مکتوب سوہنا سائیں ۹: اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں لکھا

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

یہ مکتوب آپ نے اپنے پیر و مرشد حضرت شیخ عبدالغفار فضلی نقشبندی المعروف پیر مٹھا قدس سرہ کی خدمت میں تحریر کیا، جس کا جواب بھی حضرت پیر مٹھا نے اسی ورقہ پر عنایت فرمایا۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔


۷۸۶

بخدمت جناب حضرت قبلہ عالم غوث الاعظم مجدد منور، امام المحقین، سلطان العارفین، سید السالکین، قبلہ کونین، نور العینین، غوث الاغواث، قطب الارشاد جناب حضرت مرشدنا وسیدنا وسندنا و وسیلتنا فی الدارین، ادام اللہ ظلّہ علینا

بعد السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! ہزار بار قدم بوسی، نیاز مندی و ادائے آداب ماوجب فی شانکم معروض باد۔

دست بستہ با ادب در حضور اقدس عرض یہ کہ حضور سائیں لنگر سے متعلق چار کام کرنے ہیں، ایک یہ کہ جلسہ میں ذبح کرنے کے لئے گائے بھینس وغیرہ کی کوشش کرنی ہے، جس قدر ہو سکے گا حضور کے فضل و کرم سے یہ عاجز پوری کوشش کرے گا، انشاء اللہ تعالیٰ۔ دوم یہ کہ لنگر کےلئے 6۔7 جریب گندم کاشت کرائی تھی، حضور سائیں کافی دنوں سے فصل تیار ہے، کاٹے جانے کے قابل ہے، زیادہ دیر کھڑی رہنے سے کہیں نقصان نہ ہو جائے۔ سوم یہ کہ گنے کی زمین میں ابھی کچھ کام کی ضرورت ہے، اس عاجز کو تو یہ شوق بھی ہے کہ لنگر کے لئے کپاس کاشت کرنے کے لئے بھی لی جائے، نیز لکڑیوں کا کام بھی باقی ہے، لیکن اس کے لئے کچھ وقت اور فراغت کی ضرورت ہے، فی الوقت گندم کاٹنی ہے، اس کے بعد ہو سکا تو ابھی سے یا جلسہ گزارنے کے بعد حضور کے فضل و کرم، دعا برکت سے دستور کے مطابق خدمت، غلامی ہوتی رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ میاں مشتاق احمد کو گندم کے لئے پیسے نہیں دیئے گئے، اس عاجز کے پاس پڑے ہوئے ہیں کہ میرا جانا نہیں ہوا، اسلئے عرض یہ ہے کہ اگر اجازت کی مہربانی ہو جائے تو عاجز 2۔3 دن میں ان کاموں کی کوشش کر کے واپس آجائے۔

دیگر عرض: حضور کی خدمت عالیہ میں یہ عرض ہے، اس سلسلہ میں بھی جو مشورہ مبارک اور حضور کا ارشاد مبارک ہوگا، اسی کے مطابق عمل کیا جائیگا، اسی میں سعادت دارین ہے، وہ عرض یہ ہے کہ اس عاجز کی اہلیہ حضور کی خادمہ کا حضور کے فرمان کے مطابق آپریشن ہوا، ہمارے عقیدہ، یقین اور حضور پر بھروسہ کے مطابق بہتر سے بہتر فائدہ ہوا، جس دن فقیرانی کو ہسپتال سے جانے کی اجازت ملی، سرکاری طور پر دی گئی اس پرچی پر تحریر ہے کہ ایک ماہ بعد اس ڈاکٹر سے معائنہ کرائیں جس نے آپریشن کیا ہے، مزید جو حضور کا حکم ہوگا ہمارے لئے بہتری دنیا و آخرت کی بھلائی اسی میں ہے۔ آپریشن بڑا ہوا ہے، طول میں سارا پیٹ چاک کیا گیا ہے، سمجھدار لوگ کہتے ہیں کہ جانا ضروری ہے، نیز فقیرانی نے بتایا کہ آنحضرت قبلہ ما دام حیاتہ نے فرمایا ہے کہ معائنہ کراکر آجاؤ، ڈاکٹر صاحبان نے کسی خطرہ یا ضرورت کے تحت ہی لکھا ہوگا، لہٰذا جو حضور کا مشورہ مبارک اور حضور کی رضا ہو یہ عاجز غلام غلامان اسی کے مطابق عمل کریگا، اس عاجز کو یقین ہے کہ اسی میں ہر طرح کی بہتری اور بھلائی ہوگی۔ اگر حضور کا مشورہ مبارک ہو تو یہ عاجز عید کے بعد چلا جائے تاکہ جلسہ سے پہلے واپس پہنچ جائے، مزید جو ارشاد ہو۔ اگر جانا ہو تو عاجز بیکار سادہ آدمی ہے، حافظ نور محمد صاحب کو ساتھ چلنے کے لئے گزارش کرے گا جو کہ حضور کے طفیل ساتھ چلیں گے۔ زیادہ ادب، بندگی، عجز و نیاز۔ والسلام یہ عاجز بدکار، نااہل ہر طرح حضور کے سپرد ہے نہ کوئی دوسرا سہارہ ہے نہ عمل۔

عاجز لاشئ اللہ بخش سگک دربار معلیٰ غفاریہ


(نوٹ: مذکورہ مکتوب کے جواب میں حضرت پیر مٹھا قدس سرہ نے درج ذیل مختصر مگر اہم و کافی جواب عنایت فرمایا)

اجازت است بسلامت بروید و باز آئید

(ترجمہ: اجازت ہے سلامتی سے چلے جائیں اور واپس آجائیں)

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *