مکتوب خلیفہ محمود نظامانی ۶۷۔ درویش فقیر محمد کی طرف

مکتوب شریف حضرت شیخ خلیفہ محمود نظامانی سندھی قادری نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۱۲۶۷ھ)، خلیفہ اعظم سید محمد راشد شاہ المعروف پیر سائیں روضے دھنی قدس سرہ

یہ مکتوب آپ نے درویش فقیر محمد کی طرف اس کے خط کے جواب میں تحریر فرمایا۔ ذکر و فکر کی نصیحت کے متعلق۔

حوالہ: مکتوبات شریف حضرت خلیفو محمود فقیر (سندھی ترجمہ)، مترجم مولانا عبدالحلیم ہالیپوٹو، محمودیہ اکیڈمی، ضلع بدین، سندھ، 2003

اردو ترجمہ از طالب غفاری

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


محب الفقراء، مودت پیراء، عقیدت آراء، اللہ والوں کے مخلص، متحد دل و جان، میاں فقیر محمد، رب پاک اسے سلامت رکھے۔ سلاموں کے بعد جو سنت ہے اور مسلمانوں کا طریقہ ہے، اچھا کلام ہے، معلوم ہو کہ آپ کا بھیجا ہوا خط پہنچا اور مبارک وقت میں معلوم ہوا کہ آپ خیر و عافیت سے پہنچے۔

عزیزا! آپ دوستوں کو ہمیشہ ذکر و فکر میں مشغول رہنا چاہیے، جس کے نتیجے میں آپ کو دل کی پاکیزگی حاصل ہوگی، اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا۔ کسی دانا نے کہا ہے

بیت فارسی

ترسم کہ یار با ما ناآشنا بماند
تا درمن قیامت ایں غم بجا بماند

ترجمہ: ڈرتا ہوں کہ محبوب ہم سے لاتعلق ہوگا، اور یہ غم قیامت تک میرے ساتھ ہوگا۔

ہر ایک کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وصال کی عنایات کے لئے محنت اور کوشش کی ضرورت ہے، جیسا کہ آیت مبارکہ میں فرمایا گیا ہے

”وَالَّذِیۡنَ جَاھَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّھُمۡ سُبُلَنَا“

یعنی ”جو ہمارے پاس پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم انہیں ہمارے پاس پہنچنے کے راستے دکھاتے ہیں۔“

اس کے بعد وہب ہے، لیکن اس کی بنیاد بھی کوشش پر ہے اور ذکر پر ہے۔ اور اس طرف کی یاد آپ پر لازم ہے یعنی رابطۂ شیخ۔ آئندہ احوال وضاحت سے لکھا کریں۔

والسلام علیکم

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *