مکتوب خواجہ سراج الدین ۴۹۔ مرید ہونے کے مقصد اور بیعت کے مروج طریقے کے بارے میں

مکتوب شریف حضرت شیخ محمد سراج الدین دامانی نقشبندی مجددی (م 1333ھ)، سجادہ نشین خانقاہ احمدیہ سعیدیہ موسیٰ زئی شریف، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان

یہ مکتوب آپ نے مولوی سراج الدین صاحب کے نام تحریر فرمایا، مرید ہونے کے مقصد اور بیعت کے مروج طریقے کے بارے میں

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: صوفی محمد احمد نقشبندی زواری

حوالہ: تحفۂ زاہدیہ، مکتوبات خواجہ محمد عثمان دامانی و خواجہ سراج الدین، زوار اکیڈمی پبلی کیشنز، کراچی، طبع دوم ۲۰۰۰

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:

محبت و اخلاص نشان مولوی سراج الدین مثبۃ اللہ تعالیٰ علی الصدق والیقین۔ فقیر حقیر لاشئ محمد سراج الدین کی طرف سے تسلیمات و دعواتِ مسنونہ کے بعد معلوم ہو کہ الحمد للہ فقیر کے احوال حمد کے لائق ہیں۔ درگاہِ رب العزت سے جادۂ شریعت صاحبہا من الصلٰوۃ والتحیات پر آپ کی استقامت چاہتا ہوں۔

آپ کا محبت نامہ موصول ہو کر کاشفِ احوال ہوا اور زیادہ سے زیادہ دعوات کا موجب بنا۔ آپ نے چند سوالات کے جوابات طلب فرمائے ہیں ان سے مطلع ہوا۔ عزیزم اس قسم کے شبہات پیدا ہونے کا ایک سبب تو تصوف کی کتابوں سے ناواقفیت ہے، دوسرا سبب فتنہ ہے (یعنی فتنۂ وہابیہ)۔ اگر یہ شبہات کرنے والے لوگ صوفیائے متقدمین کی کتابوں مثلاً قوت القلوب اور احیاء العلوم وغیرہ اور متاخرین کی کتب مثلاً مکتوبات امام ربانی اور ان کی دیگر کتب کا مطالعہ کریں تو پھر اس قسم کے شبہات پیدا ہونے کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن چونکہ آپ نے جوابات طلب فرمائے ہیں اس لئے جواب تحریر کر رہا ہوں۔

سوال: مرید ہونے سے اصل مقصود کیا ہے؟

جواب: مرید ہونے سے اصل مقصود طلبِ طریقت ہے اور طلبِ طریقت واجب ہے۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد الطالبین میں فرمایا ہے:

”جاننا چاہئے کہ طلبِ طریقت اور کمالاتِ باطنیہ کی تحصیل میں کوشش کرنا واجب ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے فرمایا ہے:“

”اے مسلمانو اللہ کا پورا پورا تقویٰ اختیار کرو۔“

پس یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ کمالِ تقویٰ حاصل کرنا ضروری ہے اور ولایت کے بغیر کمالِ تقویٰ حاصل نہیں ہو سکتا۔ پس معلوم ہوا کہ یہ ولایت کا حکم ہے اور امر مطلق وجوب کے لئے ہوتا ہے۔ پس تحصیلِ ولایت واجب ہوئی اور جب حصولِ ولایت بشر کے اختیار و وسعت میں نہیں بلکہ یہ امر وھبی ہے اور تکلیف مالا یطاق غیر واقع ہے، جیسا کہ خداوند کریم نے فرمایا ہے

لا يكلّف الله نفسًا الّا وسعها

یعنی ”اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا“۔ نیز

اتقوا الله ما استطعتم

یعنی استطاعت کے مطابق تقویٰ اختیار کرو۔

پس معلوم ہوا کہ تحصیل ولایت تو واجب نہیں بلکہ ولایت کی طلب واجب ہے۔ جاننا چاہئے کہ ولایت کے بہت سے مراتب ہیں جو شمار میں نہیں آ سکتے۔ جب ان مراتب میں سے ایک مرتبہ حاصل ہو جاتا ہے تو گزشتہ شۓ کے ساتھ نسبت کامل ہو جاتی ہے، اور جب پہلے مرتبے سے اوپر والا مرتبہ حاصل ہو جاتا ہے تو پہلے کے مقابلے میں تقویٰ کامل ہو جاتا ہے۔ اور جب کسی کو تقوے کا ایک مرتبہ حاصل ہو جاتا ہے اور دوسرے کو اس مرتبے سے اوپر والا مرتبہ حاصل ہو جاتا ہے تو وہ مرد اس سے بھی کامل ہو جاتا ہے۔ صحابہ کو حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں تم سے اعلم باللہ اور اتقی باللہ ہوں۔“ پس تقویٰ کی کوئی محصور فی الکمال حد نہیں۔ لیکن تقویٰ اختیار کرنا واجب ہے، کیونکہ خداوند کریم نے فرمایا ہے ”حق تقاتهٖ“ پس اس واسطے ہم طلبِ ولایت کی ایجابی کے درپے ہوئے تا کہ نص مذکورہ بقدر امکان معمول بن جائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ اگر ایسا ہی ہے تو سارے فرائض نوافل ہی ہو جائیں، کیونکہ کمال تقویٰ ادائے سنن اور واجبات سے ہو سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہےکہ تقویٰ وقایہ سے مشتق ہے اور وقایہ اسے کہتے ہیں کہ ترک واہیات اور اللہ تعالیٰ کی منہیات سے پرہیز ہو۔ پس نوافل کے بجا لانے کا تقویٰ میں دخل نہیں بلکہ وہ تو مرد میں ایک فضیلت ہے۔ جو شخص اقرب الی اللہ ہوتا ہے وہ اوروں کے مقابلہ میں زیادہ متقی ہوتا ہے۔ کیوں نہ ہو جب کہ اللہ کے عام منہیات مثلاً کبر، حسد، جزع، غضب، ریا، اظہار منت وغیرہ نفس کے رذائل ولایت کی بدولت زائل ہو جاتے ہیں۔ ولایت کے بغیر ان کا زائل ہونا مشکل ہے۔ نوافل کے پڑھنے سے ولایت حاصل نہیں ہوتی بلکہ فرائض کی تکمیل سے کلی طور سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ولایت کی بدولت ہر فرض کا اجر کئی گنا ہو جاتا ہے بلکہ یوں کہئے کہ ولایت کے بغیر تو حصول ثواب کی صلاحیت نہیں رکھتے جب تک کہ انسان کو ریا، سمعہ، اور اظہار منہ جیسے محارم الیہ سے خلاصی نصیب نہ ہو جائے۔

حضرت امام مسلم نے اپنی صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے۔

”سب سے پہلا شخص وہ مرد ہو گا جو شہید ہوا تھا۔ اس کو پیش کیا جائے گا اور قیامت کے روز اس کا فیصلہ ہو گا۔ خداوند تعالیٰ اس پر احسانات کا اظہار فرمائیں گے، تو وہ جواب میں کہے گا میں نے یہ کام کیا میں نے وہ کام کیا اور میں تیرے راستے میں شہید ہوا۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو جھوٹ کہتا ہے، تو میرے لئے شہید نہیں ہوا بلکہ اس واسطے شہید ہوا تا کہ لوگ تجھے بہادر کہیں۔“

یہ باطنی بیماریاں بغیر قرب کے حاصل نہیں ہوتیں۔ پس تحصیل قرب کے واسطے کوشش کرنا واجب ہے۔ اور قرب کسی ایک مرتبہ پر جا کر ختم نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہر ایک قرب پر دوسرا قرب ہے، اس کی کوئی حد نہیں۔ ناقص پر واجب ہے کہ وہ ہمیشہ کوشش کرتا رہے تا کہ اسے کمالات حاصل ہو جائیں، اور کامل پر اس مرتبے کو حاصل کرنے کی کوشش واجب ہے جو پہلے مرتبہ سے بدرجہا بہتر ہو۔ اسی واسطے حضور صلّی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے تھے: ”ربّ زدنی علمًا“ اور اسی واسطے آنحضورﷺ نے اپنی امت کے لئے آپﷺ پر درود و سلام بھیجنا واجب فرمایا ہے، اور یہ اسی طرح قیامت تک جاری رہے گا۔ پس قناعت مراتب قرب کے لحاظ سے ناقص اور کامل دونوں پر حرام ہے۔ اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو اور آپؐ کے اصحاب کو کمال تقویٰ کا حکم فرمایا ہے۔ حالانکہ وہ تقویٰ میں کامل و اکمل تھے، جیسا کہ خداوند تعالیٰ نے فرمایا ہے:

”يا ايّها الّذين اٰمنوا اتقوا الله حق تقاتهٖ“

جنابِ من! حضرت قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس بارے میں اور بھی دلائل بیان فرمائے ہیں۔ اگر آپ کو اور زیادہ دلائل کی ضرورت ہو تو پھر کتاب ارشاد الطالبین کا مطالعہ فرمائیں۔

نیز آپ نے کتاب بہجۃ السنۃ میں امام عبدالوہاب شعرانی سے نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اہلِ طریقت کا اس بات پر اجماع ہے کہ انسان کے لئے واجب ہے کہ وہ ایسے شیخ کو پکڑے جو ایسی صفات کے زوال کی تلقین کرے جو اس کو اللہ تعالیٰ کے حضور میں جانے سے روکیں تا کہ اس کی نماز درست ہو۔

ما لا يتم الواجب الا به فهو واجب

کے باب سے ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ باطنی امراض دنیا کی محبت، کبر، فخر، ریا، حسد، بغض، کینہ، دھوکہ، نفاق وغیرہ کا علاج واجب ہے، جبکہ احادیث میں ان کی تحریم آئی ہے۔ پس اس نتیجے پر پہنچے کہ جس نے ان صفاتِ رذیلہ کو زائل کرنے کے لئے کوئی شخص نہ پکڑا تو وہ اللہ اور اس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کا گنہگار ہوا۔ کیونکہ حکیم حاذق یعنی شیخ کے بغیر ان باطنی بیماریوں کا علاج نہیں ہو سکتا، اگرچہ وہ علم کی ہزار کتابیں بھی کیوں نہ حفظ کر لے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی نے طب کی کوئی کتاب حفظ کر لی۔ ظاہر میں تو دیکھنے والے اس کو یہ سمجھیں گے کہ بہت بڑا طبیب ہے، لیکن جب کوئی اس سے مرض کی تشخیص اور اس کے ازالے کے لئے دوا کی تجویز کے متعلق کیفیت دریافت کرے گا اور وہ کچھ نہ بتا سکے تو سوال کرنے والا یہ ضرور کہے گا کہ یہ تو بالکل کورا ہے، اس سے زیادہ تو کوئی جاہل ہی نہیں۔

پس اے بھائی جان آپ شیخ ضرور پکڑیں اور میری نصیحت ضرور قبول کریں۔ آپ کو یہ ہرگز نہیں کہنا چاہئے کہ صوفیہ کرام کا طریقہ تو ایسا ہے جو کتاب اللہ اور حدیث سے ثابت نہیں۔ آپ کا یہ کہنا کفر ہے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ طریقۂ صوفیہ تو سارے کا سارا اخلاقِ محمدیہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ہے۔

سوال: کیا مرید ہونے کا یہ طریقہ جو لوگوں میں مروج ہے منصوص ہے یا اجتہادی؟ اور کیا یہ طریقہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے یا کچھ تغیر و تبدل اس میں واقع ہے؟

جواب: بیعت کا طریقہ منصوص ہے۔ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب نے قول الجمیل میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”اے محمد (صلّی اللہ علیہ وسلم) جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں، اللہ کا دستِ قدرت ان کے ہاتھوں پر ہے۔ سو جو عہد شکنی کرتا ہے وہ اپنی ذات کے نقصان کے لئے کرتا ہے۔“

اور احادیثِ مشہورہ میں منقول ہے کہ لوگ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے کبھی ہجرت اور جہاد کے لئے، کبھی ارکانِ اسلام یعنی صوم و صلٰوۃ، حج، زکٰوۃ پر اقامت کے لئے اور کبھی معرکۂ کفار میں ثابت قدم رہنے کے لئے، کبھی سنتِ نبوی ﷺ کے تمسک اور بدعت سے بچنے کے لئے اور کبھی عبادت پر حریص اور شائق ہونے کے لئے۔ چنانچہ بروایت صحیح ثابت ہوا ہے کہ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے انصاری عورتوں سے نوحہ نہ کرنے پر بیعت لی۔ اور ابن ماجہ نے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے چند محتاج مہاجروں سے اس بات پر بیعت لی ہے کہ وہ لوگوں سے سوال نہ کریں گے۔ سو ان میں سے لوگوں کا یہ حال تھا کہ اگر کسی شخص کا کوڑا گر جاتا تھا تو اپنے گھوڑے سے اتر کر خود اس کو اٹھا لیتا تھا اور کسی دوسرے سے کوڑا اُٹھا کر دینے کا سوال نہ کرتا تھا۔

بعض نے یہ گمان کیا ہے کہ بیعت قبولِ خلافت اور سلطنت پر منحصر ہے اور صوفیوں میں بیعت لینے کا جو رواج ہے وہ شرعاً کچھ نہیں۔ یہ مخالفین کا گمان فاسد ہے۔ اس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے کہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کبھی اقامتِ ارکانِ اسلام پر اور کبھی تمسکِ سنت پر بیعت لیتے تھے۔ اور صحیح بخاری اس پر گواہی دے رہی ہے کہ رسول کریم صلّی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے اس شرط پر بیعت لی کہ خیر خواہی ہر مسلمان پر لازم ہے۔ اور حضور ﷺ نے قوم انصار سے بیعت لی اور یہ شرط کی کہ خدا کے احکام میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے اور حق بات بولیں گے۔ سو ان میں سے بعض لوگ امراء و سلاطین کے سامنے کھل کر بلا خوف رد و انکار کرتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے امور میں حدیث شریف سے ثبوتِ بیعت ملتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

فقیر حقیر لاشئ محمد سراج الدین عفی عنہ

تعليق واحد على

اترك رداً على Riaz إلغاء الرد

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *