مکتوب سوہنا سائیں ۶: اخلاص رضائے الٰہی اور لنگر کے کام سے محبت سے متعلق اپنے مرشد کو تحریر فرمایا۔

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

یہ مکتوب آپ نے شیطانی مکرو فریب سے محفوظ رہنے اور شوق سے لنگر کا کام کرنے کے موضوع پر اپنے پیر و مرشد حضرت شیخ عبدالغفار فضلی نقشبندی المعروف پیر مٹھا قدس سرہ کی خدمت میں لکھا۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔


۷۸۶

بخدمت جناب حضرت قبلۂ عالم غوث الاعظم مجدد منور، سید الاتقیاء، سلطان الاولیاء، سراج الملۃ، امام الائمۃ، قطب الارشاد، قیوم الزمان، حضرت مرشدنا وسیدنا و وسیلتنا فی الدارین، دام الطافکم علینا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! ہزار بار قدم بوسی، نیاز و ادائے آداب بندگی ماوجب فی شانکم معروض باد۔

دست بستہ با ادب در حضور اقدس عرض ہے کہ مٹھا سائیں لنگر سے متعلق کچھ کام ہے، اس کے لئے آنحضرت بابرکت سائیں اجازت کی عنایت فرماویں کہ حضور کی نظر کرم نوازش سے عاجز بدکار دارین کی سعادت سمجھ کر کوشش کرے۔ تمام کام کرنے اور کام کرانے والے حضور پُرنور ہی ہیں، اس کمترین، ضعیف میں کچھ اہلیت و لیاقت نہیں ہے۔ مٹھا سائیں ایک کام تو لنگر کے لئے لکڑیوں کا ہے جو کہ ہر سال اسی موسم میں ہوتا ہے اور بڑا ہی اہم اور ضروری کام ہے، اس سال دین پور سے لکڑیاں لانے کا مشورہ ہوا ہےاس لئے کہ حاجی محمد صادق کے کچھ رشتہ دار یہاں سے ترک سکونت کرکے چلے گئے ہیں، دین پور کی جماعت سے مستقل مشورہ کرکے کسی آسان طریقہ سے لکڑیاں لانے کی کو شش کی جائے گی، انشاء اللہ تعالیٰ۔ خط طویل ہونے کی وجہ سے زیادہ نہ لکھا گیا۔ دوسرا کام یہ ہے کہ لنگر کے مکانات کی چھتوں کی لکڑیوں کا کافی نقصان ہوا ہے، نئی لکڑیوں سے تبدیل کی جائیں گی، 250 یا 300 باریک لکڑیاں کاٹ کر 10۔11 بیل گاڑیوں پر لائی جائیں گی، بعد میں مکانات کا کام ہوگا۔ تیسرا کام لنگر کے لئے نئی بیل گاڑی بنوانے کی ضرورت ہے۔ اگر نقد پیسوں سے خریدی جائے گی تو 150 روپے یا اس سے زیادہ خرچہ آجائے گا۔ چوتھا کام یہ ہے کہ لنگر کے باغ کے کنوئیں کے لئے ایک پرزہ جسے سندھی میں ڈھینگو کہتے ہیں بنوانا ہے۔

پانچواں کام یہ ہے کہ اس عاجز حقیر کو لنگر کے لئے گنا کاشت کرانے کا ارادہ ہے، گذشتہ دو سال سے کپاس کاشت کی گئی تھی، سیلاب کی وجہ سے اس کا نقصان ہوگیا جس سے کافی آمدنی متوقع تھی، اور گنے کو سیلاب سے کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ فائدہ ہوتا ہے، گنا کاشت کرنے میں بھی ابھی کچھ دیر ہے، لیکن زمین ہموار کروانی ہے، دو چار ہل اور بلیڈ لگوا کر زمین ہموار برابر کی جائے گی، جس قدر زیادہ محنت کی جائے گی اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوگا۔ مٹھا سائیں حضور دعا اور نظرِ عنایت فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اخلاص عطا فرمائے، مٹھا سائیں اس کمینہ میں نہ محبت ہے نہ اخلاص، مگر الحمدللہ ایسے کاموں سے لنگر کی خدمت غلامی سے دل میں ذوق و شوق و خوشی راحت پیدا ہوتی ہے۔

اللہ والے خاص کر میرے ہادی، مرشد قبلہ کونین نور العین بے پرواہ ہیں، ان کو کیا ضرورت ہے؟ وہ تو بے پرواہ ہیں۔ خدا کی قسم یہ کمینہ نالائق اللہ تعالیٰ اور حضور کا خاص عظیم احسان و فضل سمجھے گا اگر حضور ان کاموں کی اجازت فرمائیں۔ مٹھا سائیں یہ قسمیہ بات ہے کہ عاجز کو دین پور خواہ کسی اور طرف جانا پسند نہیں، یہ حضور کا کرم ہے کہ دل دور جانا نہیں چاہتا، دنیوی نعمتوں کو لاکھ بار حضور کی صحبت پر قربان کیا جائے۔ الحمدللہ صحیح معنی میں حضور کے محض گوشہ نظر و عنایت سے دل میں یہ لطف و ہوس ہے۔

محبت کا دعویٰ نہیں ہے۔ حضرت مرشد کریم دام حیاتہ سائیں کی کرامت مہربانی کا اظہار ہے یہ کمینہ ردی، ان پڑھ، ان پڑھ کا بیٹا ہے، مٹھا سائیں ابتدا سے لیکر آج تک جب کبھی دین پور جانا ہوتا ہے تو ہمیشہ اسی سابقہ مکان میں قیام رہتا ہے، کھانا بھی ہمیشہ اپنا ہوتا ہے، دودھ، مکھن وغیرہ کے لئے بھی جماعت کو سوال نہیں کرتا، اتفاقا اگر کسی موقع پر کسی نے ازخود کھانا کھلایا تو اور بات ہے۔ جو مہمان فقراء آتے ہیں یا لنگر کے کام کے لئے جو بیرونی آدمی آتے ہیں تو ان کے لئے بھی جماعت پر کوئی بار نہیں ہوتا، یہ عاجز حضور کے صدقے ملے ہوئے رزق میں سے خود خدمت کے لئے تیار رہتا ہے اور خدمت کرتا رہتا ہے۔ اس عاجز میں گناہ خطائیں عیوب زیادہ ہیں ازروئے خوف حضور میں یہ عرض کیا ہے۔

دیگر عرض یہ کہ حضور کی خدمت میں دین پور کے لئے دعوت عرض کی گئی اور حضور نے خاص مہربانی فرمائی، امید ہے اب چند دن میں سردی کم ہو جائے گی حضور عنایت فرمائیں گے۔ مٹھا سائیں دین پور کی بستی میں اضافہ ہوا ہے، وہ جنگلی آدمی صحبت سے دور ہیں اور جہاں حضور کے غلام ہیں اور دین کا کام ہوتا ہے وہان نفس و شیطان کا بھی زور ہوتا ہے، حضور کی مہربانی، صحبت، تشریف آوری، نظر عنایت کے بغیر ان کا بچنا محال ہے، خدارا مہربانی ہوتی رہے، امید اور یقین ہے جلدی حضور کا کرم ہوگا۔ دوسرا عرض ہے کہ مٹھا سائیں یہ بات بھی درست ہے کہ اگر اس عاجز کے جانے کے بغیر مذکورہ کام ہو جاتے تو عاجز ہرگز نہ جاتا، شیخ باطن بین مرشد کریم سے چالاکی، بہانہ بنانے میں دنیا آخرت کا خسران ہے۔

الحمدللہ لاکھوں کروڑوں بار الحمدللہ، حضور کا یہ عظیم احسان ہے کہ دل لنگر کی غلامی، خدمت کو عین سعادت، بے پایاں نیکی اور اللہ تعالیٰ کا قرب جانتا ہے۔ اس کمینہ، عاصی پرمعاصی، بدکار، سیاہ بدکردار، بد اطوار، بد شکل، سیاہ فام، بدترین از مخلوق کو آپ کا سہارا ہے، ہر طرح آپ کے سپرد ہوں، ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں، بلکہ بے شمار عیوب خطائیں بے ادبیاں ہیں، دنیا و عقبیٰ میں اپنے سے جدا نہ کرنا، خاص اپنی محبت اطاعت مرحمت فرماویں۔

زیادہ والسلام

عاجز اللہ بخش سگک دربار معلیٰ غفاری


(نوٹ: اس خط کے جواب میں حضور پیر مٹھا علیہ الرحمہ نے درج ذیل مختصر منظوم جواب تحریر فرمایا)

پر خیر باد قطعه که بنهی در آنجا قدم
پر یمن باد زمینے ز قدومت بفیوض اتم

(جس ٹکڑے پر آپ قدم رکھیں وہ بھلائی سے پر ہو۔ وہ زمیں آپ کی تشریف آوری سے فیوض برکات تامہ سے پر ہو۔)

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *