مکتوب شاہ عبدالرحیم دہلوی نقشبندی ۹۔ بنام شیخ عبداللہ

مکتوب شریف حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۱۱۳۱ھ)، والد محترم حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ

بنام شیخ عبداللہ۔ نصیحت کے بیان میں

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: محمد نذیر رانجھا

حوالہ: رسائل حضرت شاہ عبدالرحیم دہلوی، ترجمہ، مقدمہ و حواشی محمد نذیر رانجھا، خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ، کندیاں، ضلع میانوالی، پاکستان، ۲۰۰۸ء

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


دینی بھائی، سچے محبّ، یعنی صاحبِ خیر و بھلائی میاں عبداللہ صاحب! یادِ حق سے ہمیشہ محظوظ اور اس کی حفاظت میں محفوظ رہ کر ذکر و شاکر (بنے) رہیں۔ سلام کے بعد معلوم ہو کہ ایک عرصہ سے آپ نے دعا، سلام، پیام، خط اور یاد سے سرفراز نہیں فرمایا۔ اس وجہ سے فقیر کا دل پریشان ہے کہ جشن شادی کی تقریب کس موسم میں ہونی طے پائی ہے؟ آپ کس طرح اور کیسے ہیں؟ اور آپ کے احوال کیسے ہیں؟ اپنے ظاہری و باطنی حقائق و معارف تفصیلاً لکھ کر بھیجیں کہ سیر و سلوک کے کس درجے میں ہیں۔ ایسے کام کا فکر کرو کہ تم حق کے سوا کسی کے بندہ نہ بنو، اور ایسا کام کرو کہ کل (قیامت کو) شرمندہ نہ ہو۔ دنیا کی زندگی آسان ہے (اور) حق سے غافل ہونا جہل مطلق ہے۔ آج جو ہاتھ میں بلّا ہے، گویا وہ گیند ہے جو میدان میں ہے۔ جلدی آ کہ رحمٰن کا وقت جاری (موجود) ہے، وگرنہ کل (قیامت) کو نہ میدان میں گیند پاؤ گے اور نہ ہاتھ میں بلّا ہوگا۔

دنیا فانی ہے (اور) حق کے ساتھ مشغول ہونا دو جہان کی سعادت ہے۔ حضور کی یاد کا ایک ذرہ، ہزار بادشاہیوں سے بہتر ہے۔ مولٰی (تعالٰی) کی طلب سب سے اولٰی ہے۔ دوست (اللہ تعالٰی) کی طلب میں اہلِ معرفت کا فکر مند رہنا، ان کی نجات کا ذریعہ ہے، کیونکہ نفس کی مخالفت فرضِ عین ہے اور حق کی ضیافت دارین (دنیا و آخرت) کی سعادت ہے۔ اہلِ یاد ہمیشہ شاد ہیں۔ اگرچہ دنیا کی زندگی میں امیر اور بادشاہ کی رضامندی ضروری ہے، لیکن آخرت میں زیادہ ضروری رحمٰن (اللہ تبارک و تعالٰی) کی رضامندی ہے۔ (پس) حق کی رضامندی درکار ہے، دنیا اور اہلِ دنیا کی تدبیر کا کیا بھروسہ؟ دنیا چند روز کی ہے، کام کا انجام اللہ تعالٰی سے ہے۔ اپنی دینی خدمات کے طالب رہیں اور نفس پر غالب رہیں۔ اگر کوئی سمجھنے والا ہے تو پھر ایک حرف ہی کافی ہے۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *