مکتوب خلیفہ محمود نظامانی ۷۴۔ مولوی جان محمد کی طرف

مکتوب شریف حضرت شیخ خلیفہ محمود نظامانی سندھی قادری نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۱۲۶۷ھ)، خلیفہ اعظم سید محمد راشد شاہ المعروف پیر سائیں روضے دھنی قدس سرہ

مولوی جان محمد کی طرف اس کے خط کے جواب میں لکھا گیا، جس میں اپنے قلبی ہیجان، بے قراری اور پریشانی کے متعلق لکھا تھا۔

حوالہ: مکتوبات شریف حضرت خلیفو محمود فقیر (سندھی ترجمہ)، مترجم مولانا عبدالحلیم ہالیپوٹو، محمودیہ اکیڈمی، ضلع بدین، سندھ، 2003

اردو ترجمہ از طالب غفاری

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


محب الفقراء، مودت پیراء، عقیدت آراء، دوست اہل اللہ، اللہ والوں کے مخلص، طالب طریق ایقان، مقبول بارگاہ رحمان، مولوی جان محمد، رب پاک اسے سلامت رکھے۔
بعد از السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، نیک روشن ہو کہ آپ کا محبت سے لبریز خط ملا جسے پڑھ کر جو ذوق اور سرور حاصل ہوا وہ بیان کرنے سے بڑھ کر ہے۔
آپ نے لکھا تھا کہ میرے دل کو کہیں قرار نہیں آتا، تسکین نہیں ملتی، ہمیشہ حیران اور پریشان رہتا ہے۔ اس لئے یا تو وہیں سے نظر کرم کردیں یا پھر اپنے حضور پرنور میں بلوالیں۔

عزیزا! دل کا قرار آسان نہیں ہے جو گھر بیٹھے کسی کو مل جائے۔ کیونکہ قرار بے قراری کے سوا کسی کو بھی حاصل نہیں ہوا۔

بیت فارسی

راہ طلب منزل آرام ندارد
شد ہمسفر ریگ رواں قافلۂ ما

ترجمہ: طلب کی راہ میں آرام کی منزل ہے ہی نہیں، چلتے قافلے کی خاک ہمسفر ہوتی ہے۔

یہی بے قراری کی منزل ہی ہے جو طریقت میں کامیابی پر پہنچاتی ہے، اور پھر قرار کی حقیقت خود ہی حاصل ہوجاتی ہے، اور پھر آرام ہی آرام ہوگا، بے قراری نہ ہوگی۔ کیونکہ محبت اور شوق اور کشش بے جہت اور بے کیف ہوتی ہے۔ یہ جمعیت اور لذت اور فرحت عین آرام اور اعلیٰ مقصد ہے، اور یہ مقام ہر کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔ جسے چاہیں اسی کو عطا کرتے ہیں کہ ذات پاک مراد ہے، مرید نہیں ہے۔ اور مرید کو ہی ریاضت و محنت و مشقت برداشت کرنی چاہیے۔ اور پیر کامل سے رابطہ مضبوط اور قائم رکھنا چاہیے کہ اس کے سوا وصال ناممکن ہے۔ پیر کامل کی صحبت اور رابطہ کیمیا اور اکسیر ہے۔ اس کا بخت بلند ہوگا جس کو صحبت اور رابطہ کی یہ نعمت حاصل ہوئی۔

بیت فارسی

صحبت ایشاں خاک را اکسیر کرد
لطف شاں در ہر دلی تاثیر کرد

ہر کہ با ایشاں نشیند یک دمی
روز محشر او کجا دارد غمی

ترجمہ: ان کی صحبت خاک کو اکسیر بنادیتی ہے، ان کا لطف ہر ایک دل میں اثر کرتا ہے، جو ان کے ساتھ ایک لمحہ بیٹھے گا اسے محشر کے دن کوئی غم نہ ہوگا۔

اے عزیز! طالب کو چاہئے کہ گھر بیٹھے اس نعمت کی حرص نہ رکھے، بلکہ ہمت باندھ کر جستجو کرے۔ ”جویندہ پایندہ“۔ جو کوشش کرے گا، پائے گا۔ ”من طلب شیئًا جدّ و جد“ یعنی جو کسی چیز کی طلب کرے گا تو حاصل کرے گا۔ بہت سے ایسے طالب بھی ہوئے ہیں جو اس نعمت کو حاصل کرنے کے لئے کئی سالوں تک شہر شہر، گاؤں گاؤں میں درد و عشق و فراق سے دھکے کھاتے رہے، لیکن جب تک مقصد حاصل نہ کیا تب تک آرام سے نہ بیٹھے، لوٹ کر گھر نہ آئے، بلکہ سب کچھ قربان کرکے جان دیکر سرّ (راز) حاصل کیا۔

بیت فارسی

عشق آسان نیست جانا بمزگان کندن است
کشتی کاغذ میان قعر دریا بردن است

ترجمہ: عشق آسان نہیں ہے پیارے! بھنویں نوچنی ہیں۔ کاغذ کی کشتی دریا کے بھنور میں ڈالنی ہے۔

دار را معراج میخوانند سردارانِ عشق
زین سبب ہر بوالہوس کی بر سر دار آورند

ترجمہ: عشق کے سردار تختۂ دار کو معراج کہتے ہیں، اس لئے ہر بوالہوس کو تختۂ دار پر نہیں لاتے۔

کاغذ ختم ہوگیا، باتیں ابھی باقی ہیں۔

والسلام مکمل ہوا کلام۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *