مکتوب خواجہ محمد سعید سرہندی ۱۷: اپنے فرزند شیخ عبد الاحد کی طرف، بسم اللہ کے اسرار میں

مکتوب شریف حضرت زبدۃ العارفین خواجہ محمد سعید سرہندی فاروقی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۱۰۷۰ھ)، فرزند ثانی حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

اپنے فرزند حضرت شیخ عبد الاحد وحدت سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے اسرار کے بیان میں تحریر فرمایا۔

زبان: عربی

ترجمہ: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان نقشبندی

حوالہ:

اصل مکتوب شریف در مکتوبات سعیدیہ (فارسی و عربی)، مرتب حکیم عبدالمجید سیفی نقشبندی، ناشر مکتبہ حکیم سیفی، بیڈن روڈ، لاہور، پاکستان

اردو ترجمہ: حضرات القدس اردو ترجمہ، جلد دوم، شیخ بدر الدین سرہندی، مترجم ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان، قادری رضوی کتب خانہ، لاہور، پاکستان، اشاعت دوم 2010ء

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


الحمد لله وسلامٌ على عِباده الذين اصطفى

اس مبارک کلام سے جو کلامِ مجید کے (ہر سورہ کے) شروع میں واقع ہے (یعنی بسم الله الرحمٰن الرحيم)، بہت سے اسرار متعلق ہیں۔ اُن میں سے یہ بھی ہے کہ وہ مستعد طالبوں کے لیے تعلیم سلوک ہے اور منتہی عارفوں کے لئے تنبیہ ہے۔ گویا حرف با جو سلوک کی ابتدا کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور اس سے وجود سلوک ہے، یہ بتاتا ہے کہ جب تک سالک پوری طرح اپنی خودی سے باہر نہیں آتا اور اپنے مطلوب میں فنا نہیں ہوتا اور مثل اس حرف کے نہیں ہو جاتا کہ اس کے ذاتی معنی کچھ نہیں سوائے دوسرے معنی کے اظہار کے، اور اپنے وجود اور اُس کے توابع (عرض) سے باہر نہیں آ جاتا کہ عرض اپنے وجود سے پہلے اپنا وجود اپنے جوہر میں رکھتا ہے، اس کا کام نہیں بن سکتا۔ اور جب کہ سالک اسمائے الٰہی کے کسی اسم کا مظہر ہوتا ہے، اس لیے لامحالہ سالک کے ظلّی وجود کی فنا اسی اسم میں واقع ہوگی، اور چونکہ اسم اپنے مسمّٰی کے مقابلے میں کوئی وجود نہیں رکھتا اور اس کی حیثیت اپنے مسمّٰی کے مقابلے میں ایک دلیل کی جیسی ہوتی ہے، اس لیے اُس کا کام مسمّٰی میں منتج ہوتا ہے۔ اور سالک کا معاملہ جو اس اسم سے ہے وہ اس کے مسمّٰی سے نسبت پیدا کر لے گا۔ اس وقت وہ جمع الجمع کی وسعت میں کہ اس سے الوہیت مراد ہے، مستغرق ہو جائے گا۔ اور تجلّیِ ذات جو کہ صوفیہ کی اصطلاح ہے، مشرف ہو جائے گا، اور بموجب اس حدیث کے کہ ”مَن تَوَاضَعَ لِلهِ رَفَعَهُ اللهُ“ (جو اللہ کے لیے جُھکتا ہے اللہ اس کو بلندی عطا کرتا ہے) اُسے ہر مقام میں اس مقام کی مناسبت سے ایک وجود متحقق ہوتا ہے اور وہاں وہ بقا حاصل کرتا ہے۔ اور چونکہ یہ مرتبہ بھی شیونِ الٰہی کی ایک جامع شان ہے اور حضرتِ اطلاق کا ایک پورا تعیّن ہے، اس لیے اس مقام میں اس کا نصیب سوائے شان کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ ہر چند وہ اس کو ذات تصوّر کر لیتا ہے اور کثرت کو دور کرنے اور وحدت کو حقیقت الحقائق میں معتبر کرنے کے لیے کہ بموجب آیت ”اَلَآ اِلَى اللهِ تَصِيرُ الاُمُورُ“ (تمام امور اسی اللہ کی طرف پھر جاتے ہیں) وہ ایک رمز ہے جو صرف اطلاق کو تصوّر کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تین مبارک اسموں (اللہ، الرحمٰن، الرحیم) کی تکرار اس بات کو ظاہر کرتی ہو کہ ذات کبھی دائرۂ اعتبار سے باہر نہیں آئی۔ خصوصاً لفظ ”رحیم“ کے لانے سے اس بات کی صراحت ہوتی ہے، کیونکہ شروع کے دو اسم (اللہ، الرحمٰن) کے لیے یہ شہرت ہے کہ وہ دونوں اسمِ ذات ہیں۔ ہاں ایسے ہیں لیکن مطلقاً نہیں۔ بلکہ وہ حضرتِ ذات کے قربِ خاص کے دوسرے اسماء سے نسبت رکھتے ہیں۔ آیہ کریمہ ”قُلِ ادعُوا اللهَ اَوِ ادعُوا الرَّحمٰنَ اَيًّا مَّا تَدعُوا فَلَهُ الاَسمَاءُ الحُسنٰى“ (آپ فرما دیں کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر پکارو، جو کہہ کر پکارو، سب اسی کے اچھے نام ہیں) سے اس طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔ معلوم ہو کہ ایک عارف ان اسماء الحسنٰی کی حقیقت میں وصول کے وقت یہ گمان کرتا ہے کہ اُسے اس کا مطلوب مطلقاً حاصل ہو گیا۔ لیکن ایسا نہیں ہے، بلکہ وہ مطلوب اپنے دائرۂ اسماء سے جو کہ حضرتِ ذات کے لیے دلیل ہیں، ایک قدم باہر نہیں آیا، اِلَّا یہ کہ میرا ربّ چاہے، اور وہی بہتر جاننے والا ہے تمام امور کی حقیقتوں کو۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *