مکتوباتِ دو صدی، مکتوب ۲۸۔ طاعت و عبادت میں، استقامت کی کوشش، فتوح نذرانہ کے قبول کرنے اور جاہلوں کی جماعت سے دور رہنے میں

مکتوب شریف حضرت شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۷۸۲ھ)

موضوع: طاعت و عبادت میں، استقامت کی کوشش، فتوح نذرانہ کے قبول کرنے اور جاہلوں کی جماعت سے دور رہنے میں

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: سید قسیم الدین احمد شرفی الفردوسی

حوالہ: مکتوباتِ دو صدی، اردو ترجمہ سید قسیم الدین احمد شرفی الفردوسی، مکتبۂ شرف بیتُ الشرف خانقاہ معظم، بہار شریف (نالندہ)، انڈیا، اشاعت دوم ستمبر ۲۰۰۴

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


طاعت و عبادت میں، استقامت کی کوشش، فتوح نذرانہ کے قبول کرنے اور جاہلوں کی جماعت سے دور رہنے میں


بِسمِ اللهِ الرّحمٰنِ الرّحيمِ

تم جانو! اللہ تعالیٰ تمہیں سعادت عطا فرمائے۔

اے بھائی! اس کام میں اصل چیز استقامت (ثابت قدمی، ہمیشگی) ہے۔ جو عمل بھی اختیار کیا جائے، اس میں استقامت بہت ہو، اگرچہ معمولات تھوڑے ہوں۔ کیونکہ تھوڑے معمولات استقامت کے ساتھ بہت ہیں، اور بہت زیادہ ورد و وظائف و مشغولی بغیر استقامت بہت کم ہے۔ چنانچہ یہ قصہ مشہور ہے: ایک چور کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ وہ دار پر لٹکا ہوا تھا۔ امام شبلی رحمۃ اللہ علیہ کا ادھر سے گزر ہوا۔ حضرت نے اپنی دستارِ مبارک سر سے اتاری اس کے آگے ڈال دی اور اس کے پاؤں کو بوسہ دیا اور روانہ ہو گئے۔ ایک عزیز نے اس راز کو پوچھا، آپ نے جواب دیا ؎

هر که او درکار خود باشد تمام
جان خود درکار بازد والسّلام

چون تمام افتاد او درکار خویش
زان نهادم پیشِ اُو دستار خویش

چون بدیدم دارِ چوبین جائے او
بوسه زان دادم بسے بر پائے او

مرد باید خواه خواص و خواه عام
کو بود در فن و کار خود تمام

(جو شخص اپنے کام میں ثابت قدم، کامل ہوتا ہے وہ اپنے اس کام میں جان کی بازی لگا دیتا ہے۔ چوں کہ وہ اپنے فن میں کامل و ثابت قدم تھا اس کے اسی کمال و استقامت کی دید دینے کے لیے اس کے سامنے میں نے اپنی دستار پیش کر دی۔ جب میں نے اس کی جگہ لکڑی کے دار پر دیکھی یعنی اپنے پیشہ کی استقامت میں سر اس نے دے دیا تو میں نے اس کے پاؤں کے بوسے دیئے۔ آدمی کو اپنے کام اور اپنے فن میں مرد کامل ہونا چاہئے، خواہ خاص ہو خواہ عام۔)

اربابِ معانی کا یوں ارشاد ہے کہ آدمی کی نگاہ معانی کی طرف ہونی چاہئے، صورت و ظاہر کی طرف نہیں۔

اور اگر درویش اور عزیزاں کچھ پیش کریں یا بھیج دیں تو یقیناً قبول کرنا چاہئے، اس میں کوئی عیب نہیں ہے، بزرگوں نے ایسا ہی کیا ہے۔ لیکن اگر اس نذرانہ و تحفہ سے کوئی خرابی پیدا ہونے کا احتمال ہو تو اس بنا پر قبول نہ کریں اور اس رد میں کوئی حرج نہیں ہے۔ عمل ایسے شخص کی باتوں پر کرنا چاہئے کہ جو علم و عمل سے آراستہ ہو اور اس جماعت صوفیاء کے مذہب کو جانتا ہو، اس راہ کے فروع و اصول میں استاد کا درجہ رکھتا ہو، مشائخ کے کلمات اور ان کے عبارات و اشاروں کو سنّت و جماعت کے قاعدہ و قانون کے تحت پورے طور پر سمجھتا ہو اور ہر کام کے فوائد و آفات اور اعمال و اخلاق کو خراب کرنے والی چیزوں سے اور مبتدی، متوسط، منتہی کے احوال سے اچھی طرح واقفیت حاصل کئے ہوئے ہو۔ ؎

عاشقانند لیک در رهِ او
ز خود و راہِ عشق بے خبر اند

تا بسد ره چو جبرئیل امین
به پر همت اے پسر بپرند

(یہ لوگ عاشقوں میں ہیں لیکن یہ ایسے عشاق ہیں کہ جو اس کی راہ میں اپنے آپ سے اور عشق سے، اور عشق کی راہ سے بالکل بے خبر ہیں۔ اے لڑکے! سُن لے اس کے یہ عشاق جناب جبرائیل امیں کی طرح سدرہ تک ہمت کے پروں سے پرواز کرتے ہیں۔)

اور جاہلوں کی جماعت، ظاہر پرستوں، جھوٹے دعویٰ کرنے والوں اور فضولیوں سے خود کو محفوظ رکھنا چاہئے۔ ان کے واہیات و خرافات میں مشغول نہیں ہونا چاہئے۔ ایسے لوگوں کی صحبت سے خود کو بہت دور رکھنا چاہئے۔ آج کل سارے جہاں میں ایسے ہی لوگوں کی کثرت ہے، جیسا کہ کہا ہے ؎

مرد صورت پرست کس نبود
هوشِ او جُز سوئے هوس نبود

هیچ معنی نه دیده ام ز خسان
گر تو دیدی سلامِ من به رَسان

(ظاہر پرست آدمی کسی لائق نہیں ہوتا، ایسوں کو ہوس کے سوا اور کسی چیز کا ہوش ہی نہیں رہتا۔ خسیس لوگوں میں مَیں نے کوئی معنی نہیں دیکھا، اگر تم نے دیکھا ہے تو میرا سلام پہنچانا۔)

اگر خلوت و گوشہ نشینی میسّر ہو تو لوگوں کے میل جول سے پرہیز کرنا چاہئے۔ مِلنا جُلنا، اختلاط اتنا بھر کہ حقداروں کے حقوق ادا ہو سکیں اور اس میں کسی قسم کا خلل و نقصان نہ ہونے پائے۔ اور درویشوں، عالموں، عاملوں، عارفوں کی صحبت میسّر ہو تو اسے غنیمت سمجھیں اور ان کی خدمت کو دونوں جہاں کی سر بلندیوں کا سبب اور اپنے کاموں کا فتح باب جانیں۔ عاقبت و خاتمت بخیر ہو۔ اس کے ساتھ اپنا طاقیہ بھیج رہا ہوں۔

والسّلام

حقیر شرف منیری

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *