مکتوب حاجی دوست محمد قندھاری ۱۔ بنام محمد جان اخوند زادہ صاحب

مکتوب شریف حضرت قطب الاقطاب شیخ حاجی دوست محمد قندھاری نقشبندی مجددی (وفات ۱۲۸۴ھ)، بانی خانقاہ احمدیہ سعیدیہ موسیٰ زئی شریف، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان

شریعت پر عمل اور چند مفید نصائح کے بیان میں، اخوند زادہ محمد جانان کی طرف تحریر فرمایا۔

زبان: فارسی

اردو ترجمہ: صوفی محمد احمد نقشبندی زواری

حوالہ: تحفۂ ابراہیمیہ: مکتوبات حضرت مولانا حاجی دوست محمد قندھاری رحمۃ اللہ علیہ، اردو ترجمہ: صوفی محمد احمد نقشبندی مجددی زواری، زوار اکیڈمی پبلی کیشنز، کراچی، طبع دوم 1998

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


الحمد لله الذي اطلع في فلك الازل شمس النبوية المحمدية واشرف من افق اسرار الرسالة مظاهر تجليات احمدية صلى الله عليه وسلم.

اما بعد! اخوی عزیزی ارشدی محمد جانان اخوند زادہ صاحب، سلمه الله تعالىٰ عن الآفات الدنيوية والاخروية وجعله الله عاشقا لذاته تعالىٰ۔

فقیر حقیر لاشی دوست محمد عفی عنہ کی طرف سے  بعد سلام مسنونہ کے معلوم ہو کہ چند نصائح تحریر کی جاتی ہیں تاکہ دوستوں کے لئے فلاح و نجات کا باعث ہوں۔ پس معلوم ہو کہ طریقۂ صوفیہ کی ترویج اور اجازت کے لئے یہ شرط ضروری ہے کہ شریعت مطہرہ نبویہ علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والتحیات کے احکام شریفہ پر ظاہری اور باطنی طور سے پوری پوری استقامت ہونا چاہئے اور حتی الوسع حدودِ شرعیہ سے ایک ذرہ بھی تجاوز نہ کرنا چاہئے۔ خصوصاً پنجوقتہ نماز کو اول وقت میں با جماعت ادا کرنا چاہئے اور صبح کی نماز کو واجبی طور پر۔ ہر وقت خداوند کریم کے ذکر اور مراقبہ میں مشغول رہنا چاہئے۔ کم کھانا، کم سونا، کم بولنا اور لوگوں کے ساتھ کم ملنا جلنا چاہئے۔ توبہ، زہد، صبر، قناعت، توکل، شکر، خوف، تسلیم، رضا جیسے اوصاف علیا سے موصوف ہونا چاہئے۔ عوام لوگوں کی طرح کشف و کرامات کو کوئی اہمیت نہ دینا چاہئے۔ اپنی ذات اور جملہ مخلوق کی ذات سے ناامید رہنا چاہئے۔ فقر اور فاقہ کو بڑی نعمت خیال کریں۔ مریدوں کے مال میں کسی قسم کا کوئی لالچ نہ رکھیں۔ مخلوق آپ کی تعریف کرے یا آپ کو برائی سے یاد کرے اس کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ دولت اور دولت مندوں سے پرہیز کریں اور علماء و فقراء کی جان و مال و تن سے خدمت کریں۔ مخلوق خدا کی غیبت اور مذمت سے اجتناب کریں۔ کسی نے کیا خوب فرمایا ہے

هر کجا این نیستی افروزن تر است
کار حق را کار گاه آن سر است

ترجمہ: جہاں کہیں فنائیت بہت زیادہ ہے وہی جگہ حق کے کام کا کارخانہ ہے۔

شریعت و طریقتِ محمدی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والتحیات (بعدد کل معلوم لک) کا اجمالی بیان یہی ہے۔

اللهم ارزقنا متابعة حبيبك قولًا وفعلًا واعتقادًا اولًا وآخرًا ظاهرًا وباطنًا

بھائی جان اپنی ساری ہمت اللہ تعالیٰ کی طلب و جستجو اور اس کی یاد میں صرف کریں، یہاں تک کہ حق تعالیٰ کی یاد میں ایک لمحہ اور ایک لحظہ بھی غفلت نہ آنے پائے اور ہمیشہ متوجہ بخدا رہیں۔ رزق کا غم نہ کیجئے اور نہ ہی اس کے متعلق ناحق مشوش اور پریشان رہیں، کیونکہ رزق حق تعالیٰ کی طرف سے مقرر و مقدر ہے۔ بے عمل عوام علماء اور جاہل صوفیاء کی طرح علم و عملیات و افسونات اور لغو قسم کی تقریرات کو اپنا وسیلہ نہ بنائیں کیونکہ ایسا کرنے میں سوائے ذلت و رسوائی کے اور کچھ حاصل نہیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے: بیہقی نے عبداللہؓ بن مسعودؓ سے یوں روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر اہلِ علم، علم کو محفوظ رکھیں اور علم کو اہلِ علم کے سپرد کریں تو وہ اس علم کے ذریعے سرداری سے سرفراز ہو جائیں، لیکن چونکہ انہوں نے علم اہلِ دنیا کے لئے صرف کیا اس واسطے وہ ذلیل و رسوا ہوئے۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ فرماتے تھے جس نے تمام غموں کو آخرت کا غم سمجھا اور غم آخرت بھی کرنے لگا تو اللہ تعالیٰ اس کے دنیا کے غموں کو کفایت فرمائے گا، اور جس کو دنیا کے مختلف غموں نے آ لیا اور وہ ان کی فکر میں پڑ گیا تو اللہ تعالیٰ جس کی ذات بے پرواہ و مستغنی ہے اس کی کچھ پرواہ نہ کرے گا خواہ وہ کسی بھی سخت و مشکل وادی میں ہلاک ہوجائے۔

سعادتِ دنیاوی و دینی اور اُخروی علم و عمل میں ہے جبکہ وہ قولاً و فعلاً و اعتقاداً خالص اللہ تعالیٰ کے لئے شریعت شریفہ کے عین موافق ہو۔ اور جو شخص رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال و اعتقادات کو جانتا ہو لیکن عمل نہ کرتا ہو تو وہ عالم نہیں۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

”لا يكون المرء عالمًا حتىٰ يكون بعلمه عاملًا“

یعنی وہ شخص عالم نہیں ہو سکتا جو اپنے علم پر عامل نہ ہو۔

اس حدیث کے راوی حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *