مکتوب خواجہ محمد ہاشم کشمی: اپنے پیر و مرشد حضرت مجدد الف ثانی کی خدمت میں

مکتوب شریف حضرت خواجہ محمد ہاشم کشمی برہانپوری رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۱۰۵۴ھ)، خلیفہ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ

یہ مکتوب آپ نے اپنے پیر و مرشد حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں برہان پور سے بھیجا۔

سنِ تحریر: تقریباً ۱۰۳۲ھ سے ۱۰۳۴ھ تک

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: حافظ محمد اشرف نقشبندی مجددی

حوالہ: حضرات القدس دفتر دوم، علامہ بدر الدین سرہندی، ترتیب و ترجمہ حافظ محمد اشرف نقشبندی مجددی، قادری رضوی کتب خانہ، گنج بخش روڈ، لاہور، اشاعت دوم 2010

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


بندۂ مہجور، آوارۂ دیارِ برہان پور، محمد ہاشم الکشمی، درگاہِ اقطاب پناہ میں عرض پرداز ہے کہ اُس آستانۂ عالیہ کے خادموں کی توجہ سے صحت و عافیت کے ساتھ شہر مذکور میں پہنچ گیا اور حضرت سیدی و مرشدی (میر محمد نعمان) سلّمہ اللہ کی ملازمت سے مشرف ہوا۔ حضور کے غلام زادوں (یعنی میرے فرزندوں) کو بعافیت پایا۔ لیکن حضور کی درگاہ سے محرومی کی وجہ سے جو داغ میرے دل کو زخمی کر رہا ہے اور میرے نصیبے کے قدوم کو دلدل میں پھنسائے ہوئے ہے، کس قلم کی زبان سے اور کس زبان کے قلم سے عرض کیا جا سکتا ہے؟

اے جانِ جہاں، آئینہ لے کر تو ذرا دیکھ
کیونکر ہے مری زندگیِ زار کی حالت

لیکن آپ کی نسیمِ توجہ و تصرف اس خاکِ راہ کو پھر بھی اُس آستانۂ پاک کے قریب پہنچا سکتی ہے۔

کبھی تو کھینچ کے گردن سے، ایک سَگ کی مثال
کشاں کشاں وہ مجھے کوئے یار تک لے جائیں

چونکہ شکایت کبھی ختم نہیں ہو سکتی اور خود کردہ کا کوئی علاج نہیں، اس لیے اس درد و غم کے اظہار سے میں خود درہم برہم ہوں۔ حضور نے بھی رخصت کے وقت، تاکید تمام کے ساتھ اس کمترین غلام کو حکم دیا تھا کہ جو کچھ تجھ پر اس مفارقت میں گزرے، چاہیے کہ مجھے لکھ کر بھیجے۔ اس لیے تعمیلِ حکم کی جرأت کر رہا ہوں۔

قبلہ گاہا! وہ احوال جو حضور اقدس میں یہ کمترین سنا چکا ہے، اس کا اجمال پھر عرض کرتا ہے تا کہ اُن احوال سے ملحق کچھ اور باتیں جو اس مفارقت کے زمانے میں درپیش آئیں معلوم ہو سکیں۔ حضور کی توجہ سے فنا تک معاملہ پہنچ چکا تھا کہ وجود اور اس کے توابع اپنی اصل سے واصل ہو گئے تھے اور عدمیت کا معاملہ عدم کو پہنچ چکا تھا۔ عین اور اثر دونوں پوری طرح ختم ہو چکے تھے۔ میں خود کو بھی نہیں پاتا تھا مگر ایک ثبوت پر کہ خود عدم کا کارخانہ اس پر قائم ہے (یعنی میرا وجود خود عدم کا ثبوت تھا)۔ اس کے بعد ایسا معلوم ہوا کہ وہ کمالات جو اپنی اصل سے واصل ہو چکے تھے وہ اس شخص (راقم الحروف) سے متعلق ہیں اور اسی ثبوت (عدم) پر قائم ہیں۔ جب حضور سے اس بارے میں عرض کیا تھا تو حضور نے فرمایا تھا کہ ”بقائے خاص کے ظہور کے آثار ہیں“۔ اس کے بعد کبھی میں نے خود کو عدمِ صِرف پایا اور کبھی اُن کمالات کو قائم بہ اصل دیکھا اور کبھی اُس ثبوتِ (عدم) کو اپنی حقیقت جانا اور اُن کمالات کو اس پر قائم سمجھا۔ مختصر یہ کہ میں عینِ فنا میں باقی تھا اور عینِ بقا میں فانی تھا۔ یہاں تک کہ ایک دن مجھے ایسا بتایا گیا کہ وہ ثبوت نہیں مگر حق تعالیٰ کے وجود کی نمود کا۔ میں نے اس کو بھی اصل کے سپرد کر دیا اور اب ظل و اصل کا فرق ہی ختم ہو گیا۔ بخلاف اس حقیقت کے کہ جو چیز ہوتی ہے وہی آئینے میں دکھائی دیتی ہے۔ اور اب بے شک سوائے ہستی صرفہ کے اور کچھ ظاہر نہ ہوا۔ جب میں نے حضور سے یہ بات عرض کی تو حضور نے فرمایا کہ

”اب دائرۂ نفی کہ جس کے تعلق کا شائبہ امکان سے تھا، پورا ہو گیا۔ اس پر خدا کا بہت زیادہ شکر ہے۔ اب اس کے بعد صرف اثبات کا معاملہ رہ گیا ہے جو وجوب سے متعلق ہے۔“

یہ بھی ارشاد ہوا کہ

”اس دائرۂ نفی کے تمام ہونے سے تمہارا نصیبہ جو ولایتِ ابراہیمی (علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام) سے مناسبت رکھتا ہے پورا ہوا، کیونکہ کارخانۂ نفی و اثبات کے رئیس اور اس ولایتِ (ابراہیمی) کے سردار خلیل الرحمٰن ہیں (علیہ و علیٰ نبینا الصلوٰۃ والسلام)“۔

اس بندے نے اس عرض کے بعد ایک واقعے میں بھی دیکھا تھا کہ حضور نے حضرت مخدوم زادہ خواجہ محمد سعید سلّمہ اللہ کو اس فقیر کے ساتھ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے قدموں میں ڈال دیا تھا۔ اور آنحضرت (ابراہیم علیہ السلام) نے بڑی شفقت سے اس بندے کو اپنے آغوشِ مقدّس میں لے کر رخصت فرمایا تھا۔ یہ بات حضور سے عرض کی تھی۔

ایک اور واقعہ جو حضور سے اُن دنوں عرض کیا تھا، یہ تھا کہ حضور اس بندے سے فرما رہے ہیں کہ تمہارا کام اب ذکر نفی و اثبات سے ذکر اثباتِ محض میں آگیا ہے۔ اس واقعے کو سُن کر حضور نے ذکرِ نفی و اثبات سے منع فرمایا تھا اور اسمِ ذات کے ذکر کے لیے اپنی توجہ و تصرّف سے حکم دیا تھا۔ اس کے بعد فرمایا تھا کہ

”معاملۂ نفی میں ایک اور باریک دقیقہ رہ گیا ہے، وہ بھی ظاہر ہونا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ جس طرح کہ عدم، کمالاتِ وجودیہ کے عکوس کا آئینہ ہے اور تم نے اس عکس کو اس فنا میں اس کے اصول میں واصل کردیا ہے، اسی طرح وجود کو صُوَرِ وہمیہ اور احکامِ عدمیہ کا آئینہ سمجھو۔ کیونکہ حق تعالیٰ سوائے اپنی ذات اور اپنے کمالات کے، اور کچھ نہیں دیکھتا ہے۔ لیکن احکامِ (عدمیہ) کو اسی آئینۂ وجود میں ملاحظہ فرماتا ہے۔ اس باریک نقطے کو سمجھو اور اسے حاصل کرو۔ اور ان احکام کو عدم صِرفہ کے حوالے کر کے آئینۂ وجود کو صاف بیں جانو“۔

آپ جیسے قدوۂ اربابِ ارشاد و ہدایت کی عنایتِ محض سے یہ دولتِ عظمیٰ بھی حاصل ہو گئی اور فنائے اتم تک کام پہنچ گیا اور بقا بھی اُس فنا کے مطابق، جلوہ گر ہو گئی۔ اور حضور ہی کی توجّہ خاص سے اُس اسمِ جزئی میں جو کہ مرتبۂ وجوب میں اس حقیر کا مبداء تعیّن ہے بقا حاصل ہوئی اور خود کو جو کہ نابود ہے مگر عدم ہے اس ثبوت کے ساتھ مقیّد پایا اور اس اسم کے ساتھ قائم پایا۔ اور عجیب تر یہ بات ہے کہ اس یافت کے باوجود اس اسم کے انا کا مورد نہ تھا اور اپنے تعیّن کو تشخیصات سے ملحق نہ پایا۔ سوائے اس کے کہ اس اسم کی اُن وہمی صورتوں میں سے جو کہ ظاہر ہوئی ہیں، خود کو بھی ایک صورت پایا۔ جیسا کہ روح الامین (جبریل علیہ السلام)، حضرت وحیہ کلبیؓ کی صورت میں ظاہر ہوئے تھے۔

وَلِلهِ المَثَلُ الاَعلىٰ (اس کے لیے اعلیٰ مثل یعنی صورت ہے) ؎

جنابِ قدس کی صورت نہیں ہے
مگر جلوہ ہے ہر صورت میں اس کا

اس وقت آپ جیسے ابو الوقتِ دو عالم سے (اللہ آپ کا سایہ دائم رکھے) شیخ عطّارؒ کے اس شعر کے معنی پوچھے تھے کہ ؎

پیمبرؐ جیسے سلطاں، فقرِ کُل کو
نہ پائیں گر، تو کیا تیری تک و دَو

جب فقرِ کل نہیں ہے مگر تمام آثارِ امکان و عدم مٹ جاتے ہیں (تو پھر فقرِ کل اور کیا ہے)۔ جب یہ بات حاصل ہو جائے تو گویا فقرِ کل حاصل ہو گیا۔ پس سَرورِ فقراء اور سلطانِ انبیاء علیہ و علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات کو فقرِ کل کیوں حاصل نہیں؟ جب کہ آپؐ کے آستانے میں جھاڑو دینے والے آپؐ کے صدقے میں اس نعمت کے ریزوں سے بہرہ ور ہیں۔ حضور آپ تو ہماری مشکلات کو حل فرمانے والے ہیں، آپ نے (اس شعر کے معنی میں) فرمایا کہ شیخ عطارؒ کی مراد فقرِ کُل سے یہ ہے کہ تعینِ وجودی کی تمیز ہی باقی نہ رہے، یعنی تعیّنِ محمدیؐ نہیں مگر حضرتِ ذات کی تمیزِ علمی (تعیّنؒ محمدیؐ صرف حضرتِ ذات کی تمیزِ علمی ہے) اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی عالی ہمّت نے فقرِ اتم ہی چاہا ہے تا کہ وہ تمیز بھی اٹھ جائے جو محال و مشکل تھی۔ ایسے اسرارِ بُلند کو عُرفاء بخوبی سمجھتے ہیں۔ پس شیخ عطارؒ کا اس طرح کہنا اس معنی میں ہے۔
اس الحاق کے چند روز بعد حضرت مجدّدؒ نے اس غلام سے فرمایا کہ

”تم کو تمہارے مبداء تعیّن سے زبردستی کھینچ کر ہم اپنے مبداء تعیّن میں لے آئے ہیں اور معلوم بھی ہوا کہ تم کو اس میں بقا میسّر ہو گئی ہے“۔

اس کے بعد آپ نے برکاتِ خلّت کے حصول کی خوشخبری بھی سنائی اور اس مسکین نے جو کچھ اس دولت کے حصول سے مطلب سمجھا تھا وہ بھی حضور میں عرض کر دیا تھا اور وہ نسبت جسے آپ نے ملاحت سے تعبیر فرمایا تھا اور جو آپ ہی کی ولایت کے خصائص میں سے ہے وہ بھی آپ نے تمکین لذّت کے ساتھ اس عاشقِ دل فگار کی جراحت پر ڈال دی تھی اور جو کچھ اس کا مطلب مجھے سمجھ میں آیا تھا وہ بھی خدمت میں عرض کر دیا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا کہ

”یہی اشارہ ہے ہمارے مبداء تعیّن کی فنا و بقا کے متعلق کہ یہ نسبت اس کے خصائص میں سے ہے“۔

اور آپ نے عین بندہ پروری سے اس طرح فرمایا کہ

”اگرچہ دوسرے حضرات سالہا سال اس خانقاہ میں رہے ہیں اور بہت کچھ تکلیفیں اٹھائی ہیں لیکن فلاں شخص (محمد ہاشم کشمی) نے تھوڑی تھوڑی مدّت میں ہماری خاص محبت کی وجہ سے ہماری خاص نسبتوں سے حصہ پا لیا ہے۔“

اس کے بعد فرمایا کہ ”اب تم نزول کی طرف رُخ کرو“۔ اور رخصت سے پہلے فرمایا کہ ”نزول بھی ہو گیا اور پھر حصول کی طرف ترقی بھی ہو گئی۔ لیکن ابھی ہماری نظر کشفی میں کوئی خصوصیت ظاہر نہیں ہوئی“۔

اے قبلۂ دو جہانی! اے کعبۂ آمالی و امانی! اللہ پاک آپ کی برکتیں خلائق کے سروں پر ہمیشہ قائم رکھے۔ میرے دل کو جو آرزو مضطرب رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ جُزئی، کُلّی میں بلکہ اس کلی کے مرکز میں جسے ملاحت سے تعبیر کیا گیا ہے ملحق ہو جائے اور وہ ملحق اپنے ملحق میں اپنی خصوصیات کے ساتھ پہنچا دے اور اصل الاصل سے بہرہ ور فرما دے۔ اس سے قبل آپ نے اجمیر شریف میں بھی اس دولت کے حصول کی بشارت دی تھی اور اس کے حصول کو اس غریب کے حق میں محض فضل کے حوالے کیا تھا اور اس کے مثل کو بھی اسی طرح دفترِ حساب میں رکھا تھا۔ اگرچہ اب نسبتِ خلّت سے جسے صباحت کہا جاتا ہے آپ کے صدقے میں یہ فقیر بہرہ ور ہے لیکن میرا مجروح دل اس ملاحت کا طالب ہے۔ یہ رباعی اسی ملاحت کی شورش سے زبان پر آئی ہے:

تری زلف سے سر میں آشفتگی ہے
جنوں کی بھی ایسی نصیحت رہی ہے

ملاحت سے مجروح دل کیا ہوا ہے
کہ اس سے تو محشر بپا ہو گیا ہے

دوسرے معارف جو آپ نے ان دنوں عنایت فرمائے ہیں اگر کسی اور وقت یاد آئے تو خدمتِ اقدس میں عرض کروں گا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سَیر کا رخ باہر کی طرف کم ہے اور عالَم کی طرف توجہ نہیں۔ حالانکہ حضور نے مُریدوں کو تعلیمِ ذکر اور فیض رسانی کے لیے حکم فرمایا تھا لیکن عالَم کی طرف توجّہ نہ ہونے سے اس خدمت میں مناسبت نہیں پاتا۔ اب موجودہ نسبت میں گویا اس حدیث کا ایک راز ہے کہ ” اللہ تعالیٰ ہی تھا اور اس کے ساتھ اور کوئی چیز نہ تھی اور وہ اب بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ پہلے تھا“۔ اور وہ عینِ بقا میں فانی ہے اور عینِ فنا میں باقی ہے۔ یہ آخری فقرہ حضرت خواجہ محمد پارسا قدس سِرُّہٗ کے رسالہ قدسیہ میں ہے جو حضرت غوث العارفین خواجہ بہاء الحق والدین کے کلماتِ مبارکہ سے ماخوذ ہے۔ (پوری عبارت اس طرح ہے)

”جب عارف کا معاملہ یہاں تک پہنچ جائے کہ وہ عینِ فنا میں باقی ہو جائے اور عینِ بقا میں فانی، تو جب وہ عینِ بقا میں فانی ہوتا ہے تو وہ (فنا) علمی ہوتی ہے۔“

لیکن اس حالت میں کہ ”عین فنا میں باقی ہو جائے“، حضرت نے نہیں بتایا کہ یہ بقا، علمی ہے یا اس کی حقیقت کچھ اور ہے۔ میں سمجھ رہا تھا کہ حضرت نے اس کا مقابلہ خود ہی چھوڑ دیا تھا۔ بالآخر ایسا ظاہر ہوا کہ ۔۔۔۔ سالک عین بقا میں فانی ہو جاتا ہے تو اس کے علم میں فنا کی گنجائش تھی کیونکہ معاملہ بقا پر مبنی تھا اور بقا میں علم رہتا ہے۔ مگر جب عینِ فنا میں باقی ہوا تو بقا کا علم نہیں ہو سکتا، کیونکہ ایسی حالت میں علم مفقود ہو جاتا ہے کہ وہ فنا پر مبنی ہوتا ہے۔ اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ علم، فنا کے معاملے کا مُدرک ہے، یعنی جس علم کے ذریعے سے عارف، نسبتِ فنا سے مطّلع ہوتا ہے وہ ایک پرتو ہے اس نُور کا۔ اور وہ علم جو کمالاتِ بقائیہ سے متعلق ہے وہ گویا ”مَا يَجرِي عَلىٰ لِسَانِكَ الاِستِهلَاكُ“ کی جاسوسی کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ نہ یہ کہ وہ علم، سالک سے الحاق پا لیتا ہے۔ بلکہ وہ اپنے ہی مرتبے میں ہے۔ کیونکہ وہ علمِ واجب تعالیٰ ہے۔ اور وہاں سے (اس مرتبے سے) اس معاملے پر نظر رکھتا ہے جس طرح کہ آفتاب کا پرتو گھر کے سوراخ پر پڑتا ہے اور اس کے احوال معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ نورِ خورشید تو اسی طرح اپنے مرتبے میں قائم ہے۔ اس سے زیادہ کیا تعبیر کر سکتا ہوں؟ (اور جو کچھ کر سکتا ہوں وہ صرف) آپ (حضرت مجدد) کے باطنِ اقدس کے فیوضِ علم ہی سے کر سکتا ہوں۔ خدایا! تو میرے علم کو زیادہ کر دے۔

اور آج کل نسبت کا ظہور دو طرح ہو رہا ہے۔ کبھی تو ذکر و فکر، توجہ، نگرانی اور طاعت کے ذریعے سے کہ ان ذرائع سے اس کے لیے راہ کشادہ ہو جاتی ہے، اور کبھی بغیر ان ذرائع کے خود بخود بہت عظیم طریقے سے اس کا ظہور ہوتا ہے اور مَیں اس میں کُلّیۃً محو ہو جاتا ہوں اور میں اس نسبت میں اور اس کی اصل میں مشغول ہو جاتا ہوں۔ یہ دوسری طرح پہلے سے زیادہ لطیف ہے اور اسے سیرِ مرادی و محبوبی اور سیرِ معشوقی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

(دیگر عرض ہے کہ) میں نے ایک رات اس شہر (برہان پور) کے ایک باغ میں تنہا گزاری۔ اس رات ظہورِ کلام سے ایسی نسبت کا فیض ہوا کہ حضور کی خدمت میں بالمشافہ ہی عرض کر سکوں گا۔ یہ تمام برکات، حضور والا کی ایک معمولی سی نظرِ کرم کی وجہ سے ہیں۔ ورنہ مجھ جیسے نالائق اور پست استعداد شخص کو ایسی باتوں سے کیا واسطہ؟

اپنی ہے شطرنج جیسی بُرد مات
یہ بھی صدقے میں ترے اے خوش صفات

اب آپ سے اس بات کی بھیک مانگتا ہوں کہ اس بندے کو اپنی مرضیات کا پابند کرا دیں اور اس سگِ آستانہ کو پھر آستانے پر بُلوا لیں۔

خدا، سر و گلزار تک بھیج دے
مجھے اپنے دلدار تک بھیج دے

مجھے ہے اُسی آستاں کی لگن
چلوں سر کے بل، یار تک بھیج دے

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *