مکتوب خواجہ محمد صدیق کشمی در خدمت مخدوم زادہ خواجہ محمد سعید سرہندی

مکتوب شریف حضرت مولانا خواجہ محمد صدیق کشمی رحمۃ اللہ علیہ (وفات شوال ۱۰۵۰ھ)، خلیفہ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

یہ مکتوب آپ نے اپنے مخدوم زادہ حضرت خواجہ محمد سعید سرہندی فاروقی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ (م ۱۰۷۲ھ) کی خدمت میں تحریر فرمایا، جس میں اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے۔

زبان: فارسی

ترجمہ: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان نقشبندی

حوالہ: زبدۃ المقامات، مصنف خواجہ محمد ہاشم کشمی، اردو ترجمہ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان، ناشر مکتبہ نعمانیہ، اقبال روڈ، سیالکوٹ، پاکستان، شعبان ۱۴۰۷ھ

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


اللهم صل وسلّم على سيدنا ومولانا محمد وعلى آل سيدنا محمد صلوٰۃ تدخُلنا بها في حفظ عنايتك

کمترین فدوی محمد صدیق جو ہمہ تن آپ کی مراد بخش درگاہ کے خادموں کی آستاں بوسی کا آرزو مند ہے، اس طرح عرض پرداز ہے کہ گو کچھ عرصے سے دست پاؤں سے مجبور ہو گیا ہوں، لیکن شوق کی مدد سے کبھی کبھی ایک مذلوح کی طرح آپ جیسے صاحبان دین و دنیا کو تڑپتا ہوا، یاد کرتا رہتا ہوں۔ اور بے شک آپ قبلۂ آگاہِ دلاں کی بے انتہا عنایت سے ہمیشہ عظیم نعمتوں کے لئے امید لگائے رہتا ہوں، اور اپنی استعداد کے مطابق اس عظیم الشان (روحانی) دسترخوان سے ریزہ چینی کا خواستگار ہوں۔ اور گو کہ ناکارہ ہو گیا ہوں، لیکن بے خودی کے عالم میں کبھی گنگناتا رہتا ہوں۔ چنانچہ اسی زمزمہ سرائی سے یہ اشعار تحریر کئے جاتے ہیں:

خوش وقت آن دلے که به کاری رسیده است
خوش روز شب روی که به یاری رسیده است

از فرق تا قدم همه عطرم عجب مدار
دستم بچینِ زلفِ نگاری رسیده است

خوش روزگارِ عیشِ هدایت که در خزان
رختش به تازه رنگ بهاری رسیده است

اور چند اشعار جو ضعف کے زمانے میں لکھے گئے ہیں وہ بھی خدمت عالی میں پیش کرتا ہوں:

طلوعِ شمسِ من از وجهِ وجهیت عالی ست
توجّهِ دلم از رتبۂ وصفت عالی ست

مرا نظر بجمال ست بے حجابِ نقاب
فضائی آن نظر از دیدِ منقبت عالی ست

چه دست و رو به گناهم زنی که نشناسی
حقیقتِ گنهی کان ز مغفرت عالی ست

بعلمِ خویش چه نازی به سوزِ من می ناز
که شانِ جهلِ من از طورِ معرفت عالی ست

قبلۂ من سلامت! جو کچھ کہ مقصد ہے خوب دیکھتا ہوں لیکن الفاظ کا دست معانی کے دامان تک نہیں پہنچتا۔ افسوس ہے کہ وہ باتیں جو میں جانتا ہوں بیان نہیں کر سکتا۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *