مکتوب خواجہ عبداللہ۔ اپنے پیر و مرشد حضرت مجدد الف ثانی کی خدمت میں

مکتوب شریف حضرت خواجہ محمد عبداللہ نقشبندی مجددی المعروف خواجہ خورد رحمۃ اللہ علیہ، فرزند حضرت خواجہ محمد باقی باللہ دہلوی نقشبندی احراری قدس سرہ

یہ عریضداشت آپ نے اپنے پیر و مرشد حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت مبارکہ میں تحریر کی۔

یہ مکتوب شیخ بدر الدین سرہندی نے حضرات القدس میں حضرت خواجہ عبداللہ کے حالات میں نقل کیا ہے۔

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: حافظ محمد اشرف نقشبندی مجددی

حوالہ: حضرات القدس دفتر اول، علامہ بدر الدین سرہندی، ترتیب و ترجمہ حافظ محمد اشرف نقشبندی مجددی، قادری رضوی کتب خانہ، گنج بخش روڈ، لاہور، اشاعت دوم 2010

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


بندۂ مہجور پُر تقصیر محمد عبد اللہ کی عرضداشت یہ ہے کہ آنحضرت کی دعا سے اوقات گرامی سلامتی سے گزر رہے ہیں۔ خادمان حضور سے دوری پر ندامت پشیمانی اس قدر ہے کہ گفت و شنید میں نہیں آ سکتی ہے۔ اتنی شوریدگی اور سرگردانی ظاہر ہوئی کہ اس کا ایک شَمہ بیان نہیں ہو سکتا۔ سراپا درد و اندوہ ہے۔ باوجود اس کے خداوند کریم کا شکر ہے کہ رابطہ باطن کی نسبت میں جس کا حاصل فنا و نیستی ہے، ذاتاً و صفتاً و عیناً و اثراً کوئی فتور نہیں ہے۔ فتور کیونکر ہو سکتا ہے جب کہ وطن اصلی کی طرف رجوع کرنے کے بعد ہوائے غربت سر میں نہیں سما رہی ہے۔ اور اشیائے غریبہ ظاہر ہوتے ہیں اور اسرار عجیبہ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ باطن کو ان میں سے کسی چیز کی طرف التفات نہیں ہے۔ دریائے عدم میں پانی سر سے گزر گیا ہے۔ یہ سب آنحضرت قدس سرہٗ کی خدمت گاری اور غلامی کے طفیل ہے۔ آپ کی ذات مبارک تا قیام قیامت طالبوں اور سالکوں کے سر پر باقی رہے۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *