مکتوب حضرت غوث اعظم ۱۸۔ توحید اور اس کے فائدوں کے بیان میں

مکتوب مبارک حضرت محبوبِ سبحانی غوثِ صمدانی غوثِ اعظم سیدنا و مرشدنا سید عبد القادر جیلانی بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (وفات ۵۴۱ھ)

حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف صادر فرمایا۔ توحید اور اس کے فائدوں کے بیان میں۔

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: قاضی سید شاہ اعظم علی صوفی قادری (ترجمہ میں مکتوب ۱۲)

حوالہ: مکتوباتِ غوثِ اعظم اردو، مترجم قاضی سید شاہ اعظم علی صوفی قادری، مکتبہ صوفیہ، تصوف منزل، قریب ہائیکورٹ، حیدرآباد، آندھرا پردیش، انڈیا، مارچ ۱۹۹۰

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


اے عزیز! دلوں کے مشرقوں کی اُفق سے صبحِ توحید کی روشنی کا پھیلنا ظاہر ہوتا ہے گویا کہ

(اور صبح کی جب دم لے۔ سورۃ کورت، ۱۸)

اور روح کے باطن کے آسمانوں پر عین الیقین کے سورج بلند ہوتے ہیں، گویا کہ

(اور سورج چلتا اپنے ایک ٹہراؤ کے لئے۔ سورۃ یونس، ۳۸)

بشریت کے وجود کی تاریکیاں

(ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آگے اور ان کے داہنے۔ سورۃ تحریم، ۸)

کے انوار اور تابانیوں کی روشنی میں چھپ جاتی ہیں اور

(رات لاتا ہے دن کے حصہ میں۔ سورۃ فاطر، ۱۳)

کا راز ظاہر ہوتا ہے اور

(اللہ مسلمانوں کا والی ہے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے۔ سورۃ البقرہ، ۲۵۷)

کی پچھلی عنایت سامنے بے نقاب ہوتی ہے

(اور شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔ سورۃ الاعراف، ۲۲)

والے شیطان کا لشکر

(تو تم بھی اسے دشمن سمجھو، سورۃ فاطر، ۶)

کے معرکہ میں

(لوگوں کے لئے ان خواہشوں کی محبت عورتوں اور بیٹوں سے آراستہ کی گئی۔ سورۃ آل عمران، ۱۴)

والے اپنے سپاہیوں کے ہمراہ دل کے لشکر کے ساتھ برسر پیکار ہوتا ہے۔ وہ لوگ صدقِ حال کے ساتھ اضطرار کی زبان سے پڑھتے ہیں کہ

(اور میرا سینہ تنگی کرتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ سورۃ الشعراء، ۱۳)

اور نہایت عاجزی کے ساتھ درخواست کرتے ہیں کہ

(اور ہمیں معاف فرما دے اور بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو ہمارا مولٰی ہے تو کافروں پر ہمیں مدد دے۔ سورۃ البقرہ، ۲۸۶)۔

(اور اسی کے پاس عیب کی کنجیاں ہیں۔ سورۃ الانعام، ۵۹)

کا ہاتف نِدا کرتا ہے کہ

(اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ، تم ہی غالب آؤ گے۔ سورۃ آل عمران، ۱۳۹)

(اور بے شک ہمارا ہی لشکر غالب آئے گا۔ سورۃ الصافات، ۱۷۳)

کی فوجوں کی امداد

(جب اللہ کی مدد اور فتح آئے، سورۃ النصر، ۱)

کے پرچموں کے ساتھ آ پہنچتی ہے اور

(بے شک ہم نے تمہارے لئے فتح دی۔ سورۃ الفتح، ۱)

کا ہر اول دستہ

(بے شک ضرور ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد کریں گے۔ سورۃ المؤمن، ۵۱)

کی تلواروں کو

(ہم جسے چاہیں درجے بلند کریں۔ سورۃ یوسف، ۷۶)

کی نیام سے نکالتا ہے اور دشمنوں کے لشکر پر حملہ کرتا ہے اور

(تو انہوں نے اللہ کے حکم سے ان کو بھگا دیا۔ سورۃ البقرہ، ۲۵۱)

کی نشانیاں بالآخر ظاہر ہوتی ہیں اور

(اللہ کی مدد اور جلد آنے والی فتح۔ سورۃ الصف، ۱۳)

کی خبریں مسلسل گردش کرتی ہیں اور اس حالت میں منادی پکارتا ہے کہ

(یوں عرض کر اے اللہ ملک کے مالک تو جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔ ساری بھلائی تیرے ہاتھ ہے، بے شک تو سب کچھ کر سکتا ہے۔ سورۃ آل عمران، ۲۶)۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *