مکتوب حضرت غوث اعظم ۱۵۔

مکتوب مبارک حضرت محبوبِ سبحانی غوثِ صمدانی غوثِ اعظم سیدنا و مرشدنا سید عبد القادر جیلانی بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (وفات ۵۴۱ھ)

حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف صادر فرمایا۔

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: قاضی سید شاہ اعظم علی صوفی قادری (اردو ترجمہ میں مکتوب ۱۶)

حوالہ: مکتوباتِ غوثِ اعظم اردو، مترجم قاضی سید شاہ اعظم علی صوفی قادری، مکتبہ صوفیہ، تصوف منزل، قریب ہائیکورٹ، حیدرآباد، آندھرا پردیش، انڈیا، مارچ ۱۹۹۰

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


اے عزیز! چاہئے کہ تیرا نفس خالص ہو، تا کہ

(بے شک مراد کو پہنچایا جس نے اسے ستھرا کیا اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا۔ سورۃ الشمس، ۹، ۱۰)

کے اسرار کی گہرائیوں سے واقف ہو، اور

(جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے، مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر۔ سورۃ الشعراء، ۸۹)

کے انوار کی تابانیوں سے قلب سلیم روشنی حاصل کرے اور

(اس میں اپنی طرف کی خاص معزز روح پھونک دوں۔ سورۃ الحجر، ۲۹)

والی پھونکوں کی ہواؤں سے اس کی مشام میں ایک خوشبو مہک اُٹھے اور

(وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہوا ہے۔ سورۃ طٰہٰ،  ۷)

کے راز کی سربستگیوں کے حقائق کی باریکیوں سے ہمکنار ہو جائے اور

(اللہ سے ڈرو اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے۔ سورۃ البقرہ، ۲۸۲)

کے مدرسہ میں عشق کی تلقین کرے شاید کہ

(اے محبوب فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ، اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔ سورۃ آل عمران، ۳۱)

کے رموز اور اشارات کا شعور حاصل ہو جائے اور

(کہ وہ اللہ کے پیارے ہیں اور اللہ ان کا پیارا ہے۔ سورۃ المائدہ، ۵۴)

کے پیالے کے ایک گھونٹ سے اس کو سیراب کریں اور

(نِتھری شراب پلائے جائیں گے جو مہر کی ہوئی رکھی ہے۔ اس کی مہر مشک ہے۔ سورۃ المطففین، ۲۵، ۲۶)

کی شراب سے سرشار مستانوں کی محفل میں اس کا استقبال کریں

(جب ان کے چہروں میں چین کی تازگی پہچانے۔ سورۃ المطففین، ۲۴)

کے آئینہ میں ان لوگوں کے حال کے جمال کا مشاہدہ یوں کرتا ہے جیسا کہ

(یہ ہے وہ جس کا رحمٰن نے وعدہ دیا تھا اور رسولوں نے حق فرمایا۔ سورۃ یٰسٓ، ۵۲)
تو حسرت سے

(اور ہمیں کیا ہوا کہ اللہ پر بھروسہ نہ کریں، اس نے تو ہماری راہیں دکھا دیں۔ سورۃ ابراہیم، ۱۲)

پڑھتا ہے اور نہایت نیاز مندی کے ساتھ مناجات کرتے ہوئے یوں عرض کرتا ہے:

(اے رب ہم نے اپنا آپ برا کیا، تو اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں ہوئے۔ سورۃ الاعراف، ۲۳)۔

جب

(تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور مسلمانوں کو ایسی ہی نجات دیں گے۔ سورۃ الانبیاء، ۸۸)

والے بادِ نسیم کے جھونکے خوب چلنے لگتے ہیں اور

(تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم میں رحمت لازم کرلی۔ سورۃ الانعام، ۵۴)

والی عنایت کی بجلیاں چمکتی ہیں، بجلی کو پھیلانے والا زبانِ حال سے

(اور اللہ سے اس کا فضل مانگو۔ سورۃ النساء، ۳۲)

کی نِدا کرتا ہے اور کہتا ہے

(اور اللہ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ سورۃ البقرہ، ۱۰۶)۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *