مکتوب مفتی سلامت اللہ رامپوری: بطرف اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی

مکتوب شریف حضرت مولانا مفتی محمد سلامت اللہ نقشبندی مجددی رامپوری رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۱۳۳۸ھ)، خلیفہ علامہ مفتی محمد ارشاد حسین مجددی رامپوری نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ

بطرف اعلیٰ حضرت امام اہلسنت حضرت مولانا احمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ

زبان: اردو

حوالہ: خُطوطِ مَشاہیر بنام امام احمد رضا، حصہ اول، ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی، برکاتِ رضا فاؤنڈیشن، ممبئی، ۲۰۰۷ء۔ بحوالہ ہفت روزہ ”دبدبہ سکندری“، رامپور، یکم جون ۱۹۱۴ء، ص ۳، ۴۔

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


بسم الله الرّحمٰن الرّحيم

وافضل الصلوٰة والسّلام على الحبيب العزيز الرؤف الكريم وآله الكرماء واصحابه الرحماء

اما بعد! از جانب فقیر خادم بارگاہ احمدی محمد سلامت اللہ عفی عنہ

بخدمت عالی مرتبت والا شان سمو المکافہ والمکان جناب مولانا احمد رضا خاں صاحب، ادام اللہ ظلھم علی رؤسنا بعد السلام علیکم

بصد ادب معروض آنکہ رجسٹری اول و دوم موصول ہوئیں۔ پہلے کی دیکھنے سے یہ گمان غالب ہوا کہ حضرت کی خدمت میں کسی نے جھوٹی خبر پہنچا کر حضرت کو میری طرف سے سخت بدگمان کر دیا کہ اس تحریر میں حضرت نے مجھے مخاطب ٹھہرایا۔ دوسری رجسٹری سے اس گمان پر گویا مہر و رجسٹری ہو گئی کہ حضرت نے اس میں تحریر فرمایا کہ جناب کے فتوائے اولٰی پر چون ایراد کئے اور ثانیہ پر ساڑھے تین سو۔

مکرما معظما مفخما! میں نے آج تک اس باب میں نہ کوئی فتویٰ لکھا نہ کوئی تحریر کامل لکھنے کا اتفاق، نہ اپنے مشاغل ضروریہ سے اس کی آئندہ امید۔ البتہ جب مجھ کو لوگوں نے بہت مجبور کیا تو ایک بار میں نے ایک پرچہ علیحدہ پر لکھ دیا کہ میرے یہاں عمل درآمد اس طور پر ہے۔

دوسری بار یہ لکھا کہ جو امر متوارث ہے، وہی حق ہے۔ اس عبارت کو لوگوں نے اپنی اپنی تحریروں پر لکھ کر شائع کیا۔ اس مقدار پر تو بحمد للہ سبحانہٗ حضرت کو اس فقیر کے ساتھ اتفاق ہے، سوائے اس کے اور عبارت خود بڑھا گھٹا کر جو لوگوں نے جو ایجادیں کیں، ان کی نسبت الی اللہ تعالیٰ المشتکی کے سوا میں اور کچھ نہیں کہہ سکتا۔ پس مجھ کو اپنے مخاطبہ سے جملہ تحریروں میں معافی دی جائے۔ ان فتووں اور تحریروں کی میری طرف نسبت سراسر افترا اور بہتان ہے۔ جو لوگ ان کے محرر ہیں، ان کو مخاطب بنانا چاہیے اور انہیں کو نشانہ ملامت بنانے کا استحقاق حاصل ہے۔ اگرچہ بوجہ اس بات کے کہ وہ ہمارے اخوان دینی حقیقی ہیں، میری طرف بھی راجع ہوگا۔ مگر چونکہ نہ وہ فتاویٰ و تحریرات میرے مشورے سے ہوئیں، نہ میں نے ان کی تصدیق کی، نہ میں نے کسی کو ان کا امر کیا۔ لہٰذا میں ضرور مستحق معافی کا ہوں۔ آگے اختیار بدست مختار واللہ سبحانہ الموفق۔

دوسری رجسٹری خط مسرت نمط کی مجھے کل عصر کے وقت مثنوی شریف کے درس میں موصول ہوئی۔ مگر بوجہ علالت طبیعت و تیمار داری بیماران متعلقین آج عصر کے وقت میں نے اسے کھولا اور پڑھا۔ معلوم ہوا کہ حضرت نے اس کا جواب چہار شنبہ تک طلب فرمایا ہے۔ لیکن بسبب عذر مذکور وقت تدارک فوت ہو چکا تھا۔ لہٰذا اس سے اطلاع بھی میں نے ضروری سمجھ کر عرض کی۔

جناب قبلہ عالم میاں خواجہ احمد صاحب مدظلہم یہاں تشریف نہیں رکھتے۔ جب رونق افروز ہوں گے، یہ نامہ نامی و صحیفہ گرامی سامی پیش کر دوں گا۔ زیادہ حد ادب۔ فقط والسلام خیر ختام

عریضہ: محمد سلامت اللہ عفی عنہ

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *