مکتوب خلیفہ محمود نظامانی ۵۸۔ حاجی احمد ممبئی والے کی طرف

مکتوب شریف حضرت شیخ خلیفہ محمود نظامانی سندھی قادری نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۱۲۶۷ھ)، خلیفہ اعظم سید محمد راشد شاہ المعروف پیر سائیں روضے دھنی قدس سرہ

یہ مکتوب آپ نے اپنے مرید حاجی احمد ممبئی بندر والے کی طرف اس کے خط کے جواب میں تحریر فرمایا، جس میں اس نے لکھا تھا کہ حرمین شریفین زادہما اللہ شرفا و تعظیما کی زیارت کرکے واپس آگیا ہوں، توجہ فرمائیں کہ یہ جسمانی بُعد ختم ہو۔ اس کا جواب اور مرشد کامل سے رابطہ کے بارے میں لکھا گیا۔

حوالہ: مکتوبات شریف حضرت خلیفو محمود فقیر (سندھی ترجمہ)، مترجم مولانا عبدالحلیم ہالیپوٹو، محمودیہ اکیڈمی، ضلع بدین، سندھ، 2003

اردو ترجمہ از طالب غفاری

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے:


محب الفقراء، مودت پیراء، عقیدت آراء، اللہ والوں کے دوست، ہمیشہ در امن و امان، حاجی احمد بن ابراہیم کا سینہ مسرور رہے۔

دعائے خیریت کے بعد خاطر گرامی پر واضح ہو کہ آپ نے لکھا ہے کہ حرمین شریفین زادہما اللہ شرفًا و تعظیمًا و تکریمًا کی زیارت سے لوٹ آئے ہیں، ممبئی بندر پہنچ گئے ہیں۔ اس عظیم نعمت اور دولت کی لاکھ لاکھ مبارک ہو۔

آپ نے لکھا ہے کہ دعا کریں اور توجہ کریں کہ یہ جسمانی بُعد ختم ہو۔ عزیزا! یہ جسمانی بُعد مرشد کامل سے رابطہ اور محبت سے ختم ہوتا ہے۔ جس طرح کہ حضرت یوسف علیٰ نبینا و علیہ السلام کی قمیص جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے آنکھوں پر رکھی تو ان کی آنکھوں کا نور لوٹ آیا۔ ہمارے مرشد حضرت پیر صاحب روضہ والے اس (واقعہ) سے بھی مرشد کامل سے رابطہ کا اشارہ مراد لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ذکر کا شوق نصیب کرے اور آپ کے ظاہر و باطن کو شاد رکھے اور حضرت پیغمبر پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی متابعت پر ثابت قدم رکھے۔ میاں عبدالخالق اور حاجی ابراہیم اور حاجی عبدالکریم اور حاجی حسین اور سب چھوٹے بڑوں کو سلام پہنچیں۔

دوبارہ عرض کہ اے عزیز! یہ دنیا فانی ہے، ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ انبیاء، اولیاء اور صلحاء سب اس کمینی دنیا کو چھوڑ گئے ہیں۔ ہمیں بھی یہ دنیا چھوڑنی ہے۔ آخرت کا سفر درپیش ہے، اس کے لئے بھی لازمًا سمر چاہیے۔ اگر یہاں پر کسی کے پاس سمر نہیں ہوتا تو اس کی پرورش والدین کرتے ہیں، آخرت میں کوئی بھی کچھ بھی نہیں دے گا۔ آخرت کا سمر اعمال صالحہ ہیں اور نیک اعمال اللہ تعالیٰ کا ذکر اور شریعت کی تابعداری ہے۔ افسوس ہمارے حال پر کہ ہمارے پاس گناہوں کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔ یہاں وہی عرض کرنا چاہیے کہ جس طرح حضرت آدم علیہ السلام نے رعب، خوف، مایوسی اور پریشانی کی حالت میں کہا تھا ”رَبَّنَا ظَلَمۡنَا اَنۡفُسَنَا وَ اِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡلَنَا وَ تَرۡحَمۡنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخَاسِرِیۡنَ“۔ اسی دعا کو دل و زبان سے ورد کرنا چاہیے۔ والسلام

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *