مکتوب حضرت غوث اعظم ۱۴۔ معارف دین کی کمالیت اور اس کی نشانیوں کے بیان میں

مکتوب مبارک حضرت محبوبِ سبحانی غوثِ صمدانی غوثِ اعظم سیدنا و مرشدنا سید عبد القادر جیلانی بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (وفات ۵۴۱ھ)

حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف صادر فرمایا۔ معارف دین کی کمالیت اور اس کی نشانیوں کے بیان میں۔

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: قاضی سید شاہ اعظم علی صوفی قادری (اردو ترجمہ میں مکتوب ۱۵)

حوالہ: مکتوباتِ غوثِ اعظم اردو، مترجم قاضی سید شاہ اعظم علی صوفی قادری، مکتبہ صوفیہ، تصوف منزل، قریب ہائیکورٹ، حیدرآباد، آندھرا پردیش، انڈیا، مارچ ۱۹۹۰

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


اے عزیز! معرفت کا آفتابِ عالم تاب

(آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا۔ سورۃ المائدہ، ۳)

کے کمال والے برجوں میں پہنچتا ہے اور محبت کا نصف النہار سورج چمکتا ہے

(اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی۔ سورۃ المائدہ، ۳)

کے معارف کی بلندیاں پروان چڑھتی ہیں

(اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا۔ سورۃ المائدہ، ۳)

کے انوار کی بجلیاں چمکتی ہیں اور

(تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا تو وہ اپنے ربّ کی طرف سے نور پر ہے۔ سورۃ الزمر، ۲۲)

کی نشانیوں کے شواہد

(بے شک میرے پاس تیرے رب کی طرف سے حق آیا ہے۔ سورۃ یونس، ۹۴)

کے عظیم مشاہدوں سے نظر نواز ہوتے ہیں اور

(اور آسمان اور زمین کے خزانے اللہ کے لئے ہیں۔ سورۃ المنافقون، ۷)

کے اسرار کی پاکیزگیوں کے نکتوں سے روشناس کراتے ہیں اور

(اور یقین والوں کے لئے زمین میں نشانیاں ہیں اور خود تم میں، تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں۔ سورۃ الذاریات، ۲۱، ۲۲)

کے حقائق کی باریکیوں سے باخبر کرتے ہیں اور

(تو تم جدھر منہ کرو اُدھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت) تمہاری طرف متوجہ ہے۔ سورۃ البقرہ، ۱۱۵)

کے رموز اور اشاروں سے آشنائی عطا کرتے ہیں۔

(اور ہم نے ہوائیں بھیجیں۔ سورۃ الحجر، ۲۲)

کے فیض کی بادِ صبا اور

(ہم اپنی رحمت جسے چاہیں پہنچائیں۔ سورۃ یوسف، ۵۵)

کے فضل کی ہواؤں کے جھونکے

(اور اپنے بندوں پر لطف فرماتا ہے۔ سورۃ الشوریٰ، ۱۹)

کے مقام سے

(ہم ان کے اجر ضائع نہیں کرتے جن کے کام اچھے ہوں۔ سورۃ الکہف، ۳۰)

کے باغوں کی جانب چلنے لگتے ہیں اور

(بے شک اللہ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور نیکیاں کرتے ہیں۔ سورۃ النحل، ۲۸)

کے باغ کے درخت شہود کے پتوں اور تجلی کے پھلوں سے سرتاپا ہرے بھرے اور میوہ دار ہو جاتے ہیں اور

(یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔ سورۃ المائدہ، ۵۴)

والے وصول کے چشمے

(اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ سورۃ آل عمران، ۷۴)

والے پہاڑوں کی بلندیوں کی جانب سے دلوں کی وادیوں کے راستے کی طرف بہہ نکلتے ہیں۔ پوشیدہ احوال کی خبر دینے والے اس طرح خبر دیتے ہیں کہ

(بے شک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے، عنقریب ان کے لئے رحمت والا محبت کر دے گا۔ طٰہٰ، ۹۶)

اور اقبال کی بشارت دینے والے یوں خوشخبری سناتے ہیں کہ

(ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف ہے نہ تم کو غم ہوگا۔ سورۃ زخرف، ۶۸)

اور

(پاکیزہ شہر اور بخشنے والا رب۔ سورۃ سبا، ۱۵)

کے گھروں سے رضوان

(ان پر سلام ہوگا مہربان رب کا فرمایا ہوا۔ سورۃ یٰسٓ، ۵۸)

والے تحیات کے تحفوں کے ساتھ آ پہنچتا ہے اور وصول کے باغوں کے دروازے کھول دیتا ہے اور

(اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔ سورۃ المائدہ، ۱۱۹)

کی نعمتوں کا خوان سامنے کھولتا ہے اور کہتا ہے

(اور تمہارے لئے ہے اس میں جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لئے اس میں جو مانگوں مہمانی بخشنے والے مہربانی کی طرف ہے۔ سورۃ حٰمٓ سجدہ، ۳۱)۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *