مکتوب شریف امام حسن بن علی علیہما السلام

مکتوب شریف حضرت امام حسن بن علی علیہما السلام، وصال مبارک ۵۰ھ

یہ مکتوب آپ رضی اللہ عنہ نے امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی طرف ان کے مکتوب کے جواب میں صادر فرمایا۔

زبان: عربی

اردو ترجمہ: کشف المحجوب کے مختلف اردو تراجم سے

سنِ تحریر: تقریباً ۴۰ھ سے ۵۰ھ کے درمیان

حوالہ: کشف المحجوب از سید علی بن عثمان ہجویری

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


اللہ کے نام سے جو مہربان و رحیم ہے۔

اما بعد! آپ کا مکتوب موصول ہوا، جس میں آپ نے اپنی اور ان لوگوں کی پریشانی کا تذکرہ کیا ہے جنہیں آپ ہماری امت میں سمجھتے ہیں۔ اس مسئلہ میں میری جو رائے ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص نیک و بد تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا وہ کافر ہے، اور جو اپنے گناہوں کا ذمہ دار خدا کو ٹھہراتا ہے وہ فاجر و گمراہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ تو جبرًا اطاعت کراتا ہے اور نہ جبرًا گناہ۔ لیکن بندوں کی تمام ملکیتوں اور ان کی تمام قوت و طاقت کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر بندوں کو اطاعت پر مجبور کر دیا جاتا تو ان کے لئے کوئی اختیار نہ ہوتا اور انہیں طاعت کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہتا۔ اور اگر بندے اس کی معصیت کریں اور خدا کی مشیت ان پر احسان کرنا چاہے تو ان کے اور ان کے گناہ کے درمیان کوئی فعل حائل کر دیتا ہے۔ اب اگر وہ ارتکابِ معاصی نہ کرسکیں تو یہ بات نہیں ہے کہ خدا نے انہیں مجبور کردیا تھا۔ اور نہ جبر سے وہ فعل ان پر لازم کردیا تھا۔ یہ ان پر دلیل و حجت کے طور پر ہے اگر انہیں اس کی معرفت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راہِ ہدایت بنا دی ہے۔ لہٰذا جس کے کرنے کا حکم دیا ہے اسے کرو اور جس سے بچنے کا حکم دیا ہے اس سے بچو۔ اور اللہ ہی کے لئے حجتِ بالغہ ہے۔ والسلام

اصل عربی متن

مكتوب الإمام حسن المجتبى ابن علي المرتضى عليهما السلام

مكتوبة للإمام حسن ابن ابي الحسن البصري

نسخ من كشف المحجوب للشيخ علي ابن عثمان الهجويري

المكتوب هو الهذا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

أمّا بعدُ! فَقَدِ انْتَهى إِلَيَّ كِتَابُكَ عَن حَيرَتِكَ وَحَيرَةِ مَنْ زَعمتَ مِنْ أُمَّتِنَا. وَالَّذِيْ عَلَيهِ رَأيي أنّ مَنْ لَم يُؤمِنْ بِالقَدرِ خَيره وَشَرِّه فَقَد كَفَرَ، وَمَنْ حَمَلَ المَعَاصِي عَلَى اللّٰهِ فَقَد فَجَرَ. إِنَّ اللّٰهَ لَا يُطاعُ بِإكراهٍ وَلَا يُعْصى بغَلَبَةٍ، وَلَا يهْمِلُ العِبَادَ من الملكة، لكِنّه المَالكُ لما ملكَهُم وَالقَادِرُ عَلى مَا غَلَبَه قُدْرَتُهُم، فَإِنِ ائْتُمِرُوا بِالطَّاعَةِ لم يكنْ لَهُمْ صادًّا وَلا لَهُم عَنْهَا مُثَبِّطًا، فَإِن أتوا المَعصيةِ وَشَاء أن يَمُنَّ عَلَيهِم فَيحولُ بَينَهم وَبَينَهَا، فِعلٌ، وَإنْ لمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ هُوَ حَمَلَهم عَلَيهَا إِجبَارًا وَلَا أَلزَمَهُم ايّاها إكراهًا، بِاحْتِجاجه عَلَيهِم أنْ عَرَّفَهُم وَمَكَّنَهُم وَجَعَلَ لَهم السَّبِيلَ إِلى ‏أَخذِ مَا دَعَاهُم إِلَيهِ وَتَركِ مَا نَهاهُم عَنه. وَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ. وَالسَّلَام

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *