مکتوب حضرت خالد بن ولید بطرف حضرت ابو عبیدہ بن جراح

مکتوب شریف حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (وفات ۲۱ھ)، بنام حضرت امین الامت سیدنا ابو عبیدہ بن جرّاح رضی اللہ عنہ

جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں شام میں مسلمان فوجوں کی کمان حضرت ابو عبیدہ بن جراح سے حضرت خالد بن ولید کو سپرد کی، تو اس پر حضرت خالد بن ولید نے حضرت ابو عبیدہ کو یہ مکتوب لکھا جس میں اپنی عاجزی کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح ایک پرانے صحابی تھے اور ان کی دینی حدیثیت و فضیلت حضرت خالد بن ولید سے زیادہ تھی جو خود فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے مسلمان ہوئے۔

زبان: عربی

اردو ترجمہ: ڈاکٹر خورشید احمد فارِق

حوالہ: حضرت ابوبکر کے سرکاری خطوط، ڈاکٹر خورشید احمد فارِق، ادارہ اسلامیات، انارکلی، لاہور، پاکستان، مئی ۱۹۷۸ء۔ بحوالہ فتوح الشام، ازدی۔

نوٹ: یہ مکتوب شریف ایک تاریخ کی کتاب میں زبانی روایات کی مدد سے نقل کیا گیا ہے، اس لئے یہ بات پورے وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ مکتوب کے روایت کردہ الفاظ بالکل وہی ہیں جو حضرت خالد بن ولید نے تحریر فرمائے تھے۔ لہٰذا الفاظ کی بجائے یہ مکتوب معانی کے لحاظ سے دیکھا جائے۔

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


بسمِ اللهِ الرّحمٰن الرّحيم

ابو عُبیدہ بن جرّاح (رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں خالد بن ولید (رضی اللہ عنہ) کی طرف سے۔ سلام علیک۔ میں اس معبود کا سپاس گزار ہوں جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ خدا سے التجا ہے کہ خوف کے دن (قیامت) مجھے اور آپ کو دوزخ کی سزا سے امان میں رکھے اور دنیا میں آزمائشوں اور مصیبتوں سے۔

خلیفۂ رسول اللہ (ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ) کا فرمان موصول ہوا، جس میں انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ شام جا کر وہاں کی فوجوں کی کمان اپنے ہاتھ میں لوں۔ بخدا میں نے نہ تو اس عہدہ کی درخواست کی نہ اس کی خواہش، اور نہ اُن سے اس باب میں کوئی خط و کتابت۔ آپ پر خدا کی رحمت (میرے سالارِ اعلیٰ ہونے کے باوجود) آپ کی حیثیت وہی رہے گی جو تھی، آپ کے کسی حکم کو ٹالا نہ جائے گا، نہ آپ کی رائے اور مشورہ کو نظر انداز کیا جائے گا، اور نہ آپ کی صلاح بغیر کوئی فیصلہ ہوگا۔ آپ مسلمانوں کی برگزیدہ شخصیت ہیں، نہ تو آپ کے فضل سے انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ آپ کی رائے سے بے پرواہی برتنا ممکن ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ اپنی مہربانیوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دے اور مجھے اور آپ کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ والسلام علیک و رحمۃ اللہ۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *