مکتوب شیخ عبدالنبی شامی ۱۔ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ احسنیہ کے بارے میں

مکتوب شریف حضرت شیخ عبدالنبی شامی نقشبندی احسنی (وفات ۱۱۴۶ھ)،

سلسلہ عالیہ نقشبندیہ احسنیہ کے بارے میں تحریر ہوا۔

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: پروفیسر مشتاق احمد بھٹی

حوالہ: مجموعۃ الاسرار، مکتوب شریف حضرت شیخ عبدالنبی شامی نقشبندی، حضرت شیخ عبدالنبی شامی ٹرسٹ، لاہور، اپریل ۱۹۸۶

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


مکتوب ۱: سلسلہ عالیہ نقشبندیہ احسنیہ کے بارے میں تحریر ہوا۔


حمد و صلوٰۃ کے بعد عرض ہے کہ فقیر عبدالنبی ساکن قصبۂ سیام نے حضراتِ نقشبندیہ کا طریقۂ سلوک حضرت حاجی عبداللہ سلطان پوری سے بے انتہا خدمت کے بعد حاصل کیا۔ اُن کی وفات کے بعد حضرت حاجی شیخ محمد طاہری عالم پوری سے باقی ماندہ حاصل کیا، وہ حضرت حاجی عبداللہ کے خلیفۂ کامل تھے۔ نیز میاں محمد جان ساکن قصبہ میانی کی صحبت سے بھی استفادہ کیا، وہ بھی حضرت حاجی عبداللہ کے کامل خلفاء میں سے ہیں۔ اور ان دونوں بزرگوں یعنی شیخ حاجی محمد طاہر اور حضرت محمد جان نے قطبِ دوراں حضرت عبداللہ جی سلطانپوری سے براہِ راست طریقت و حقیقت میں کمال حاصل کیا ہے۔ اور حضرت عبداللہ جی نے علمِ طریقت، غوثِ زماں حضرت محمد شریف جی سے حاصل کیا ہے، اور انہوں نے قطب الاقطاب حضرت شیخ آدم بنوری سے، اور انہوں نے سلسلۂ قادریہ، چشتیہ اور دوسرے سلسلوں میں سلوک کی منزلیں طے کرنے کے بعد حضرت مجدد الف ثانی غوثِ صمدانی المعروف بہ حضرت احمد فاروقی سرہندی سے براہِ راست فیضِ طریقت حاصل کیا ہے۔ حضرت سرہندی نے شیخِ کامل حضرت خواجہ محمد باقی سے، اور انہوں نے حضرت مولانا خواجگی امکنگی سے، اور انہوں نے حضرت مولانا درویش محمد سے، انہوں نے حضرت محمد زاہد سے، انہوں نے حضرت خواجہ عبید اللہ احرار سے، اور انہوں نے حضرت یعقوب چرخی سے، اور انہوں نے شیخ المشائخ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند سے، انہوں نے بڑی خدمت کے بعد حضرت میر سید کلال سے، انہوں نے حضرت خواجہ بابا سماسی سے، اور انہوں نے بڑی خدمت کے بعد حضرت خواجہ شاہ علی رامیتنی المشہور بہ عزیزان سے، اور انہوں نے حضرت محمود انجیر فغنوی سے، اور انہوں نے حضرت خواجہ عارف ریوگری سے، اور انہوں نے حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی سے اور انہوں نے حضرت خواجہ یعقوب یوسف ہمدانی سے اور انہوں نے بڑی خدمت کے بعد حضرت شیخ ابو علی فارمدی طوسی سے، اور انہوں نے حضرت خواجہ ابو القاسم گرگانی سے، اور انہوں نے بڑی خدمت سے حضرت ابو الحسن خرقانی سے اور انہوں نے بایزید بسطامی سے، اور انہوں نے حضرت جعفر صادق سے، اور انہوں نے حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر سے، اور انہوں نے حضرت سلمان فارسی سے، اور انہوں نے حضرت امیر المومنین ابوبکر صدیق نیز حضرت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے علمِ طریقت بلا واسطہ حاصل کیا۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *