مکتوب مفتی ارشاد حسین مجددی۔ بنام کریم شاہ صاحب

مکتوب شریف حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ارشاد حسین مجددی رامپوری نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۱۳۱۱ھ)، خلیفۂ مجاز حضرت شاہ احمد سعید مجددی قدس سرہ

جناب کریم شاہ صاحب کے نام تحریر فرمایا۔

زبان: فارسی

حوالہ: مولانا ارشاد حسین مجددی رامپوری، تصنیف: فقیر نوری سید شاہد علی رضوی رامپوری، ناشر: خانقاہِ عالیہ قادریہ رضویہ نوریہ جمالیہ، لال مسجد، رامپور شریف، یوپی، انڈیا، ستمبر ۱۹۸۹

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


بسم الله الرحمٰن الرحيم

الحمد لله وسلام علىٰ عباده الذين اصطفىٰ

از محمد ارشاد حسین عفی عنہ

عزیزی و احبی میاں کریم شاہ! وفقه الله سبحانه۔

دعا کے بعد معلوم ہو کہ علی سقائے مدنی، کہ جو سرکاری سبیل للّٰہی مدینہ منورہ میں اس سے متعلق ہے، سالانہ عطیات سرکار سے حاصل کرنے کے لیے حاصل ہوا تھا کہ راستے میں سخت بیمار ہو گیا اور مدینہ منورہ واپس چلا گیا۔ تبرکات اور اپنی عرضی میرے (فقیر) حوالے سے سرکار کو بھیجی ہے۔ لہٰذا تبرکات اور عرضی اس کی بھیجی جا رہی ہے سرکارِ عالی کے ملاحظہ سے گزار دی جائے، اور جو کچھ حکم بھی اس کی عرضی پر جاری ہو اس سے مطلع کریں۔

اور یہ کہ سابق جیلر حافظ امان اللہ خان کا حساب جیل خانہ کے بارے میں پیش ہوا ہے، وہ ان دونوں محررانِ جیل خانہ و فوجداری کی وجہ سے ہے جو قریبی رشتہ دار ہیں لالہ مدن لعل اور دیوان جامگی پرشاد کے اور کوئی بھی شخص امان اللہ خان کے عذر پر کان نہیں دھرتا عملہ فوجداری اور محکمہ صدر کا۔ حالانکہ ان کے عذر واقعی قابلِ سماعت ہیں۔ اور محکمۂ صدر کے حاکم کی رائے اس کے عملہ کی رائے کے مطابق آغا غنی کو جیلری کے کام پر مقرر کرانے میں حافظ صاحب کی تذلیل اور خرابی ہے۔ چنانچہ ضمانت حاضری و مالی دے دینے کے بعد بھی آج انہیں حوالات میں مقید کردیا ہے۔ جب تک کہ سرکار خود انصاف کی نظر سے اور غریب نوازی کے طور پر بہ نفسِ نفیس اس کے عذر ملاحظہ نہیں فرمائیں گے اور اپنے حضور طلب کر کے اس کا بیان نہ سماعت فرمائیں گے تو نام بردہ (حافظ امان اللہ خان) تمام اہلِ عملہ کے اتفاق کر لینے کی وجہ سے ہلاک ہوجائے گا۔ لہٰذا اس کا حال سرکار کی سماعت تک پہنچنا ضروری ہوا۔ اس لیے کہ کل اہلِ عملہ کی جانب سے اس کے (امان اللہ خان) کے بارے میں رپورٹ پیش  ہونا ہے۔ فقط

اور دعا (کی درخواست)

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *