مکتوب حضرت ابوبکر صدیق: بنام حضرت انس بن مالک، زکوٰۃ کے نصاب کے بیان میں

مکتوب شریف حضرت امیر المومنین خلیفۂ رسول اللہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، وفات ۱۳ھ

بنام حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، اونٹوں اور بکریوں کی زکوٰۃ کے نصاب کے بیان میں۔

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق کے کئی سیاسی و دیگر مکتوبات شریف تاریخ و حدیث کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ ان میں کچھ کے الفاظ مختلف کتابوں میں مختلف ہیں۔ لیکن مندرجہ ذیل مکتوب غالباً ان کا صحیح ترین مکتوب شریف ہے جو حدیث کی متعدد کتابوں میں (الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ) موجود ہے۔ خصوصاً امام بخاری نے صحیح بخاری شریف میں حضرت انس بن مالک کی روایت سے اس کو نقل کیا ہے۔

زبان: عربی

اردو ترجمہ: مولانا عبد الحکیم خان اختر شاہجہانپوری

حوالہ

  1. صحیح بخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب زکوٰۃ الغَنَم (بکریوں کی زکوٰۃ)، اردو ترجمہ از مولانا عبد الحکیم خان اختر شاہجہانپوری
  2. سنن نسائی، کتاب الزکوٰۃ

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔


اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

یہ وہ فرض زکوٰۃ ہے جو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے مسلمانوں پر فرض کی اور جس کا اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کو  حکم دیا۔ مسلمانوں میں سے جس سے اِس کے مطابق مانگا جائے وہ دے اور جس سے زیادہ مانگا جائے تو وہ نہ دے۔

چوبیس (۲۴) اونٹوں اور اس سے کم میں ہر پانچ پر ایک بکری دے۔ جب پچیس (۲۵) ہو جائیں تو پینتیس (۳۵) تک اُن میں ایک ایک سالہ اُونٹنی ہے۔ جب چھیالیس (۴۶) ہو جائیں تو پچھتر تک اُن میں ایک چار سالہ اُونٹنی ہے۔ جب چھہتر (۷۶) ہو جائیں تو نوے (۹۰) تک اُن میں دو دو سالہ اُونٹنیاں ہیں۔ جب اکانوے (۹۱) ہو جائیں تو ایک سو بیس تک اُن میں دو تین سالہ اُونٹنیاں ہیں جو قابل جفتی ہوں۔ جب ایک سو بیس (۱۲۰) سے بڑھ جائیں تو ہر چالیس میں ایک دو سالہ اور ہر پچاس میں ایک تین سالہ، اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو اُن پر زکوٰۃ نہیں ہے مگر جب کہ اُن کا مالک چاہے۔ اور جب پانچ ہو جائیں تو اُن پر ایک بکری ہے۔

اور چرنے والی بکریوں کی زکوٰۃ یہ ہے کہ جب چالیس (۴۰) سے ایک سو بیس تک ہوں تو اُن پر ایک بکری، اور جب ایک سو بیس سے زیادہ ہوں تو دو سو تک دو بکریاں، اور جب دو سو سے تین سو تک ہوں تو تین بکریاں، جب تین سو سے زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری۔ جب کسی کے پاس چالیس سے ایک بھی کم بکریاں ہوں تو اُن پر زکوٰۃ نہیں ہے مگر جب کہ اُن کا مالک چاہے۔

اور چاندی میں چالیسواں حصہ ہے۔ اگر کسی کے پاس ایک سو نوے (۱۹۰) درہم ہوں تو اُن پر زکوٰۃ نہیں ہے مگر جب کہ اُن کا مالک چاہے۔

تعليق واحد على

اترك رداً على محمد ابراہیم نقشبندی مجددی . إلغاء الرد

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *