مکتوب خواجہ سراج الدین ۳۸۔ قبروں پر کتبے لگانا اور ان کو پختہ کرنے کے بیان میں

مکتوب شریف حضرت شیخ محمد سراج الدین دامانی نقشبندی مجددی (م 1333ھ)، سجادہ نشین خانقاہ احمدیہ سعیدیہ موسیٰ زئی شریف، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان

یہ مکتوب آپ نے احمد خان صاحب کے نام تحریر فرمایا، قبروں پر کتبہ لگانے اور قبور کو پختہ کرنے کے بارے میں۔

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: صوفی محمد احمد نقشبندی زواری

حوالہ: تحفۂ زاہدیہ، مکتوبات خواجہ محمد عثمان دامانی و خواجہ سراج الدین، زوار اکیڈمی پبلی کیشنز، کراچی، طبع دوم ۲۰۰۰

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


الحمد لِلهِ وسَلامٌ علىٰ عِبادِهِ الّذِينَ اصْطَفىٰ

اما بعد! اعزی و ارشدی احمد خاں صاحب سلّمہ اللہ تعالٰی۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

جناب کا محبت نامہ موصول ہوا۔ خیر و عافیت کی خبر سن کر خوشی حاصل ہوئی۔ آپ نے ایک لمبی عبارت اس بارے میں لکھی تھی کہ فلاں ڈاکٹر کہتا ہے کہ قبروں پر کتبے لگانا بدعت ہے اور مشائخِ سرہند رحمہم اللہ تعالٰی کی سنت کے خلاف ہے۔

عزیزم! اس کا یہ کہنا محض کورانہ تقلید اور رعونت کی بنا پر ہے۔ ڈاکٹر مسئلے کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہے۔ پس اس مسئلے کے متعلق ضرورت کے پیش نظر مختصراً تحریر کرتا ہوں۔

سنئے! بدعت اصطلاح میں اس کام کو کہتے ہیں کہ اس کی اصل قرونِ ثلاثہ میں اولاً موجود نہ ہو۔ بدعت کی پانچ قسمیں ہیں:

اول: حرام

یہ وہ بدعت ہے جو غیر مشروع ہے اور اس کو عبادت جان کر کیا جائے۔ جیسا کہ اکثر رمضان شریف کے آخری جمعہ میں بدعات کرتے ہیں۔

دوم: مکروہ

یہ وہ بدعت ہے جیسا کہ جتنی بھوک تھی اس سے بہت زیادہ کھا لیا جائے اور جو بہت زیادہ نقصان کا باعث ہو جائے۔

تیسری قسم: واجب

مثلاً فرقِ باطلہ کے رد میں حجج کا ترتیب دینا اور دلائل قائم کرنا۔ اس قسم کی بدعت واجب ہے۔

چوتھی قسم: مستحب

مثلاً رباط اور گھروں کا بنانا۔

پانچویں قسم: مباح

مثلاً کھانے پینے، پہننے اور اس قسم کی دوسری عادات۔

پس ہر بدعت کا انکار کرنا اور علی الاطلاق مورد طعن جاننا چاروں مذاہب اور معتبر علماء کے مسلک کے خلاف ہے۔ علماء نے پانچوں قسم کی بدعات کی تصریح فرمائی ہے۔ جو ان کا انکار کرتا ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ وہابی عقائد رکھتا ہے۔

شامی نے در المختار میں مسئلے کی صورت کو آئندہ عبارت میں بیان کیا ہے۔

قال في الدر المختار في جنائز السراجية لا بأس بالكتابة احتيج اليها حتى لا يذهب الأثر ولا يمتهن وقال الشامي لان النهي عنها وان صح فقد وجد الاجماع العملي بها فقد اخرج الحاكم النهي عنها من طرق ثم قال هذه الاسانيد صحيحة وليس العمل عليها فان أئمة المسلمين من المشرق الى المغرب مكتوب على قبورهم وهو عمل اخذ به الخلف عن السلف ويتقوى بما اخرجه أبو داؤد بأسناد جيد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حمل حجرا فوضعه عند رأس عثمان بن مظعون وقال اتعلم به قبر أخيه وادفن الله من ماة من اهلي فان الكتابة طريق الى تعرف القبر بها يظهران محل هذا الاجماع العملي على الرخصة فيها ما اذا كانت الحاجة داعية اليه في الجملة كما أشار اليه في المحيط بقوله وان احيتج الى الكتابة حتى لا يذهب الأثر ولا تمتهن فلا بأس به ما الكتابة بغير عذر فلا. ومثله في القاضي خان وغيره.

(ترجمہ: علامہ شامی نے در المختار میں فرمایا ہے کہ قبروں پر بصورت احتیاجی لکھنا کوئی مضائقہ نہیں تاکہ قبر کا نشان نہ مٹ جائے اور قبر بوسیدگی کی حالت میں بھی معلوم ہوتی رہے۔ علامہ شامی اس پر فرماتے ہیں کہ نہی اگر صحیح بھی ہو جائے تو اجماع عملی تو پایا جاتا ہے۔ حاکم نے نہی کو کئی طریقوں سے روایت کیا ہے، پھر فرمایا ہے کہ یہ سندات صحیح ہیں، لیکن معمول بہا نہیں، کیونکہ مشرق و مغرب کے ائمہ مسلمین کے نام ان کی قبروں پر کندہ ہیں۔ اور یہ ایک ایسا عمل ہے جس کو اخلاف نے اسلاف سے لیا ہے۔ اور یہی بات ابی داؤد کی اس روایت سے جس کو اس نے عمدہ سند سے روایت کیا ہے، قوی ہو جاتی ہے۔ ابو داؤد نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ایک پتھر لیا اور اسے عثمان بن مظعونؓ کی قبر کے سر پر رکھا اور فرمایا کہ اس سے اس کے بھائی کی قبر کی پہچان ہو سکے گی، اور میرے رشتہ داروں میں سے جو انتقال کرے گا، اس کو اسی کی طرف دفن کروں گا۔ تو اس روایت سے ظاہر ہے کہ رخصت پر اجماع عملی کا محل اس وقت ہو سکتا ہے کہ جب کتابت کی احتیاج پیش آئے، جیسا کہ اس کی طرف محیط میں اشارہ کیا ہے۔ صاحبِ محیط کا یہ قول ہے کہ اگر کتابت کی احتیاج پڑ جائے تاکہ قبر کے آثار نہ مٹیں اور نہ ہی وہ بوسیدہ ہو اس صورت میں لکھنا کوئی مضائقہ نہیں، اور اگر بلا عذر کتابت ہو تو نہ لکھا جائے۔ قاضی خان نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔)

پس قبروں پر کتبے لگانا اور ان پر پتھروں کا رکھنا جس کو عرف عام میں ”سراج“ کہتے ہیں، بدعت قرار دینا باطل ثابت ہوا۔ جیسا کہ مذکورہ بالا عبارت میں تصریح کی گئی کہ کتابت مذکورہ کا فعل ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے اور اس کو اخلاف اسلاف سے روایت کرتے چلے آئے ہیں، یہاں تک کہ یہ تعمل کی حد کو پہنچ چکا ہے اور حکم میں دلیل قطعی ہو چکا ہے۔ اور خبر واحد کی تخصیص دیتے ہوئے بصورت عدم فائدہ یہ مسلم ہے کہ شیرینی پر خرچ کرنا بھی اسراف میں داخل ہے۔

اور باقی جو آپ نے لکھا تھا کہ مشائخِ سرہندیہ کی سنت کے خلاف ہے۔ اگرچہ یہ بات بھی واقع کے مطابق ہے، لیکن گزشتہ بالا عبارت سے ثابت ہوا، پس یہ ہماری بحث میں موجبِ نقصان نہیں۔ کیونکہ وہاں کی آراضی اور بناوٹ کی پختگی کے باعث وہاں پر کتابت کی حاجت نہیں رہی، اور باقی جگہوں میں جہاں پر کتابت کی ضرورت ہے وہاں پر مشرق و مغرب کے ائمہ مسلمین کی قبور کے معمول پر قیاس کیا جائے گا۔ جیسا کہ استنبول میں جو پیروں کا ملک ہے اور ایران میں مقابر قدیمہ کی بنیاد ایسے زمانے میں ڈالی گئی ہے کہ اس زمانے میں عموماً مذہب اہلِ سنت والجماعت کا چرچا تھا۔ ایران کے قدیم مقبرے خود فقیر کے مشاہدے میں آئے ہیں۔ موسیٰ زئی کی زمین میں شورہ کے غلبے کی وجہ سے پلستر اور پختہ اینٹیں چند سال تک قائم رہ سکتی ہیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہے۔

پس اس صورت میں قبر کے آثار باقی رکھنے کے لئے کتابت مذکورہ اور پتھروں وغیرہ کا رکھنا ضروری ہے۔ قبور کو پختہ رکھنے کا مسئلہ بھی بعینہٖ اسی طرح ہے جیسا کہ قبروں پر کتبہ لگانا اور پتھر رکھنا۔ باقی احادیث متعدہ صحیحہ میں جو نہی وارد ہوئی ہے، ائمہ مسلمین نے اس کو صورت عدم احتیاج پر محمول کیا ہے، لیکن اگر قبر کے نشان کے مٹ جانے کا خوف ہے تو قبروں کو پکا کرنا اور کتبہ لگانا جائز قرار دیا ہے اور اس پر عمل بھی متوارث ہے جیسا کہ آپ نے سرہند شریف کے مزارات کا مشاہدہ کیا ہے۔ حالانکہ احادیث نہی تخصیص (پختگی) کے متعلق آئی ہیں اور اس نہی کو موکد بھی کیا گیا ہے۔

ہاں اگر قائل ان صورتوں کا انکار بھی کرتا ہے تو اس کو اول قبور پر بنائیں وغیرہ ڈالنے کا انکار کرنا چاہئے جس کے متعلق اسلاف و اخلاف سے کوئی معتبر وجہ نہیں ملتی۔ بالجملہ فلاں ڈاکٹر کے لئے موسیٰ زئی شریف کی قبور کے لئے لب کشائی کرنا نامناسب ہے۔ کیونکہ وہ خانقاہ شریف کی خاصیت زمین اور وضع قطع سے بالکل ناواقف و نابلد ہے۔ تعجب تو اس بات پر ہے کہ اس نے سنی سنائی باتوں کی تقلید کرلی اور اس بنا پر درویشانِ خدا کے اطوار کو مکروہ اور انکار کی نظر سے دیکھا۔ ساتھ ہی مجھے آپ پر بھی تعجب ہے کہ آپ کو کیوں تردد لاحق ہوا، جب کہ آپ خانقاہ شریف کے قرب و جوار سے بخوبی واقف ہیں اور آپ وہاں عرصے تک رہ چکے ہیں۔ اور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ خانقاہ شریف میں علماء و فضلا کا مجمع رہتا ہے جو طریقۂ سنت سنیہ کے خلاف ایک قدم اُٹھانا بھی بُرا سمجھتے ہیں۔ اور پیران حضرات کرام موسیٰ زئی تمام مسائل میں حرام و حلال کی پابندی کو اپنا نصب العین سمجھتے ہیں۔ کیا پھر یہ اُمید ہو سکتی ہے کہ خانقاہ شریف میں جمہور کے مسلک کے خلاف کوئی کام کیا جا سکتا ہے؟

نیز جس خدمت کی تکمیل آپ کے سپرد کی گئی تھی اس کو ابھی تک آپ نے التوا میں ڈال رکھا ہے۔ اعزی حافظ محمد خان صاحب سر لوح کے بنانے بنوانے میں مصروف تھے، انشاء اللہ جلد ہی مکمل کر کے آپ کے پاس روانہ کر دی جائے گی۔ آپ کو تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں۔ فقیر کو دعاگو تصور کریں۔

والسّلام

فقیر محمد سراج الدین عفی عنہ

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *