مکتوب سوہنا سائیں ۵: اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

یہ مکتوب آپ نے اپنے پیر و مرشد حضرت شیخ عبدالغفار فضلی نقشبندی المعروف پیر مٹھا قدس سرہ کی خدمت میں لکھا۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔


۷۸۶

بخدمت جناب حضرت قبلۂ عالم غوث الاعظم مجدد منور کعبۂ حاجات، قبلۂ مرادات جناب حضرت مرشدنا وسیدنا و سندنا و وسیلتنا فی الدارین، دام الطافکم علینا

بعد السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! ہزار بار قدم بوسی و ادائے آداب بندگی ماوجب فی شانکم معروض باد۔

دست بستہ با ادب در حضور عالیہ عرض کہ مولوی نصیر الدین صاحب و دیگر خلفاء صاحبان نے مشورہ کرکے آئندہ اتوار کو علاقہ حیدرآباد کے مبلغ خلفاء کا پروگرام مقرر کیا ہے، مولوی بخش علی صاحب کے پاس بھی آدمی بھیجا گیا ہے، اس دن خلفاء موجود حاضر خدمت ہوں گے، مزید چلنے کے لئے جو تاریخ حضور انور سائیں مقرر فرماویں۔ دیگر عرض یہ کہ فضل پور کے فقیر نے شادی کے جلسہ کے لئے اس عاجز کی اجازت حضور سے طلب کی تھی، یہ لوگ اس عاجز کی اہلیہ کے قریبی رشتہ دار ہیں اسی وجہ سے یہ اصرار کر رہے ہیں، اس کے علاوہ میاں شرف الدین والوں کی ان سے رنجش ہے، کہہ رہے تھے کہ اگر آپ چلیں گے تو صلح ہو جائے گی ورنہ وہ نکاح شادی میں شامل نہیں ہوں گے۔ مٹھا سائیں قسم بخدا شادی کے اس پروگرام میں شریک ہونے یا نہ ہونے کے سلسلہ میں یہ عاجز حضور کی رضا کا طالب ہے، شادی کا ہونا اس عاجز کے جانے پر موقوف نہیں ہے۔ نہ ہی اس عاجز کو جانے کا ذاتی خیال یا شوق ہے۔ جس میں حضور کی رضا و ارشاد مبارک ہوگا اس عاجز کے لئے اسی میں عین سعادت ہے اور دلی خوشنودی بھی، بہرحال فقیر ٹھہرے ہوئے ہیں اور جانے کے لئے کہہ رہے ہیں۔

زیادہ ادب والسلام

عاجز اللہ بخش سگ دربار معلیٰ غفاری


(اس مکتوب کے جواب میں بھی آپ نے وہی کلمات دہرائے جو سابقہ مکتوبات میں تحریر ہوئے یعنی)

اجازتست برویدو بسلامت باز آئید

(اجازت ہے،جائیں اور سلامتی سے واپس آجائیں)

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *