مکتوب خواجہ محمد صادق سرہندی ۱۔ اپنے پیر و مرشد کے نام

مکتوب شریف حضرت خواجہ محمد صادق سرہندی فاروقی نقشبندی (وفات ۱۰۲۵ھ)، فرزند اکبر حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ

عریضہ اول۔ اپنے والد اور پیر و مرشد کی خدمت میں ارسال کیا۔

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: مولانا سید زوار حسین شاہ نقشبندی

حوالہ: مکتوبات امام ربانی دفتر اول، مترجم مولانا زوار حسین شاہ نقشبندی، ادارہ مجددیہ، ناظم آباد، کراچی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


کمترین بندہ محمد صادق خدمتِ عالی میں عرض کرتا ہے کہ اس علاقہ کے احوال و اوضاع حضور کی عالی توجہ کی برکت سے ظاہری و باطنی سکون کے ساتھ گزر رہے ہیں۔ عرصے سے حضرت کے خادموں کی طرف سے دل متفکر اور پریشان رہتا تھا کہ اس عریضہ کے تحریر کے دن میاں بدر الدین پہنچے اور تمام حضرات کی خیر و عافیت معلوم ہوکر بے حد فرحت اور بہت زیادہ خوشی حاصل ہوئی۔ الحمد لله سبحانه علىٰ ذٰلك حمدًا كثيرًا كثيرًا (اللہ سبحانہٗ کی حمد ہے اس پر اور بہت زیادہ حمد ہے)

میرے قبلہ! حافظ بہاء الدین نے تیرہویں (۱۳) شب کو قرآن مجید ختم کیا اور چودھویں (۱۴) شب سے حافظ موسیٰ نے شروع کیا ہے۔ پانچ پانچ پارے پڑھتے ہیں، آئندہ شب کو جو انیسویں (۱۹) شب ہے، ختم ہو جائے گا۔ اور آخری عشرہ کے لئے حافظ بہاء الدین نے ذمہ لیا ہے وہ ختم کریں گے۔

حضرت سلامت! ایک رات تراویح میں حافظ قرآن پڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک نہایت وسیع اور بہت نورانی مقام ظاہر ہوا گویا کہ وہ ”حقیقتِ قرآنی“ کا مقام تھا۔ اگرچہ میں اس کی جرأت نہیں کر سکتا، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ ”حقیقتِ محمدی“ علىٰ صاحبها الصلوٰة والسلام اس مقام کی اجمال ہے گویا کہ دریائے عظیم کو کوزہ میں بند کر دیا گیا ہے، اور یہ مقام ”حقیقتِ محمدی“ کی تفصیل ہے اور اکثر انبیاء اور اولیائے کاملین اپنی اپنی قدر کے مطابق اس مقام سے بہرہ مند ہو رہے ہیں اور اس مقام کا کامل اور تمام حصہ ہمارے پیغمبر عليه وعلىٰ آله الصلوٰة والسلام کے علاوہ کسی اور کے لئے معلوم نہیں ہوتا۔ اور یہ حقیر بھی اس سے بہرہ مند ہوا۔ حق سبحانہٗ و تعالیٰ حضرت عالی کی برکت سے کامل حصہ عطا فرمائے، ابھی تک وہ مقام اچھی طرح واضح نہیں ہوا ہے۔

باقی احوال جمعیت و سکون سے گزر رہے ہیں اور اس ماہِ معظم (رمضان المبارک) میں بہت زیادہ برکت معلوم ہوتی ہے۔

برادرم محمد سعید کے احوال بہت اچھے ہیں اور ان کے اوقات دل کی جمعیت اور ذکر کے ساتھ گزر رہے ہیں۔ شہر کے یارانِ طریقت بھی کامل ذوق کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔ حقیر نے چار پاروں سے کچھ زیادہ حفظ کر لیا ہے، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ عید تک پانچ پارے حفظ ہو جائیں گے۔

زیادہ آداب و سلام۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *