مکتوب سوہنا سائیں ۱۲: اپنے فرزند حضرت سجن سائیں کی طرف

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

یہ مکتوب آپ نے اپنے نوجوان فرزند ارجمند حضرت صاحبزادہ شیخ محمد طاہر عباسی نقشبندی المعروف خواجہ سجن سائیں مدظلہ العالی کے نام اس وقت تحریر فرمایا جب وہ مدرسہ میں زیر تعلیم تھے۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

اردو ترجمہ: مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔


بخدمت جناب نور چشمی راحت جان مولوی میاں محمد طاہر صاحب! سلمہ اللہ تعالیٰ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! عرض یہ ہے کہ آپ کے لئے خاص سعادت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم دین، ذکر خدا، اصلاح قلب کے لئے، جماعت اور مدرسہ کی خدمت و انتظام کے لئے آپ کو پسند فرمایا، اور اس کا موقعہ عنایت فرمایا۔ اس زریں موقعہ کو غنیمت سمجھ کر آپ بیدار ہوشیار، متواضح اور منکسر مزاج ہوکر رہیں۔ حضرت خالق اکبر عزوجل کا یہ حقیقی قرب حاصل کرلے کہ امید ہے کہ اس کام سے تجھے کافی فائدہ ہوگا، اصلاح اور ترقی کی راہیں کھلیں گی۔

امید ہے کہ آپ اس عاجز کی عدم موجودگی میں مدرسہ اور جماعت کا بہتر انتظام رکھیں گے۔ گھر میں پیار، محبت، حسن سلوک رکھیں۔ ان کو بھی نماز، ذکر اور نیکی کی طرف بالکل ہوشیار رکھیں، خرگوشوں کے لئے گھاس کا خیال رکھیں، وہ بیچارے بھوک نہ مریں، اپنی والدہ صاحبہ سے مشورہ کرکے جس قدر چاہیں مرغیاں رکھ لیں، بقیہ مرغیاں شاہ صاحب کو دے دینا کہ فروخت کردیں۔

نور چشم محمد جمیل کے لئے یہ عاجز دعاگو ہے اللہ تعالیٰ ان کو خوش رکھے، حاجی عبداللطیف صاحب کو اس عاجز نے کہہ دیا ہے، ضرورت محسوس کریں تو ان سے دوائی وغیرہ کا مشورہ کرتے رہیں۔

اساتذہ کے ادب، خدمت، وقت پر کھانے، مدرسہ کے بہتر انتظام تمام امور کا خیال رکھیں۔

اہل خانہ کو السلام کہنا یہ عاجز بخریت مقام دعوت پر پہنچا ہے۔

والسلام

لاشی فقیر اللہ بخش غفاری

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *