و تکریم معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سب خیریت ہے۔ نیز دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی جمیع حوادث سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ اور شریعت پر پوری پوری استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔

آپ نے ناموافق حالات اور زمانے کے اختلاف کی بنا پر جو اپنے باطنی حالات لکھے ہیں، تو اس بارے میں عزیزِ من عرض یہ ہے کہ داستانِ عشق کی کوئی حد نہیں۔ آپ نے مفصل جواب دینے کیلئے کہا ہے، لیکن بوجہ بخار ایسا کرنے سے قاصر ہوں۔ عقلمند کے لئے اشارہ کافی ہے۔ تھوڑے کو زیادہ سمجھیں۔ آجکل کے حالات اور زمانے کے مطابق اللہ تعالیٰ جلّ شانہٗ پیرانِ کبار علیہم الرضوان کی برکت سے سچے اعتقاد رکھنے والے مرید پر اس کی صلاحیت کے موافق فیض کا القاء کرتا ہے۔ شیطان لعین اور نفسِ امّارہ دونوں کے دونوں انسان کے قوی دشمن ہیں جو ہر وقت ساتھ لگے رہتے ہیں۔ حالانکہ ایسے سالک پر جو مرید صادق ہو ان کا کوئی بس نہیں چلتا۔ یہ بھی معلوم ہو کہ امامِ ربّانی مجدد الفِ ثانی کے طریقے میں آخری مقامات میں نکارت و جہالت لازمی پیش آتی ہے، یعنی کوئی کیفیت محسوس نہیں ہوتی۔ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے خود بھی فرمایا ہے کہ اس طریقے میں صحو خالص عوام کی قسمت میں ہے اور بے خودی مجنوں و دیوانوں کے لئے، اور ان دونوں کے مابین کا معاملہ خاص کاملوں کے لئے ہے۔

الحمد للہ اس جلّ شانہٗ نے آپ کو اس قسم کے حالات سے سرفراز فرمایا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اپنے قیمتی اوقات کو حتی الوسع اس کے ذکر و فکر میں گزاریں۔ حدیث شریف کے پیش نظر اور پیران کبار علیہم الرضوان کے حالات کے موافق اس زمانے کے لوگوں کے ساتھ حسبِ ضرورت میل جول رکھیں۔ باقی فضول چیزوں کی طرف کوئی التفات نہ کریں۔ شیخ عبداللہ یافعی مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالے میں لکھا ہے کہ

”اولیاء کا فیض ہر چیز پر برستا ہے، چاہے وہ چیز فیض قبول کرنے کی استعداد رکھتی ہو یا نہیں۔“

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *