مکتوب شاہ عبدالعزیز دہلوی: بنام حضرت شاہ غلام علی دہلوی مجددی

مکتوب شریف حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی نقشبندی (وفات ۱۲۳۹ھ) رحمۃ اللہ علیہ، فرزند و جانشین حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ

دو تصانیف اور ان کے مصنفین کے بارے میں

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: مولوی محمد سلیمان بدایونی و مولوی محمد جمیل الدین بدایونی

حوالہ: فضائل صحابہ و اہل بیت مع مکتوبات شاہ عبدالعزیز و شاہ رفیع الدین دہلوی، قومی کتب خانہ، لاہور، فروری ۱۹۶۷

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


شاہ صاحب عرفان مراتب، اللہ آپ کو سلامت رکھے۔

سلام مسنون کے بعد واضح ہو کہ ”معارف القدس“ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ہے، نفس اور اس کی قوتوں کی شناخت اور اس کے اخلاق کے سنوارنے اور ان کے فساد کی درستی کے بارے میں، لیکن یہ حکمت کے طور پر بیان کئے گئے ہیں اور اس میں تھوڑی آمیزش تصوف اور سلوک کے قواعد کی بھی ہے۔ اور کتاب ”الطاف القدس فی معرفۃ النفس“ ولی نعمت علیہ الرحمۃ (یعنی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی) کی تصنیف ہے، اس میں تصوف اور سلوک کے قاعدوں کے مطابق لطائف نفس کی شناخت کرنا ہے۔ بالفعل یہ دوسرا طریقہ زیادہ فائدہ مند اور سہل ہے۔ اگر مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو الطاف القدس کو پڑھئے، کتاب معارج القدس میں انتہائی دشواریاں ہیں اور اس زمانہ میں اس کے مطالب پر غور کرنا مشکل ہے۔
دعائے مراتب عرفان و کمال کے سوا کیا لکھوں۔

والسلام

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *