مکتوب حضرت غوث اعظم ۱۱۔ گڑگڑانے، عاجزی کرنے، رونے اور حق تعالیٰ سے التجا کرنے کے بیان میں

مکتوب مبارک حضرت محبوبِ سبحانی غوثِ صمدانی غوثِ اعظم سیدنا و مرشدنا سید عبد القادر جیلانی بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (وفات ۵۴۱ھ)

حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف صادر فرمایا۔ گڑگڑانے، عاجزی کرنے، رونے اور حق تعالیٰ سے التجا کرنے کے بیان میں۔

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: قاضی سید شاہ اعظم علی صوفی قادری

حوالہ: مکتوباتِ غوثِ اعظم اردو، مترجم قاضی سید شاہ اعظم علی صوفی قادری، مکتبہ صوفیہ، تصوف منزل، قریب ہائیکورٹ، حیدرآباد، آندھرا پردیش، انڈیا، مارچ ۱۹۹۰

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


اے عزیز! جب تک تو اضطراب کی پیشانی خاک پر نہ رکھے اور آنکھوں کے بادل سے حسرت کی بارش نہ برسائے، تیرے عیش کا باغ خوشی کے جھاڑوں سے ہرگز ہرا بھرا نہیں ہوتا اور امید کی جھاڑی مراد کے تازہ اور میٹھے کھجوروں کے بغیر میوہ دار نہیں ہوتے اور صبر کی شاخیں اور رضا کے پتے اور اُنس کے پھول سے

(اور بے شک اس کے لئے ہماری بارگاہ میں ضرور قرب اور اچھا ٹھکانا ہے۔ سورۃ صٓ، ۲۵)

والے قرب کے میووں کے ساتھ ہرے بھرے نہیں ہوتے اور کمال کو نہیں پہنچتے، اور دل کا عندلیب، شوق کے ترانے کے ساتھ نغمہ سرا نہیں ہوتا، اور دل کا رہنما

(میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں۔ سورۃ الصافات، ۹۹)

کے بازو کے ساتھ

(کیا آدمی کو مل جائے گا جو کچھ وہ خیال باندھے۔ سورۃ النجم، ۲۴)

کے پنجرے سے نہیں اُڑتا اور

(اور اے سننے والے اپنی آنکھ نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لئے دی ہے جتنی دنیا کی تازگی کہ ہم انہیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں۔ سورۃ طٰہٰ، ۱۳)

کی فضا کو پار نہیں کرتا،

(سچ کی مجلس میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور۔ سورۃ القمر، ۵۵)

کے درخت تک ہرگز رسائی حاصل نہیں کرتا اور

(ان کے لئے ہے جو وہ چاہیں اپنے رب کے پاس۔ سورۃ الزمر، ۳۴)

کے درختوں کے کوئی میوے نہیں کھاتا اور

(اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانہ۔ سورۃ آل عمران، ۱۴)

کے باغ سے ایک خوشبو اس کے مشام تک نہیں پہنچتی اور

(ان کے لئے سلامتی کا گھر ہے اپنے رب کے یہاں اور وہ ان کا مولٰی ہے، یہ ان کے کاموں کا پھل ہے۔ سورۃ الانعام، ۱۲۸)

والی نعمتوں کے گلزار سے کوئی بہرہ وری حاصل نہیں ہوتی۔

تعليق واحد على

  1. الحمد للہ رب العالمین . اللہ رب العزت جزائے خیر عطا فرمائے. اور دنیا اور آخرت کی کامیابی نصیب فرمائے.

اترك رداً على محمد ابراہیم نقشبندی مجددی . إلغاء الرد

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *