مکتوب حضرت غوث اعظم ۱۳۔ آیتِ ”نور السماوات و الارض“ کے اشاروں اور دوسری آیت کے اسرار میں

مکتوب مبارک حضرت محبوبِ سبحانی غوثِ صمدانی غوثِ اعظم سیدنا و مرشدنا سید عبد القادر جیلانی بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (وفات ۵۴۱ھ)

حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف صادر فرمایا۔ آیتِ ”نور السماوات و الارض“ کے اشاروں اور دوسری آیت کے اسرار میں۔

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: قاضی سید شاہ اعظم علی صوفی قادری (اردو ترجمہ میں مکتوب ۱۴)

حوالہ: مکتوباتِ غوثِ اعظم اردو، مترجم قاضی سید شاہ اعظم علی صوفی قادری، مکتبہ صوفیہ، تصوف منزل، قریب ہائیکورٹ، حیدرآباد، آندھرا پردیش، انڈیا، مارچ ۱۹۹۰

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


اے عزیز!

(اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ سورۃ النور، ۳۵)

کے انوار کی تابانیاں ضمیروں کے چراغ سے جلوہ گر ہوتی ہیں تو اس کی تاثیر سے دل کی قندیل پوری روشن ہو جاتی ہے گویا کہ

(وہ چراغ ایک فانوس میں ہے، وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے موتی سا۔ سورۃ النور، ۳۵)

اور

(جو نہ پورب کا ہے نہ پچھم کا۔ سورۃ النور، ۳۵)

کے بادل کے گرد و غُبار میں سے

(چمکتا روشن ہوتا ہے برکت والے پیڑ سے۔ سورۃ النور، ۳۵)

والی کشوف کی بجلیاں چمکتی ہیں اور تیری فکر کی قندیلوں کو

(قریب ہے کہ اس کا تیل بھڑک اٹھے۔ سورۃ النور، ۳۵)

سے روشن کرتی ہیں اور باطن کے آسمان کو

(اور ستارے سے وہ راہ پاتے ہیں۔ سورۃ النحل، ۱۶)

کی حکمتوں کے تاروں سے پوری طرح سجاتے ہیں گویا کہ

(اور بے شک ہم نے نیچے کے آسمان کو تاروں کے سنگار سے آراستہ کیا۔ سورۃ الصافات، ۶)

اور حضوری کے چاند

(نور پر نور ہے۔ سورۃ النور، ۳۵)

کی اُفق سے نمودار ہوتے ہیں اور استعلا کے بُرجوں پر بلند ہوتے ہیں گویا کہ

(اور چند کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کیں۔ سورۃ یٰسٓ، ۳۹)

اور غفلت کے راتوں کے پردہ کو

(اور رات کی قسم جب چھا جائے۔ سورۃ اللیل، ۱)

کی صفت عطا کرتے ہیں اور

(پچھلے پہر سے معافی مانگنے والے۔ سورۃ آل عمران، ۱۷)

والی نعمتوں کے باغ کی خوشبو مشک بار کر دیتی ہے اور

(وہ رات میں کم سویا کرتے ہیں۔ سورۃ الذاریات، ۱۷)

کے درختوں کی بلبلیں غمگیں نغموں کے ساز چھیڑتے ہوئے رنج کا اظہار کرتے ہیں اور

(اللہ اپنے نور کی راہ جسے چاہتا ہے بتاتا ہے۔ سورۃ النور، ۳۵)

کی دولت والی صبح روشن ہوتی ہے اور معارف کے سورج

(جسے اللہ راہ دے وہی راہ پر ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل، ۹۷)

کے مطالع سے طلوع ہوتے ہیں اور

(سورج کو نہیں پہنچتا کہ چاند کو پکڑ لے اور نہ رات دن پر سبقت لے جائے، اور ہر ایک ایک گھیرے میں پیر رہا ہے۔ سورۃ یٰسٓ، ۴۰)

کے راز ہائے سربستہ بالآخر منکشف ہو جاتے ہیں اور

(اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ سورۃ النور، ۳۵)

کے اسرار کی گہرائیوں کے نکتے مشکلات کے پردوں میں سے باہر اور ظاہر ہو جاتے ہیں۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *