مکتوب حضرت غوث اعظم ۱۷۔ دعوتِ فکر و نظر

مکتوب مبارک حضرت محبوبِ سبحانی غوثِ صمدانی غوثِ اعظم سیدنا و مرشدنا سید عبد القادر جیلانی بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (وفات ۵۴۱ھ)

حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف صادر فرمایا۔

موضوع: دعوتِ فکر و نظر

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: عبد الحمید قادری

(باقی تمام مکتوبات سید اعظم علی صوفی کے اردو ترجمہ سے لیے گئے ہیں، لیکن یہ مکتوب شریف اس اشاعت میں شامل نہیں تھا، اس لئے دوسرے ترجمہ سے لیا گیا۔)

حوالہ: مکتوباتِ غوثیہ، کاوش: عبد الحمید قادری، القلم پبلشرز، لاہور، ۲۰۱۰

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


اے عزیز! کب تک تو افلاک کے نگار خانہ عجائب و غرائب

(تو کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا کہ ہم نے اسے کیسا بنایا۔ سورۃ قٓ، ۶)

میں گم رہے گا؟ اس کی نیرنگیوں سے عبرت حاصل کر جو کہ

(اور اسے سنوارا اور اس میں کہیں رخنہ نہیں۔ سورۃ قٓ، ۶)

کے لطائف کے لائحہ عمل کے طور پر مرقوم ہیں؛ تمہیں چاہئے کہ ان قوانین کا بصیرت کی نگاہوں سے مطالعہ کرو اور خیابان غرائب

(اور زمین کو ہم نے پھیلایا۔ سورۃ قٓ، ۷)

پر غور و فکر کرو اور

(اور اس میں لنگر ڈالے۔ سورۃ قٓ، ۷)

میں پنہاں نشانیوں کو عبرت کی نگاہوں سے دیکھو۔ اور

(اور اس میں ہر جگہ بارونق جوڑا اگایا۔ سورۃ قٓ، ۷)

کے پیڑوں کی ثمر بار شاخوں

(سوجھ اور سمجھ ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے۔ سورۃ قٓ، ۸)

کے پھل سے بہرہ مند ہوا، اور پھر

(اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا۔ سورۃ قٓ، ۹)

کے گہرے سمندر کے سرچشمہ آب حیات سے مبارک مشروب طلب کر اور عشق و محبت کے ہاتھوں سے اس ساغر حیات آفریں کو تھام کر نوش کر تاکہ تیرے دل کی وادیوں میں تیرے اعمال کی خشک کھیتی سیراب ہوکر

(تو اس سے باغ اگائے اور اناج کہ کاٹا جاتا ہے۔ سورۃ قٓ، ۹)

سر سبز و شاداب ہوجائے اور تیرا نخلستانِ مقصود مراد کی شاخوں سے

(اور کھجور کے لمبے درخت جن کا پکا گابھا بندوں کی روزی کے لیے ہے۔ سورۃ قٓ، ۱۰)

بار آور ہوجائے اور پردہ غیب سے

(اور ہم نے اس سے مردہ شہر کو زندہ کر دیا۔ سورۃ قٓ، ۱۱)

کے اسرار و رموز تم پر ظاہر ہونے لگ جائیں۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *