مکتوب سوہنا سائیں ۳: اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

یہ مکتوب آپ نے اپنے پیر و مرشد حضرت شیخ عبدالغفار فضلی نقشبندی المعروف پیر مٹھا قدس سرہ کی خدمت میں لکھا۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔


786

بخدمت جناب حضرت قبلہ عالم غوث الاعظم مجدد منور قیوم الزمان، قطب الارشاد جناب حضرت مرشدنا و سیدنا و سندنا و وسیلتنا فی الدارین، دام الطافکم علینا

بعد السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! ہزار بار قدم بوسی و ادائے آداب بندگی ماوجب فی شانکم معروض باد۔ دست بستہ با ادب عرض کہ مٹھا سائیں آنجناب قبلۂ ما کعبہ جہان دام حیاتہ سائیں نے ۲۰ سیر گھی کے لئے ۸۰ روپے عنایت فرمائے ہیں، اس کمینہ غلام غلامان کو براہ مہربانی اجازت دی جائے کہ یہ کام پوری کوشش اور خیر خواہی سے کیا جائے کہ گھی بھی زیادہ ہے۔ دیگر عرض یہ کہ کل بکرا خریدنے کے لئے ۱۰ روپے ملے تھے انشاء اللہ بکرا بھی بھیجا جائے گا، مٹھا سائیں اس سے پہلے بھی پیسے ملے تھے اب تک چار بکرے آچکے ہیں جن میں سے ایک بطور خیرات لنگر کے لئے ہے، یہ حساب صاف نہیں ہے، بکرے خریدنے والے فقیر محمد صادق دین پور سے صاف کیا جائے گا۔ دیگر عرض یہ کہ اس غلام غلامان سگ دروازہ کو گھی وغیرہ کاموں کے لئے جانے کی اجازت دی جائے کہ دین پور سے ذبح کئے جانے کے لئے جانور لانے کی کوشش کی جائے، ایک دو کٹے ملے ہیں جنہیں بیچ کر ذبح کے لئے بڑے جانور خرید کرکے کسی کے ذمہ لگائے جائیں تاکہ بر وقت پہنچیں۔

زیادہ عرض یہ بھی ہے کہ اگر حضور مہربانی فرما کر دو تین دن خانواہن جانے کی اجازت فرماویں تو انشاء اللہ حضور کے فضل وکرم سے کسی سوال کے بغیر دو جانوروں کا انتظام ہو جائے گا، انشاء اللہ تعالیٰ یہ میرے دل کی خواہش ہے۔ اللہ تعالیٰ اور شیخ اعظم حضرت قبلہ جہان دام حیاتہ باطن بین ہیں کہ اس عاجز کو گھومنے پھرنے یا دعوتیں کھانے کا شوق نہیں ہے، ورنہ دوسرے خلفاء کی طرح پہلے ہی کوئی کام بتاکر اجازت طلب کرتا۔ اس عاجز کو حضور کی رضا مطلوب ہے، مذکورہ بالا کاموں کے لئے عرض کیا گیا ہے، مزید جو حضور کا فرمان اور رضا ہو، میرا دل اسی سے خوش ہے، اگر حضور کی رضا سے اجازت ملے گی تو انشاء اللہ تعالیٰ کوشش کرکے دوسرے خلفاء سے پہلے یہ عاجز بیکار واپس آجائے گا۔

زیادہ ادب والسلام

عاجز بیکار لاشئ اللہ بخش سگ دربار معلیٰ غفاری


(نوٹ: حضور نور اللہ مرقدہ کے مذکورہ خط کے جواب میں بھی حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے درج ذیل دعائیہ جواب تحریر فرمایا جو کہ مختصر اور جامع صورت میں ہے۔)

اجازتست بهرجا که میروی خوش باش
بتصمیم عزم نکویت صد آفرین شاباش

(اجازت ہے، جہاں جانا چاہتے ہو خوش ر ہو، تیرے مضبوط نیک ارادہ پر صد مبارک شاباش)

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *