مکتوب سوہنا سائیں ۱۴: خانواہن کے فقراء بالخصوص اپنے اعزہ و اقارب کی اصلاح کے لئے جامع نصیحت نامہ

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

اس کا ابتدائی حصہ نہیں مل سکا۔ یہ مکتوب حضرت سوہنا سائیں نے خانواہن کے فقراء بالخصوص اپنے اعزہ و اقارب کی اصلاح کے لئے جامع نصیحت نامہ ارسال فرمایا، دستیاب حصہ درج ذیل ہے۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔

آپ کے قیام سے اہلیان خانواہن میں دینی شوق، اسلامی جذبہ، خدائی فرائض کی ادائیگی، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، تابعداری، پیروی، خدا والوں سے محبت اور عقیدت ہونی چاہیے، اگر آپ کو ان سے محبت و ہمدردی ہے تو ان سے اس طرح خیر خواہی کریں کہ ان میں عملی طاقت پیدا ہو، ان کو درگاہ پر لانے کی کوشش کریں، اس لئے کہ جب یہ خدا والوں سے محبت، عقیدت، اخلاص رابطہ رکھیں گے تب ان کی اصلاح ہوگی اور اسلام کا جذبہ پیدا ہوگا، یہ حقیقت سمجھا کر ان کے ذہن نشین کر دیں۔

میاں غلام مصطفیٰ کو دعوت دی گئی تھی لیکن افسوس کہ نہیں آیا، ان کو تاکید کریں کہ آئندہ موقعہ پر ضرور بالضرور آجائیں، خاص تاکید! میاں غلام مصطفیٰ باسمجھ ہے، اس کا مزاج عمدہ اور اپنے گھر ہی نہیں خانواہن میں موجود افراد کے یہی سربراہ ہیں، حاجی صاحب مرحوم کے نائب یہی ہیں، اسلئے آپ ان سے گہرا رابطہ اور تعلق رکھیں، اور اس میں دینی اسلامی جوہر پیدا کریں۔

اسلامی ذہن رکھنے والے افراد سے ان کی دوستی محبت ہونی چاہیے، صحیح اور سچے طریقہ سے اسلامی زندگی بسر کریں، آج تک آپ اس کو درگاہ شریف پر نہیں لائے، یہ آپ کا قصور ہے، شاید آپ نے پوری کوشش نہیں کی، اس موقعہ پر ان کو ضرور ساتھ لائیں۔ میاں غلام مصطفیٰ نماز با جماعت پڑھتے رہیں، فقراء کے ساتھ ذکر مراقبہ میں بھی ضرور شامل ہوں کہ یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ شبیر احمد کو بھی نماز کے لئے ساتھ لے جائیں وہ بھی حلقہ مراقبہ میں شامل رہے، درگاہ شریف پر بھی اس کو ساتھ لے آنا، اس بار قاضی محمد اشرف صاحب کے ساتھ 12۔13 طلبہ بھی درگاہ شریف پر آئے تھے، شبیر احمد ان کے ساتھ کیوں نہیں آیا؟ میاں عبدالرحمان، علی نواز اور آچر کو تاکید کریں کہ تمام اوقات نماز با جماعت ادا کریں، دیکھو دوسرے پڑوسی نماز ادا کرتے ہیں یہ بھی ہرگز سستی نہ کریں، ہاریوں کو بھی نماز کے لئے تاکید کریں، للہ فی للہ ان سے دوستی، محبت رکھیں، خیر خواہی کرتے ہوئے مسجد شریف لے جائیں جس حال میں ہوں نماز ادا کرتے رہیں، ان کو نماز سکھائیں، خواہ ایک ایک کلمہ یاد کر سکیں، بہر صورت کوشش کریں۔

والدین اولاد کے حاکم ہوتے ہیں، اولاد کے لئے ماں باپ کا حکم ماننا ضروری ہے، خاص کر نصراللہ جیسا شریف، سمجھدار، دانا فرزند والدہ کا کہنا نہ مانے؟ شاید ان کو اس طرح نہیں کہا گیا جس طرح چاہیے تھا، رعایت کی گئی، ورنہ والدہ صاحبہ، نصراللہ کو حکم کرے، تاکید کرے، تنبیہ کرے اور نصراللہ جیسا ہر دلعزیز، معزز لائق فرزند سستی، غفلت اور بے پرواہی کرے، یہ ہرگز نہیں ہوسکتا، ہمشیرہ صاحبہ پر ان کا حق ہے، ان سے پوری طرح خیر خواہی ہمدردی کریں، اگر ایسے نہ سمجھیں تو بالآخر ان سے جھگڑیں ڈنڈا لیکر بھی اولاد کو سمجھائیں کہ خبردار اگر آئندہ تو نے اللہ تبارک و تعالیٰ اور حضرت رسول سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذرہ بھر نافرمانی کی تو یہ بات کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ نصراللہ انتہائی لائق بالکل شریف قسم کا آدمی ہے، والدہ کو ناراض کرنا، بے فرمانی کرنا کبھی روا نہیں رکھ سکتا۔

اگر اولاد سے سچی محبت ہے تو یہ وقت ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے فرمانی اور ناراض ہونے سے بچائیں۔ آفیسر حضرات کو ہر طرح سے راضی رکھتے ہیں، باقی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی تعمیل کرکے انکو راضی نہ کیا جائے؟ یہ عاجز جانتا ہے کہ اگر آپ نے نصراللہ کی پوری طرح اصلاح کرلی تو غلام مصطفیٰ بھی دیر نہیں کرے گا، وہ بھی نصرللہ کی طرف دیکھ رہا ہے، نصراللہ کے اوپر بھی اولاد کا حق ہے، نعیم الدین کو بچپن ہی سے انگریزی پڑھانا شروع کیا ہے۔ بیشک اس کو انگریزی تعلیم بھی دلائیں لیکن ساتھ ہی اس کو دینی تعلیم بھی دلائیں، دین سے واقف کریں، دنیا کی محدود و مختصر بے بقا ترقی کے لئے اس غریب، معصوم بچہ کا دین و دنیا و آخرت خراب نہ کریں، بلکہ اس پر رحم کریں۔ نعیم خواہ دیگر اولاد کا حاجی صاحب کے اوپر ہی حق ہے جسے ادا کریں اور نعیم غریب پر رحم کریں۔

اکثر و بیشتر انگریزی پڑھانے والے بد مذہب، بد عقیدہ، گمراہ قسم کے لوگ ہیں، اس لئے ان کو اچھی جگہ تعلیم دلائیں، کافی عرصہ گزر گیا اس عاجز کے نام حال اور احوال پر مشتمل نصراللہ کا خط نہیں آیا۔ اگر اسلام سے محبت ہوتی تو اس عاجز کی طرف خط لکھنے میں ہرگز دیر نہ کرتے۔ اس عاجز نے تو 15۔16 روپے خرچ کرکے ان کے فائدے کے لئے ان کے نام رسالہ جاری کرادیا ہے، اسی طرح مشتاق احمد، اسی طرح امان اللہ کے لئے بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ان کی مرضی شناسائی رکھیں یا نہ رکھیں۔ دیگر گزارش یہ کہ ہاریوں کو کام کے سلسلہ میں ہوشیار رکھیں، وہ خود سمجھدار ہیں، آپ نے بھی کوشش کی ہوگی، اسلئے امید ہے کہ انہوں نے ہل دینے، اور زمین درست کرنے کا کام بہتر کیا ہوگا، تاہم آپ کوشش کرتے رہیں کہ ہر ایک ہاری 5۔6 بار ہل دیں، سمجھدار زمیندار تو 10۔10 ہل بھی لاتے ہیں۔

ہر ایک ہاری کے کام کی تفصیل لکھیں کہ اس نے کتنے ہل دیئے، زمین میں بلیڈ چلانے کا کام کتنا کیا ہے؟ زمین پر محنت کرکے زمین درست کر لی یا نہیں؟ اگر کچھ کام ابھی باقی ہو تو ان کو ہوشیار کریں، رات دن کرکے بہتر اور جلدی کام کرکے زمین میں ابتدائی موسم میں بیج ڈال دیں کہ ایک دو مرتبہ پانی مل جائے۔ مزید کیا تاکید لکھوں، آپ کی غلام مصطفیٰ اور حاجی غلام صدیق صاحب کی پہلے سے کافی کوشش ہوگی، احوال بھیجنے میں دیر نہ کرنا۔ بڑی ہمشیرہ صاحبہ کی خدمت میں عرض ہے کہ اولاد کے لئے دعا بھی کریں اور کوشش بھی تاکہ دینوی ترقی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ ان کو دینی اخروی ترقی و کامیابی بھی عطا فرمائے، غلام سرور کے لئے یہ عاجز خرچہ کرکے اس کو رسائل منگوا دیتا ہے، ابھی سال پورا ہونے پر غلام مصطفیٰ کے لئے بھی یہ سلسلہ شروع کر دیا جائیگا، اس عاجز کی تو غلام مصطفیٰ خواہ دوسرے سبھی سے محبت اور خیر خواہی ہے، اور محبت و خیر خواہی کا حق ادا کرتا ہے، اور یہی امید ہے کہ ان کو بھی مجھ سے محبت و خیر خواہی ہوگی، اور اس بات کی قدر کریں گے۔ خواتین بھی نماز میں سستی نہ کریں، ان کو ہوشیار کرتے رہیں اور نماز کے مسائل کی تعلیم دیتے رہیں۔ آپ سبھی اس عاجز کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

اہلیہ اور بچے سلام کہہ رہے ہیں، ان کے حق میں دعا کرنا اللہ تعالیٰ ان کو نیک بنا کر طویل عمر بخشے۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *