مکتوب سوہنا سائیں ۱۰: اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں لکھا

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

یہ مکتوب آپ نے اپنے پیر و مرشد حضرت شیخ عبدالغفار فضلی نقشبندی المعروف پیر مٹھا قدس سرہ کی خدمت میں لکھا۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔


۷۸۶

بخدمت جناب حضرت قبلہ عالم غوث الاعظم، سید الاتقیاء، سلطان العارفین، قطب الارشاد، قیوم الزمان، جناب حضرت مرشدنا وسیدنا و وسیلتنا فی الدارین، دام الطافکم علینا

بعد السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! ہزار بار قدم بوسی، نیاز مندی، آدائے آداب ماوجب فی شانکم معروض باد۔

دست بستہ با ادب در حضور اقدس عرض یہ کہ حضور یہ کمینہ، ناکس ناچیز، خوار، ذلیل، نادار سیاہ کار، نااہل، بدکار، بدترین، تمام ردی، ہر طرح حقیر پرتقصیر، ابتر حال، ہر طرح ہر حال ہر وقت ہر مکان سپردہ بہ حضرت، حضور پر نور قبلہ ما دام حیاتہ حضور سائیں ہی کے حوالہ، زیر سایہ و عنایت ہے، دوسرا کوئی بھی سہارا، ملجا و ماویٰ، دوست، یار ہمدرد و خیر خواہ نہیں ہے، نہ ہی مجھے کسی کی ضرورت ہے۔ خدارا! اس مسکین، ضعیف، اضعف، شکستہ حال کی تباہ حالت بیچارگی، ناداری پر رحم کھاکر فضل و کرم، شفقت و عنایت، لطف و عطوفت اور نظر عنایت کی خاص مہربانی ابر رحمت کی بارانی فرماویں۔

اس نالائق کمینہ کے جرم، عیوب و خطا گناہوں، بے ادبیوں اور بے فرمانیوں سے در گزر فرما دیں جو کہ حد سے زیادہ ہیں، پوری جماعت بلکہ سارے عالم میں خراب تر اور برا نہایت درجہ رحم و کرم کے قابل ہوں، جیسا تیسا، گندہ، سیاہ، بدشکل سہی لیکن آستانہ عالیہ کے دروازہ مبارک پر پڑا ہوں، حضور کے نام سے منسوب ضرور ہوں۔ یہ عاجز فقط ایک ہی بات کا خواستگار اور عرضدار ہے اور وہ یہ کہ حضور حضرت کعبہ ما دام حیاتہ سائیں اس کمینہ پر راضی ہوں، اس عاجز میں جو قصور خطائیں موجود ہیں، بیشک حضور انور سائیں جس طرح چاہیں تنبیہ فرماویں یا سزا دیدیں یہ عین شفقت خاص احسان بے پایاں اور اس عاجز کے لئے سعادت دارین کا ذریعہ ہونگے بلکہ ہیں:

حضور راضی رہیں، راضی رہیں، راضی رہیں۔

دیگر عرض یہ کہ حضور یہ عاجز تمام خوار خراب ہے، نیک ہی نہیں ذرہ بھر نیکی کی لیاقت بھی نہیں، لیکن حضور کی یہ ایک خاص عنایت اور تصرف ہے کہ پہلے بھی یہ چاہتا رہا اور اب تو حضور نے دو چار مرتبہ وقت بوقت مہربانی فرماکر نصیحت فرمائی کہ نفاق، رنج، چغلی، غصہ، حسد، کینہ وغیرہ نہ رکھو۔ بتوفیقہ تعالیٰ و بفضل و کرم آنحضور پر نور دام حیاتہ کسی سے نفاق، حسد، کینہ وغیرہ نہ رکھوں گا، اللہ تعالیٰ اور حضرت مرشد کریم دستگیر بے کساں کوئی خاص مدد فرماویں تاکہ اس پر کچھ عمل ہو سکے۔

حضور سائیں اس خطا کار سیاہ کار پر دو مقدمے حضور کے یہاں درج ہوئے ہیں، جن میں سے ایک مقدمہ میاں عبداللہ شاہ صاحب نے مولوی عاشق محمد صاحب کے ساتھ نہ معلوم ملزم ٹھہرایا ہے یا گواہ بنایا ہے۔ دوسرا مقدمہ کل رات حضور کے یہاں ہوا، صاحبزادہ صاحب نے رات بلا کر کہا کہ آپ کے اور مولوی عاشق محمد کے اوپر حضور کے یہاں بڑا مقدمہ درج ہوا ہے، نام دریافت کیا گیا مگر انہوں نے نہیں بتایا، صرف اتنا کہا کہ مولوی صاحبان فیصلہ کریں گے۔ حضور یہ ایک حیرت انگیز اور انتہائی درد ناک افسوس ناک واقعہ ہےکہ منصوبہ کے تحت مقدمہ بنایا جاتا ہے کہ انہوں نے حضور کے بارے میں یہ کہا ہے، یا گذشتہ رات کا مقدمہ کہ انہوں نے حضور پر اعتراض کیا ہے حالانکہ اس بات کی نہ کچھ اصلیت ہے نہ بنیاد۔ اللہ تعالیٰ نہ وہ دل دے گا نہ زبان جس سے اس بارے میں ذرہ بے مقدار بھی کچھ کہوں۔ ایسی باتیں ایک نہ بیشک پچاس بنالیں، نہ اس کا فکر ہے نہ پرواہ، بشرطیکہ خود انسان عنداللہ و عند مرشد کریم خاطی نہ ہو، یار ہووے راضی کیا کرے گا قاضی۔

لیکن منصوبہ کے تحت ایسا مقدمہ بنانا کہ حضور کے متعلق انہوں نے یہ اعتراض کیا ہے ۔۔۔۔۔ حضور یہ بات موت کے دن سے زیادہ سخت صدمہ کا باعث ہے، اس بات کی وجہ سے حد سے زیادہ سخت زیادہ درد، دکھ، بیتابی پریشانی لاحق ہے۔ بس خدارا کرم فرماویں دستگیری فرماویں، ایمان پر ڈاکہ، حملہ، ۔۔۔۔۔ خدارا! مدد کا وقت ہے کرم فرماویں۔

حضور سائیں! یہ لوگ جو کچھ کریں ان کی مرضی، مگر آپ راضی رہیں، راضی رہیں، راضی رہیں۔ حضور سائیں ان باتوں کی وجہ سے اگرچہ سخت صدمہ پہنچتا ہے لیکن اس بات سے غیر معمولی سہارا و راحت ملتی ہے کہ میرا مرشد، میرا ہادی، میرا کعبہ، میرا قبلہ، غوث الاعظم، قیوم الزمان، قطب الارشاد ہے، باطن بین ہے، روشن ضمیر ہے، اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کے امور و حالات ناخن کی مانند ان کے سامنے ظاہر و عیاں بنا دیئے ہیں، بس تو خود بے قصور ہو کر رہ، یہ سوچ کر تمام دکھ کافور ہو جاتے ہیں۔ حضور سائیں پتہ نہیں چلتا کہ جملہ منصوبے اور مقدمے کیوں تیار کئے جارہے ہیں؟ یہ لوگ خواہ کتنے ہی مقدمے دائر کریں، افتراء و منصوبے بنائیں مگر حضور کے کرم و فضل سے یہ عاجز نہ مقدمہ دائر کریگا، نہ نفاق رکھے گا، نہ ہی جھوٹا خواہ سچا منصوبہ بنائے گا۔ اگر یہ عاجز بھی کوشش کرے تو بعض سچی باتیں بھی ہاتھ لگ سکتی ہیں۔ لیکن یہ بدکار اس قسم کی روش چال نہیں رکھے گا، یہ بھی حضور کی عنایت کی بدولت اپنی ذاتی لیاقت کچھ بھی نہیں۔

حضور سائیں دیگر عرض یہ کہ حضور نے کچھ راز کی باتیں ارشاد فرمائی تھیں جن کا بعض نے اظہار کیا ہے، جس کے بارے میں حضور نے چند مرتبہ ارشاد فرمایا ہے، اس بارے میں عاجز اپنی صفائی پیش کرتا ہے کہ یہ عاجز نہ تو نیک ہے نہ ہی محبت ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی بات، کسی بھی آدمی سے میں نے نہیں کی ۔۔۔۔ اور تو اور اپنے دوستوں مثلاً میاں نصیر الدین شاہ صاحب سے بھی نہیں کی۔ اگر ثابت ہو جائے تو اس عاجز کو داڑھی سے پکڑ کر جو سزا چاہیں دیدیں۔

یہ عاجز پھر بھی بار بار یہی عرض کرتا ہے اس بات سے اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے گا، میں نے کسی سے اظہار نہیں کیا۔ اس سلسلہ میں خدارا حضور رنج معاف فرماویں جو دل کو تمام سخت صدمہ درد و الم پہنچا ہے۔

ادب والسلام عاجز لاشئ اللہ بخش سگ آستانہ فضلیہ غفاری


(نوٹ: آپ کے مذکورہ پر درد احساسات کے جواب میں حضرت پیر مٹھا قدس سرہ نے جو جامع کلمات طیبات تحریر فرمائے، اس سے حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی آپ سے محبت و عنایت اور کمال درجہ اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔جواب حضرت پیر مٹھا سائیں قدس سرہ)

قولہ تعالیٰ دوسرے کے لئے خندق کھودنے والا خود سر کے بل جا پڑتا ہے۔اب تشویش اور اضطراب چھوڑ دو اور اس عاجز کی طرف سے ہمیشہ مطمئن رہو، اور یہ عاجز آپ کے مخالف کا مخالف ہے اور آپ کے دوست کا دوست۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *