مکتوب سوہنا سائیں ۸: اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں تبلیغ اور لنگر کے کاموں کے سلسلہ میں لکھا

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

یہ مکتوب آپ نے تبلیغ اور لنگر کے کاموں کے سلسلہ میں اپنے پیر و مرشد حضرت شیخ عبدالغفار فضلی نقشبندی المعروف پیر مٹھا قدس سرہ کی خدمت میں تحریر کیا۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔


۷۸۶

بخدمت گرامی قدرجت جناب حضرت قبلہ عالم غوث الاعظم مجدد منور محی السنۃ سراج الملۃ شیخ الشیوخ سید السادات قطب الارشاد جناب حضرت مرشدنا وسیدنا وسندنا و وسیلتنا فی الدارین، دام الطافکم علینا

بعد السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! ہزار بار قدم بوسی، نیازمندی ادائےآداب بندگی ماوجب فی شانکم معروض باد۔ دست بستہ با ادب در حضور عالیہ عرض کہ یہ عاجز درگاہ شریف سے رخصت پذیر ہوکر رادھن اسٹیشن پر اتر کر سیدھا میہڑ پہنچا، دودھ دینے والی گائے لینے کی پوری طرح کوشش کی، جماعت میں مختلف مقامات پر گیا، قلبی تمنا اور خیال تو تھا کہ آسانی، محبت سے پیسہ خرچ کئے بغیر کام ہو جائے گا۔ گائے بھی بہتر دودھ دینے والی ہو، چونکہ یہ موسم گائے کا نہیں ہے، اتفاقاً ہی کوئی گائے دودھ دینے والی ہے ورنہ عام طور پر بغیر دودھ ہی ہیں، اسی وجہ سے 5۔6 دن تلاش کرتے تاخیر ہو گئی ہے۔ حضور انور معاف فرماویں۔ کوشش بہت کی گئی، گائے خدمت میں بھیج رہے ہیں ایک دو ماہ کی نئی ۔۔۔۔۔ ہے دودھ بھی کافی دیتی ہے۔ ڈھائی تین سیر دودھ دیتی ہے، مالکان نے کہا ہے کہ ہم نے گھاس چارے کی پوری کوشش نہیں کی، اگر سبز چارے کھڑ وغیرہ کی خدمت پوری کوشش سے کی جائے گی تو اور زیادہ دودھ دے گی۔ دوہنے کے لئے بھی بہت غریب ہے، دوہتے وقت گائے کا بچھڑا سامنے بندھا ہوا ہو یہ خیال ضرور رکھا جائے۔

یہ عاجز جن جن مقامات پر گیا الحمدللہ حضور کے فضل و کرم سے تبلیغ کا کام کوشش سے کرتا رہا، دیکھا گیا ہے کہ تبلیغ کی اشد ضرورت ہے، نیز تبلیغ سے فائدہ بھی بہت ہوا، نئے خواہ پرانے فقیروں کو حضور کی محبت، غلامی اور آمدورفت کے لئے تاکید کی گئی، بہت سے آدمیوں نے ذکر بھی سیکھا ہے، لوگوں کو حضور سے کافی محبت ہے، جماعت کو حضور کی دعوت کرنے کا بڑا شوق ہے، بہت سے آدمی فائدہ حاصل کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ، جس جگہ حضور کا قیام ہوگا جماعت کے آدمی مرد خواہ عورتیں کثیر تعداد میں حاضر ہوں گے، حضور کو دیکھ کر بلکل خوش ہو جائیں گے، فائدہ تمام زیادہ ہوگا۔

جن جن مقامات پر عاجز کا جانا ہوا ہے، اس عاجز نے اپنی حیثیت کے مطابق (جو کچھ بھی لیاقت نہیں ہے) حضور کی نظر عنایت سے اچھی طرح کوشش کی ہے، تبلیغ میں ہر طرح بہت فائدہ ہے، دیکھا گیا ہے کہ حضور کا جو بھی غلام حضور کی محبت کے اثبات، اطاعت و پیروی سے چل کر بے طمع رہ کر تبلیغ میں کوشاں رہتا ہے تو (کام کرنے والے تو حضور ہی میں ہیں) بڑا فائدہ ہوتا ہے، جماعت میں خاص ترقی ہوتی ہے۔

افسوس!! ارمان!! کاش ہم بدکار حضور کے دامن اطاعت و محبت کو مضبوط تھام کر صحیح معنوں میں مطیع ہوکر رہیں تو کیا ہی خوب کام ہو، ترقی ہو، حضور کے فیض کا بے پایاں بحر موجزن، پرجوش وسیلاب رہے، حضور دعا فرماویں کہ اللہ تعالیٰ مرشد ہادی کی شناس اور پوری طرح اطاعت نصیب فرماوے، آمین۔

مٹھا سائیں یہ کمینہ حضور کے کرم سے میہڑ کے علاقہ میں لنگر کے لئے چاول کاشت کرانے کی کوشش کرتا رہتا ہے، جو جماعت صدق و محبت سے اور خوشی سے کام کرتی ہے، ان دنوں اس عاجز کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ اس کام کی بھی کوشش کی ہے، چاول بھی کاشت ہوتے رہے اور تبلیغ کا کام بھی ہوتا رہا تاہم بویائی کا کچھ کام ہنوز باقی ہے۔

خدمت میں دیگر عرض کہ یہ عاجز نہ تو نیک ہے نہ محبت ہے، کلیۃ ردی و بیکار بدکار، پوری جماعت میں برا، خوار و بد کردار ہے۔ لیکن دل کو یہ حرص ہوتا ہے کہ جہاں کی جماعت کو محبت اور اخلاص ہے، اور خوشی سے باہمی مشورے سے لنگر کی خدمت کرتے ہیں، زمین کے کچھ ٹکڑے لنگر کے لئے آباد کرتے ہیں تو کام کے دنوں، مثلاً ہل، بویائی کے وقت، کٹائی کے وقت اس عاجز کو اجازت ملتی رہے تاکہ تبلیغ کا کام بھی حضور کے کرم سے ہوتا رہے اور اس عاجز کی وجہ سے جماعت بھی جمع ہو جاتی ہے، لنگر کی خدمت کے لئے مشورہ کے مطابق جو کام ہوگا آسانی سے ہو جائے گا، اور کام کا بوجھ کسی ایک کے سر نہیں ہوگا، اس طریقہ سے لنگر کی خدمت کی نیکی آسانی حاصل ہوتی رہی گی اور تبلیغ کا کام بھی ہوتا رہے گا۔

خانواہن اور شہمیر کی طرف بھی کافی وقت سے جانا نہیں ہوا، خانواہن کے علاقے میں ایک دو فقیروں سے لنگر کی خدمت کے لئے مشورہ ہوا لیکن اس عاجز کا جانا نہیں ہوا تھا۔ جانے سے تبلیغ کا فائدہ بھی ہوگا۔ آنے جانے میں فقراء سے سستی ہوئی ہے، دو تین مرتبہ اس عاجز کو ان کے پیغامات ملے ہیں کہ تبلیغ کے لئے آنا ضروری ہے۔ ورنہ سستی ہو جاتی ہے۔ یہ عاجز اس وقت چلا جاتا لیکن حضور سے اجازت نہیں لی تھی، اس قسم کا عرض خدمت میں نہیں کیا تھا۔ شاید درگاہ شریف پر کوئی کام ہو۔ لہٰذا آئندہ گیارھویں کے جلسہ کے بعد حضور مہربانی فرماویں تو یہ عاجز ثواب پور خانواہن اور شہمیر سے ہو کر آئے۔

میہڑ کے بعد اس عاجز کو کنویں کے سامان کے لئے کوشش کرنے کا خیال ہے، کچھ سامان دین پور سے ہاتھ آیا تھا، مزید سامان کے لئے تاکید کر آیا تھا، پانی کا موسم ہے پھر بھی اگر راستہ صاف ہوگا تو انشاء اللہ کنویں کا سامان ساتھ لے آؤں گا۔

مٹھا سائیں یہ عاجز انتہائی برا کمینہ، سیاہ کار، پر عیب و خطا ہے، ازحد بے ادب بیوقوف اور پاگل ہے، اس عاجز کی برائیاں، گناہ، بے ادبیاں معاف کی جائیں، نظر عنایت ہو۔

حضور اس کمینہ سیاہ کار پر رحم فرما کر خاص عنایت، شفقت، نظر توجہ کی امداد فرماویں کہ عاجز انتہائی قابلِ رحم ہے۔ نفس کے مکر و قید سے آزادی، نجات حضور کی نظرِ کرم سے حاصل ہو۔ صحیح معنوں میں غلامی، اطاعت کی توفیق اور محبت کا حصہ نصیب ہو، یہ عمر بلاوجہ برباد، تباہ نہ ہو۔ خدارا! خاص کرم خاص دعا کی عنایت ہو، یہ کمینہ ہر طرح سپردہ ہے۔ مکانات کے بارے میں حضور عالیہ میں عرض ہے کہ جس طرح حضور کی تجویز مبارک اور رضا ہو، بدل و جان عاجز کو قبول ہے۔ اس کمینہ نے روبرو بھی خدمت میں عرض کیا تھا۔ حضور دعا فرماویں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ حضور کی رضا کے کاموں کی توفیق عطا فرماوے، آمین۔

زیادہ ادب والسلام

عاجز بیکار کمینہ اللہ بخش ادنیٰ سگک دربار معلیٰ غفاری

السلام نیاز قدم بوسی مولوی حاجی بخش علی صاحب، مولوی نثار احمد صاحب و جملہ جماعت کے حضور اقدس میں عرض۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *