مکتوب شیخ بدر الدین سرہندی: اپنے پیر و مرشد حضرت مجدد الف ثانی کے نام

مکتوب شریف حضرت شیخ بدر الدین بن شیخ محمد ابراہیم سرہندی نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ، خلیفہ امام ربانی مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ

یہ عریضہ آپ نے اپنے پیر و مرشد حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لکھا۔

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: حافظ محمد اشرف نقشبندی مجددی

حوالہ: حضرات القدس دفتر دوم، علامہ بدر الدین سرہندی، ترتیب و ترجمہ حافظ محمد اشرف نقشبندی مجددی، قادری رضوی کتب خانہ، گنج بخش روڈ، لاہور، اشاعت دوم 2010

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


قبلہ من! مراتبِ ترقیات، تقدیس و تنزیہ کی رو سے ہر روز اور ہر ساعت نئے نئے انداز سے ظاہر ہوتے ہیں اور عجیب و غریب باریکیاں اچھوتے طریقوں سے ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ مگر ایک حال کے گزر جانے کے بعد وہ بہت کم یاد رہتا ہے بلکہ فراموش ہو جاتا ہے، اس طرح کہ گویا وہ حال کبھی تھا ہی نہیں۔ پھر یہ کہ عرضداشت کرنے میں دو چیزیں اور بھی مانع ہیں۔ ایک تو یہ کہ مجھے یقین ہے کہ حضور پر منکشف ہو جاتا ہے کہ مریدوں کے احوال کیا ہیں۔ خصوصاً اس حقیر کا حال کہ میں اپنے باطن کو حضور کے باطن کے مقابل پاتا ہوں اور جو کچھ کمالات حضور کے باطن پر وارد ہوتے ہیں وہ اس حقیر کے باطن پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ وجدان میں بھی اور مجمل طریقے پر بھی۔ یعنی جس طرح کہ آئینے میں ایک صورت دوسری صورت کا عکس ہوتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حضور کی کتابوں اور رسالوں میں پڑھا ہے کہ ”احوال و مواجید کا اعتبار نہ کرنا چاہئے بلکہ کمر ہمّت اس مقصد کے لئے باندھنا چاہئے کہ احوال کے بنانے والے تک پہنچا جائے۔“ اسی لیے یہ حقیر اپنے احوال کا چنداں اعتبار نہیں کرتا بلکہ کوشش کرتا ہے کہ احوال بنانے والے کی خوشبو پا جائے۔ اب اس گستاخی کا سبب (یعنی عرض کرنے کا مقصد) یہ ہے کہ کم و بیش ایک ماہ سے اس عالم کو اور ہر وہ چیز جو اس سے پہلے مجھے موجود و متحقق تھی اپنے باطن کی نظر سے دور اور معدوم جاننے لگا ہوں اور اس سے نسیان پیدا ہو گیا ہے۔ استغفر اللہ۔ نسیان کسے تھا کہ نسیان والا ہی موجود نہیں۔ لیکن وہ (حق سبحانہٗ) موجود ہے اس تنزیہ کے ساتھ کہ جس کی تعبیر، قلم کی زبان سے تقریباً محال ہے۔ ہاں اتنا کہا جا سکتا ہے کہ وہاں (تنزیہ میں) حیرت اور نادانی کے سوا کچھ نہیں اور وہاں اثباتِ احکام و اعتبارات اور اوصاف سلبی و ثبوتی، عین زندیقیت ہیں۔ ایسی حالت میں بطور القا یہ ظاہر ہوا کہ یہ فنا، دائرۂ عروج قلب کے پورا ہونے کے بعد ہے۔ اس حالت کی صحت یا خامی کے متعلق اشارت فرمائیں۔ اور اس مقام میں خود کو گناہوں سے محفوظ لوگوں میں دیکھتا ہوں، تو یہ کیا معاملہ ہے؟

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *