مکتوب سوہنا سائیں ۷: اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں تحریر کیا

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

یہ مکتوب آپ نے اپنے پیر و مرشد حضرت شیخ عبدالغفار فضلی نقشبندی المعروف پیر مٹھا قدس سرہ کی خدمت میں تحریر کیا۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔


۷۸۶

بخدمت جناب حضرت قبلۂ عالم غوث الاعظم مجدد منور، سلطان الاولیاء، سرتاج الاصفیآء، سراج الملۃ، امام الامۃ، قطب الارشاد، قیوم الزمان، جناب حضرت مرشدنا وسیدنا وسندنا و وسیلتنا فی الدارین، دام الطافکم علینا

بعد السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! ہزار بار قدم بوسی، ادائے آداب بندگی ماوجب فی شانکم معروض باد۔

دست بستہ با ادب در حضور اقدس عرض کہ مٹھا سائیں! جماعت ثواب پور کی دعوت پر حضور انور سائیں کرم نوازی فرماویں، مکان کے متعلق جو صورتیں حضور نے بیان فرمائی ہیں، ان میں سے جو بھی حضور زیادہ پسند فرماویں، انشاء اللہ تعالیٰ بلا تکلیف آسانی سے اس کا انتظام ہوجائے گا، انشاء اللہ آئندہ سال تک پکا دو منزلہ ہوادار مکان تیار ہوجائے گا، اس سال بھی جس قدر ہو سکا زیادہ تر کوشش کی جائے گی، دودھ اور برف کا انشاء اللہ تعالیٰ پورا انتظام ہوگا۔ مزید جو دوست دعوت دینا چاہتے ہیں ان کو روکا جائے گا کہ یہ گرمی کا وقت ہے، کسی کی دعوت کا پروگرام نہیں ہے، موسم تبدیل ہونے پر حضور دعوتیں قبول فرمائیں گے۔ ریاست والے حاجی صاحبان نے حضور میں دعوت عرض کی تھی، چونکہ وہ بھی درمیان راہ واقع ہیں، یکبارگی ثواب پور آتے حضور کو کہیں تکلیف نہ ہو، حاجی صاحب والوں نے دو تین مرتبہ خلوص و محبت سے حضور میں عرض بھی کیا ہے، حاجی بخشیو خان اور اس کے فرزند حاجی مشتاق احمد والے اور حاجی دھنی بخش یہ یک طرفہ حضور کے ہی ہیں، مخالف گروہ کے مخالف ہیں، ان کی طرف ان کا رخ توجہ نہں ہے، حضور سے رابطہ محبت رکھتے ہیں۔

۱۱ کے موقعہ پر حضور ثواب پور عنایت فرما ویں، جماعت کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوگی، انشاء اللہ تعالیٰ عمدہ انتظام ہوگا۔ اس عاجز پر اجازت کی مہربانی ہو جائے تو یہ عاجز ہوکر آجائے اور سواری کا انتظام بھی کرکے آئے، حضور کی سواری کے لئے موٹروں کا عرض کیا گیا ہے، مزید جو سواری حضور پسند فرماویں، حضور کی رضا اور سہولت کے مطابق انتظام کی کوشش کی جائے گی۔ اٹھتے وقت یہ عاجز روبرو عرض رکھتا لیکن دیر زیادہ ہوگئی تھی حضور کو تکلیف ہونے کی وجہ سے عرض نہ کیا اور یہ عریضہ نامہ حضور میں پیش کیا ہے۔

زیادہ آداب و عجز و نیاز و سرافگندی والسلام

عاجز اللہ بخش سگک آستانہ عالیہ غفاریہ


(نوٹ: حضور کے اس مکتوب کے جواب میں حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمۃ نے درج ذیل جواب فارسی میں تحریر فرمایا)

تمام جماعت در اینجائی ملتمس اند که عزم سفر بعد از زیاده کرده شود۔ و جماعت اطرافی حسب دستور درینجا جمع خواهند شد و به سبب عدم اطلاع خاطر رنجیده و پر ملول خواهند شد، لهٰذا تا بیازده توقف باید نمود، ومثال است مشهور، چون دیر آید درست آید و الثانی من الرحمان

( مقامی جماعت درخواست گزار ہے کہ یہ سفر گیارہویں کے بعد کیا جائے، علاقہ کی جماعت معمول کے مطابق یہاں جمع ہوگی اور اطلاع نہ ملنے کی وجہ سے پریشان دل اور ملول ہوں گے، لہٰذا گیارہویں تک توقف کیا جائے اور یہ مشہور مثال ہے کہ جو کام دیر سے ہوتا ہے درست ہوتا ہے)

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *