مکتوب مولانا محمد صالح کولابی در خدمت پیر و مرشدِ خود حضرت مجدد الف ثانی

مکتوب شریف حضرت مولانا شیخ محمد صالح کولابی نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۱۰۳۸ھ)، خلیفہ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

یہ مکتوب آپ نے اپنے پیر و مرشد حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں تحریر کیا۔

زبان: فارسی

ترجمہ: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان نقشبندی

حوالہ: زبدۃ المقامات، مصنف خواجہ محمد ہاشم کشمی، اردو ترجمہ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان، ناشر مکتبہ نعمانیہ، اقبال روڈ، سیالکوٹ، پاکستان، شعبان ۱۴۰۷ھ

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


اس مقدس درگاہ کے کمترین خاکروب محمد صالح کی عرضداشت اس آستانۂ عالیہ کے خادموں سے اس طرح ہے کہ اے غریب نواز اور اے ذرہ پرور! آپ کی درگاہ کے خادموں کے صدقے میں (یہاں کے) احوال و اوضاع مخلصوں کے مدعا کے مطابق ہیں۔ ہمیشہ تجلیات سے مشرف ہوتا رہتا ہوں، اور ہر تجلی میں خاص فنا حاصل ہوتی ہے، اور ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ اس تجلی سے آگے اب کوئی اور تجلی نہیں ہوگی۔ اور ان تجلیات بے نہایت سے ایسا مفہوم ہوتا ہے کہ اسماء و صفات کی تفصیل میں سیر واقع ہو رہی ہے۔ (اور چونکہ) راہ تفصیل سے مطلوب تک پہنچنا بہت دشوار ہے، اس لئے آپ کی درگاہ قبلہ حقیقی سے امید ہے کہ جب اس ناقابل کو خاک مذلت سے اوپر اٹھا لیا ہے اور ایسے بلند احوال سے مشرف فرمایا ہے کہ اس کمینے کے وہم و فہم میں بھی نہیں آ سکتے تھے، تو اب بھی اپنی خاص الخاص توجہ سے سرفراز فرمائیں تا کہ غایت الغایات تک پہنچ سکوں اور منقصت سے نجات پاؤں۔ اور اپنی ذاتی مراد سے نامراد ہو جاؤں، اور سوائے اللہ تعالٰی کی مرضیات کے قولاً، فعلاً اور نظراً (کسی طرح بھی کوئی مرضی) حاصل نہ ہو۔ اور یہ بات آپ کی بارگاہ (جو مراد مریداں ہے) کی توجہ اور عنایت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ امید ہے کہ رحمت بے کراں کے دریا سے مجھے سیراب فرمائیں گے۔ اور اس غریب کی فضول باتوں کو آپ نے اخلاص اور محبت سے درست فرما دیں کہ وہی تمام سعادتوں کی متضمّن ہے۔ آپ کی تربیت کا سایہ تمام مخلوق کے سروں پر قیامت تک قائم و دائم رہے۔

بحق النبي صلّى الله عليه وسلّم وعلى آله الامجاد

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *