مکتوب خلیفہ محمود نظامانی ۷۷۔ عبدالخالق ممبئی والے کی طرف

مکتوب شریف حضرت شیخ خلیفہ محمود نظامانی سندھی قادری نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۱۲۶۷ھ)، خلیفہ اعظم سید محمد راشد شاہ المعروف پیر سائیں روضے دھنی قدس سرہ

میاں عبدالخالق ممبئی بندر والے کی طرف ان کے خط کے جواب میں لکھا گیا جس میں اپنی عمر کے ضائع ہونے اور مقصد کے حاصل نہ ہونے کے متعلق لکھا تھا۔

حوالہ: مکتوبات شریف حضرت خلیفو محمود فقیر (سندھی ترجمہ)، مترجم مولانا عبدالحلیم ہالیپوٹو، محمودیہ اکیڈمی، ضلع بدین، سندھ، 2003

اردو ترجمہ از طالب غفاری

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


محب الفقراء، مودت پیراء، عقیدت آراء، محب مخلص، خاص دوست، متحد دل و جان، ہمیشہ در امن و امان، میاں عبدالخالق، رب پاک اسے سلامت رکھے۔

سلاموں کے بعد جو مسلمانوں کا طریقہ ہے، واضح ہو کہ آپ کا خط ملا جس میں آپ نے لکھا ہے کہ یہ بیچارہ غمگین مسکین بے تسکین جس نے عمر برباد کردی ہے، مقصد حاصل نہیں کرسکا، صحرائے حیرت اور میدانِ حسرت میں آٹے کی طرح سرگردان ہے۔

عزیزا! اس نعمت کا شکر بجا لائیں کہ راہ کھوچکے تھے لیکن پھر بھی راستہ مل گیا ہے، انشاء اللہ مقصد بھی حاصل ہوجائے گا۔ اگرچہ کافی عمر بے خبری اور نفسانی اور شیطانی  غرور میں گذر گئی تھی، لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے خبردار کیا اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ اب اس حدیث شریف کو پیش نظر رکھنا چاہیے:

”اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنۡبِ کَمَنۡ لَا ذَنۡبَ لَہٗ“

یعنی گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے کہ گناہ کیا ہی نہ ہو۔

بیت فارسی

آبِ چشمِ خویش را کردم پناہ
رحمتش را تشنہ دیدم بر گناہ

چونکہ ستاری تو دیدم کارساز
پس بدستِ خود دریدم پردہ باز

ترجمہ: اس کی رحمت کو گناہوں پر پیاسا دیکھ کر میں نے آنکھوں کے پانی کو پناہ بنالیا۔ تیری ستاری کو کارساز دیکھا تو اپنے ہاتھوں سے پردہ چاک کردیا۔

ہمارے مرشد حضرت پیر صاحب روضہ والے حدیث شریف کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ قیامت کے دن ایک شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا، اس کے اعمال نامہ میں کوئی نیکی نہیں ہوگی اس لئے حکم ہوگا کہ اسے جہنم میں ڈالا جائے۔ فرشتے اسے لے کر دوزخ کی طرف چلیں گے۔ وہ شخص گھوم کر پیچھے دیکھے گا۔ اللہ تعالیٰ ملائکہ کو حکم فرمائیں گے کہ اس سے پوچھو کہ تیرا نیک عمل تو ہے ہی نہیں، تو پیچھے کیوں دیکھتا ہے؟ وہ شخص کہے گا کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے بھلائی کی امید ہے کہ مجھے بخش دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ حکم فرمائیں گے کہ اسے جنت میں پہنچاؤ۔

ہم سے بھی کاملین کی بے ادبیاں ہوئیں، لیکن انہوں نے شفقت و مہربانی سے بخش دیں۔ ہر کوئی وہی کرتا ہے جو اس کے لائق ہوتا ہے۔

بیت فارسی

تو مگو ماران بدان شہ باز نیست
بر کریما کارہا دشوار نیست

ترجمہ: تو مت کہہ کہ میری بادشاہ تک پہنچ نہیں ہے، کریموں کے لئے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے۔

ہمیں تو ”ظَنُّ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ خَیۡرًا“ یعنی ”مؤمنین میں اچھا گمان رکھو“ کا حکم ہوا ہے۔ ہمیں زیب نہیں دیتا کہ رب کریم میں بخشش کی امید نہ رکھیں۔ ذوالحجہ کی چوبیس تاریخ کو سورج نکلنے کے بعد آپ کے لئے کچھ مزید لکھنے کے ارادے سے مسجد میں بیٹھا ہی تھا کہ ایک درویش فقیر بے نظیر میاں حمیداللہ کے نام سے آیا اور کپڑے کے دو تھان، جو دو دو سو روپے کے ہیں، وہ نذرانے میں پیش کیے۔ ایک مجھے دیا، دوسرا عبداللہ کو۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ کے رعب اور خوف کا ایسا غلبہ ہوا کہ آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور لکھنے کی ہمت نہ رہی کہ شاید یہ بھی کوئی امتحان نہ ہو۔ جب گنہگار بندے پر بادشاہ احسان کرے تو خوش نہ ہونا چاہئے، بلکہ ڈرنا چاہئے کہ ایسا نہ ہو کل کو بادشاہ ناراض ہوکر انعام چھین لے۔ ایک دن ہمارے مرشد حضرت پیر صاحب روضہ والوں نے فرمایا کہ ایک بزرگ حرمین شریفین جارہے تھے۔ ایک رات اپنے قافلے سے بچھڑ گئے، ساری رات چلتے رہے اور صحرا میں جا پہنچے۔ بہت پیاس لگی تو اللہ تعالیٰ سے پانی کی دعا مانگی، اور آسمان سے شراب کا جام نازل ہوا۔ بزرگ شراب کا جام دیکھ کر بہت روئے اور عرض کیا یا خدا! مجھے آزمائش میں نہ ڈال، اگر پانی دینا ہے تو کسی دیہاتی کے ہاتھ سے دلا دے۔

میں نے جس دن سے یہ حکایت سنی ہے اس دن سے لیکر (جب بھی) اللہ تعالیٰ کوئی نعمت عطا کرتا ہے تو شکر کرتا ہوں اور ڈرتا بھی ہوں۔ اب بس کرتا ہوں کہ دانائوں کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔

والسلام علیکم۔ حاضرین مجلس کو سلام پہنچیں۔

 

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *