نامہ مبارک حضرت خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم بنام کسریٰ شاہِ فارس

نامہ مبارک حضرت سید الاولین والآخرین خاتم الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وصال مبارک ۱۱ھ)

یہ نامۂ مبارک آپ نے کسریٰ شاہِ فارس کو دعوتِ اسلام کے لئے بھیجا۔ فارس (ایران) اس زمانہ کی دو بڑی عالمی طاقتوں میں سے ایک تھی، جبکہ دوسری روم کی سلطنت تھی۔

کسریٰ کو جب یہ نامہ مبارک ملا تو اس نے غصے سے اس کو پھاڑ دیا۔ اس کی بے ادبی و بدبختی کی سزا ملی اور اس کے اپنے ہی بیٹے نے اس کو قتل کر کے حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی۔

یہ نامہ مبارک مئی ۱۹۶۳ء میں بیروت میں دستیاب ہوا تھا، اور ڈاکٹر صلاح الدین المنجد نے، جو عربی مخطوطات کے مستند محقق ہیں، اس مکتوب کا عکس بیروت کے روزنامہ الحیات کے ۲۲ مئی ۱۹۶۳ء کے شمارے میں شائع کرایا تھا۔

زبان: عربی

اردو ترجمہ: سید فضل الرحمٰن

حوالہ: خطوطِ ہادیِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم (اردو)، سید فضل الرحمٰن، زوّار اکیڈمی پبلی کیشنز، کراچی، پاکستان، جولائی ۱۹۹۵

نامہ مبارک کا اردو ترجمہ نیچے شروع ہوتا ہے:


بسم الله الرّحمٰن الرّحيم

محمد اللہ کے رسول (صلّی اللہ علیہ وسلّم) کی جانب سے فارس کے عظیم کسریٰ کی جانب۔ سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے، اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد (صلّی اللہ علیہ وسلّم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں تجھے اللہ کے دین کی طرف بلاتا ہوں کیونکہ میں تمام لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں تا کہ ہر زندہ انسان کو (آخرت کے بارے میں) خبردار کروں اور کافروں پر اللہ کی حجت قائم ہو جائے۔ تو اسلام قبول کر، سلامت رہے گا۔ اگر تو نے انکار کیا تو تمام مجوسیوں (کے اسلام قبول نہ کرنے) کا گناہ تجھ پر ہوگا۔


عربی متن

بسمِ اللهِ الرّحمٰنِ الرّحيمِ. مِن محمّدٍ رسولِ الله الى كِسرى عظيم فارس. سلامٌ على من اتَّبع الهُدى، وآمن بالله ورسوله، واشهد ان لا الٰه الَّا اللهُ وحده لا شرك له وانَّ محمّدًا عبده ورسوله. وادعوك بدِعاية الله فانّي انا رسول الله الى النّاس كافةً، لاُنذر مَن كان حيًّا ويحقَّ القولُ على الكافرين. اسلِم تَسلَم، فان ابيت فان اثم المجوس عليك.


نامہ مبارک کا عکس

kisra

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *