مکتوب سوہنا سائیں ۱۱: اپنے فرزند حضرت سجن سائیں کی طرف

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

یہ مکتوب آپ نے دربار عالیہ مسکین پور شریف کے صاحبزادگان سے عقیدت و محبت، حضرت قبلہ صاحبزادہ مولانا رفیق احمد شاہ صاحب کے درگاہ اللہ آباد شریف قیام نیز تعلیم، حسن اخلاق اور فقراء کی صحبت کے متعلق، اپنے نوجوان فرزند ارجمند حضرت صاحبزادہ شیخ محمد طاہر عباسی نقشبندی المعروف خواجہ سجن سائیں مدظلہ العالی کے نام تحریر فرمایا۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

اردو ترجمہ: مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔


لاشئ فقیر اللہ بخش نقشبندی غفاری

۷۸۶

بخدمت جناب نور چشمی مولوی محمد طاہر صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ

و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ بعد خیریت طرفین واضح باد کہ پیارے آپ کا خط موصول ہوا، خیریت کا احوال معلوم کر کے خوشی حاصل ہوئی، امید ہے کہ بقیہ کتب شروع ہو چکی ہوں گی، اور آپ کی محنت بھی پوری طرح سر جوشی سے ہوگی، مطالعہ و تعلیم کے کام باضابطہ ہر طرح بہتر اور مضبوط ہوں گے، اور آپ کے دیگر ساتھی بھی دلچسپی سے مشغول کار ہوں گے۔

خط لکھنے کا باعث ایک نیا واقعہ بنا، وہ یہ کہ آپ کے چلے جانے کے بعد جب جناب حضرت قبلہ مولانا عبدالرؤف شاہ صاحب مدظلہ العالی جو کہ ہمارے پیشوا ہیں، شام کو جانے لگے تو عین اسی وقت پتا چلا کہ جناب صاحبزادہ مولوی نذیر احمد شاہ صاحب کے اسباق نہیں ہوئے، نیز اللہ آباد قیام کے دوران دوسرے صاحبزادگان سے بھی مدرسہ کے طلبہ کا رویہ درست نہ رہا، جس کی وجہ سے وہ دوبارہ پڑھنے نہیں آئے۔ چونکہ مجھے اسی وقت معلوم ہوئی جب حضرت موصوف واجب تعظیم و تکریم بذریعہ ٹرین جانے کے لئے تیار تھے، اور شام کو تنگ وقت تھا تاہم جناب حضرت صاحبزادہ مولانا مولوی رفیق احمد شاہ صاحب اور مولوی عبدالرحمان کے سامنے کچھ بات چیت کی گئی، لیکن پھر بھی اس معاملہ کی وجہ سے اس عاجز خواہ آپ کی والدہ بلکہ تمام گھر والوں کو سخت صدمہ اور دکھ ہوا، ابھی تک طبیعت پریشان اور صدمہ بہت زیادہ ہے۔ افسوس صد افسوس کہ باقی دوست ہمارے ہاں آئیں پڑھیں، اور جن کے ہم زرخریدہ غلامان غلام ہوں، جو ہمارے پیشوا اور وارث ہوں، ہم ان کی غلامی اور خدمت سے محروم رہیں، اور وہ تعلیم و تربیت سے دور رہیں۔

اس لئے عاجز کا یہ خیال ہے بلکہ فیصلہ کرلیا ہے کہ جناب شاہ صاحب براہ کرم اللہ آباد آکر رہیں، جہاں عربی خواہ طلبہ کو بھی ازحد فائدہ پہنچے گا اور صاحبزادگان مسکین پور شریف بھی زیر تعلیم و تربیت رہیں گے۔ مرکز قادریہ کے طلبہ میں صداقت کی کمی ہے، یہی وجہ ہے کہ شاہ صاحب کو مرکز میں بطور مدرس نہیں رکھا گیا، اس کے علاوہ یہ بھی ان کے عدم صداقت کی علامت اور بڑی بے قدری ہے کہ مسجد کی امامت بھی ان کے سپرد نہیں کی گئی، اس عاجز خواہ دیگر احباب پر اس کا برا تاثر ہے۔

جناب حضرت شاہ صاحب کا مرکز میں قیام آپ خواہ دوسرے جملہ طلبہ کے لئے ہر طرح فائدہ مند ہے، لیکن یہ عجیب فیصلہ ہے کہ وہ آپ کے لئے اور دیگر بے قدر طلباء کے لئے اس قدر قربانی کریں اور صاحبزادگان محروم چلے جائیں۔ ہرگز نہیں، آپ کو عرض کی جاتی ہے کہ مرکز چھوڑ کر چلے آنا اخلاقی طور پر بری بات ہے، آپ یہ دیکھیں کہ تعلیم تحقیق سے اور بہتر و مؤثر ہے، اور اگر آپ اخلاق، عمل اور کردار سے صوفیانہ رنگ میں سلامتی سے رہیں تو بیشک مرکز میں رہ کر تعلیم حاصل کریں، بشرطیکہ مذکورہ شرائط پورے ہوں تو مرکز میں ہی رہیں ورنہ آپ بھی اللہ آباد میں رہ کر تعلیم حاصل کریں۔

آپ اس قدر تقویٰ کے طور طریقہ سے رہیں کہ دوسرے طلبہ پر بہتر اثر ہو، وہ بھی احسن طریقہ سے تعلیمی جدوجہد میں مشغول رہیں، طلبہ کی مکمل سلامتی رہے، یہ خط جناب حضرت شاہ کو دکھانا اور ان کے جواب باصواب سے اس عاجز کو آگاہ کرنا۔

جناب حضرت شاہ صاحب اور آپ سے پردرد خصوصی اپیل و گزارش کی جاتی ہے کہ آپ (دونوں) اپنی حیثیت، قدر و منزلت دیکھیں اور یہ بھی کہ آپ نے زمانہ ماضی میں کیا اقدام کئے ہیں، اور زمانہ حال میں اس کے لئے کیا تجاویز اور اعمال اختیار کئے ہیں، اور زمانہ استقبال کے لئے کیا سوچ و فکر ہے، اور تمہارے سر کس قدر ذمہ داریاں آنی ہیں، اور ان کے لئے دل میں کوئی بصیرت و بیداری پیدا ہوئی ہے، آیا ان جملہ حالات کے پیش نظر کوئی قدم، سعی، جدوجہد اس وقت کرنا ہے؟ یا اس کے لئے کوئی دوسرا وقت آئے گا؟ غفلت، تکاسلی، عدم توجہی کے نتائج دنیا میں نہیں دیکھے جاتے، آپ خود دیکھ اور سمجھ رہے ہیں کہ انگلش خواں نوجوان طبقہ جو عموماً عیاش واقع ہوا ہے وہ (روحانی طلبہ جماعت) اس تبلیغی کام میں کس قدر ہمت و جرات، دلچسپی اور پورے جوش و خروش سے کام کر رہے ہیں۔ کیا وہ اپنا تعلیمی کام نہیں کرتے؟ ان میں سے بعض کے تو والدین اور رشتہ دار بھی مخالف ہیں۔

الحمدللہ اس وقت تمہارے ضمیر، قلب سلیم میں بیداری ہے، ہمت و جرات کی بیداری ہے۔ دن بدن یہ معاملہ ترقی پزیر رہے گا، انشاللہ تعالیٰ۔ مذکورہ بالا گزارش کے متعلق آپ خواہ جناب شاہ صاحب مؤثر نتیجہ خیز صلاح مشورہ کرکے جواب سے مطلع کریں، جبکہ اس عاجز خواہ اہل خانہ کا فیصلہ یہی ہے کہ جناب شاہ صاحب موصوف اللہ آباد قیام فرما رہیں، آپ کو موقعہ ملے تو گاہے بگاہے برگزیدہ شخصیت مولوی عبدالغفور صاحب (جو کہ عثمانیہ مسجد موسیٰ گوٹھ میں قیام پزیر ہیں) کی صحبت میں جا کر کچھ دیر رہیں، اور ان کو ہر ہفتہ جمعرات کی دعوت ضرور دینا کہ وہ ضرور آپ کے یہاں آکر رات رہیں، اہتمام تاکید سے ان کو دعوت دینا، مذکورہ مشورہ کے متعلق بھی اگر موصوف سے صلاح مشورہ کریں تو اجازت ہے۔

السلام جناب حضرت شاہ صاحب اور جملہ دوستوں کی خدمت میں عرض کریں۔ آپ، حضرت شاہ صاحب خواہ دیگر احباب اس عاجز کو اپنی خصوصی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔

اتفاقاً اگر طلبہ میں کسی قسم کی سستی و نقص معلوم ہو تو مولوی عبدالغفور صاحب اور جناب حضرت شاہ صاحب مل کر ان کو ہوشیار کریں۔

یہ عاجز 27 ویں کے جلسہ سے پہلے بروز سوموار اللہ آباد کے لئے روانہ ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *