مکتوب سوہنا سائیں ۴: اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

یہ مکتوب آپ نے اپنے پیر و مرشد حضرت شیخ عبدالغفار فضلی نقشبندی المعروف پیر مٹھا قدس سرہ کی خدمت میں لکھا۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔


۷۸۶

بخدمت جناب حضرت قبلۂ عالم غوث الاعظم مجدد منور مأۃ اربعۃ عشر، قطب الارشاد قیوم الزمان حضرت مرشدنا وسیدنا و سندنا و وسیلتنا فی الدارین دام الطافکم علینا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! ہزار بار قدم بوسی، نیازمندی ادائے آداب بندگی ماوجب فی شانکم معروض باد۔ دست بستہ با ادب در حضور عالیہ عرض کہ ثواب پور کا فقیر حاجی نظام الدین دعوت کے ارادہ سے آیا ہے، جماعت کا ایک اور آدمی وڈیرہ صاحب میاں محمد علی صاحب کو لینے گیا وڈیرہ صاحب تا حال نہیں آیا شاید کراچی گیا ہو، ان کے آپس کے جگھڑے مقدمے وغیرہ ہیں ان مصروفیات کی وجہ سے فرصت نہ ملی ہو۔ واللہ اعلم۔ اس عاجز غلام غلامان کمترین کنیزک زادہ کی گزارش ہے کہ اگر قبول دعوت کی مہربانی ہو، حضور انور سائیں تشریف فرما ہوں تو زہے قسمت، عجب بخت یاوری، اصل دل کی یہی تمنا ہے، اور جس طرح حضور نے ارشاد مبارک فرمایا کہ مسجد کے کام لے لئےمستری آنے والے ہیں، اور وڈیرہ صاحب بھی نہیں آسکے، جلسہ تک فی الحال توقف رہے۔ اس صورت میں عاجز کی گزارش ہے کہ اگر حضور پُرنور انور سائیں کی رضا اور ارشاد مبارک و اجازت ہو تو یہ عاجز میہڑ کی طرف جماعت کے شمار کا کام حضور کے کرم سے کرکے آجائے، اس علاقہ میں کافی بستیاں ہیں، مزید جو حضور کی رضا مبارک ہو، زیادہ ادب والسلام روبرو عرض کرنے کا موقع نہ مل سکا۔

عاجز لاشئ اللہ بخش ادنیٰ سگ دربار معلیٰ غفاری


(نوٹ: اس مکتوب کے جواب میں حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمہ نے تحریر فرمایا)

اجازتست بروید و بسلامت باز آئید

(اجازت ہے، جائیں اور سلامتی سے واپس آجائیں)

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *