مکتوب سوہنا سائیں ۲: اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں

مکتوب شریف حضرت شیخ اللہ بخش عباسی نقشبندی مجددی غفاری سندھی اللہ آبادی المعروف پیر سوہنا سائیں (وفات ۱۴۰۴ھ مطابق ۱۹۸۳ء) قدس اللہ سرہ العزیز

یہ مکتوب آپ نے شیطانی مکرو فریب سے محفوظ رہنے اور شوق سے لنگر کا کام کرنے کے موضوع پر اپنے پیر و مرشد حضرت شیخ عبدالغفار فضلی نقشبندی المعروف پیر مٹھا قدس سرہ کی خدمت میں لکھا۔

حوالہ: سیرت ولی کامل، حصہ دوم، مصنف مولانا حبیب الرحمان گبول طاہری بخشی

مکتوب شریف نیچے شروع ہوتا ہے۔


786

بخدمت جناب حضرت قبلۂ عالم غوث الاعظم مجدد منور مأۃ اربعۃ عشر، سلطان الاولیآء، امام الاتقیآء، قطب الارشاد، قیوم الزمان، جناب حضرت مرشدنا وسیدنا و وسیلتنا فی الدارین، دام الطافکم علینا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

ہزارہا بار قدم بوسی نیاز مندی ادائے آداب بندگی ماوجب فی شانکم معروض باد۔ دست بستہ با ادب در خدمت اقدس عرض کہ مٹھا سائیں معاندین مخالفین دشمنوں نے حال ہی میں جو جدید حملہ بغض و شرارت کیا اس سے دل کو سخت صدمہ اور دکھ پہنچا، کئی شیطان لعین حاسد جل سڑ رہے ہیں مگر حاسد دشمن کے منہ میں خاک، دائما خوار، ذلیل، مقہور و مخزول رہے ہیں اور رہیں گے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے آنحضرت سائیں کو پہلے ہی منصور مامون، فتح یاب، کامیاب، کامران، سرفراز، سرخرو، سربلند رکھا ہے،اب بھی رکھا ہے، آئندہ بھی حضور ہمیشہ کامران و سربلند رہیں گے، آمین۔ حضور کی خدمت عالیہ میں ہزارہا، لکھا، کروڑہا مبارک بر مبارک تحفہ و ہدیہ معروض باد۔ دیگر عرض کہ مٹھا سائیں، اس کمینہ زر خرید غلام غلامان کے ذمہ لنگر کے دو تین کام ہیں، ایک یہ کہ غلہ گندم کے مشتاق احمد کو پیسے دیئے ہوئے ہیں، اس سے روبرو ملا جائے، نیز آس پاس کے دام بھی معلوم کئے جائیں۔ دوم یہ کہ اس عاجز نے لنگر کے لئے جو ربیع کی فصل کاشت کرائی تھی اسے کٹوا کر حضور کی غلامی میں کوئٹہ چلا گیا، معلوم ہوا ہے کہ تا حال بقیہ کام نہیں ہوا ہے، سوم یہ کہ تین ماہ قبل حضور سے اجازت لیکر ابتدائی ایام میں لنگر کے لئے کپاس (تخم پنبہ) کاشت کرائی، اس درمیان اسکی نظر داری نہیں ہو سکی، تاحال پانی نہیں دیا گیا، خودرو گھاس بھی نہیں نکالے گئے، زمین کے کنارے بھی درست نہیں تھے، اس سارے کام کے لئے روبرو جاکر کوشش کروں گا انشاء اللہ تعالیٰ۔

لہٰذا بعجز نیاز و ادب عرض ہے کہ حضور مہربانی فرما کر اجازت مرحمت فرمائیں کہ مذکورہ کاموں کے لئے بھی کوشش ہوسکے، ساتھ ہی تبلیغ کا کام بھی ہو۔ حضور کی نظر کرم سےدین پور کی بستی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے شیطان کو دکھ پہنچا ہے۔ اس عاجز کو جلسہ سے پہلے جانے کا ارادہ تھا لیکن چونکہ حضور ان ہی دنوں تشریف لائے تھے، جی نہ چاہا کہ صحبت اور گفتگو مبارک سے محروم رہوں، دوسرا اس عاجز کو ثواب پور کی دعوت کا خیال بھی تھا، اس عاجز نے ان کے نام تاکیدی خط لکھا تھا کہ آجائیں تاکہ حضور کی عنایت ہو جائے، اس لئے بھی یہ عاجز موجود رہا، نہ معلوم کسی کام وغیرہ کی وجہ سے نہیں آئے، اگر حضور کی اجازت ہو تو یہ عاجز ان کے پاس بھی ہو کر آئے۔ اس عاجز کو یہ شوق زیادہ ہے کہ حضور مہربانی فرما کر دعوتیں قبول فرماویں اور یہ سفر ہوتے رہیں، فقیر محبت والے ہیں، پتہ نہیں کیوں نہیں آئے؟ دین پور کی دعوت کے لئے طویل عرصہ، کئی سال سے عرض کیا ہوا ہے، حضور کرم فرمائیں، دعوت کے خرچہ وغیرہ کے سلسلے میں فقیر ہر طرح چست ہیں، مردوں اور عورتوں کو جلسہ کا شوق ہے، حضور مہربانی فرماویں۔ دیگر عرض کہ کھوندی کے فقراء اس جلسہ میں بیوی بچوں سمیت آئے تھے ان کے بھائی کی شادی ہے، اس عاجز کو کہہ کر گئے تھے کہ آپ آجائیں پوری جماعت کو دعوت دیں گے، جماعت کی طرف سے جلسہ ہو جائے گا، اس سلسلہ میں بھی جو حضور کا حکم مبارک اور رضا ہو۔

اس کمینہ کو محبت نہیں ہے، ہزارہا عیوب و خطائیں موجود ہیں، ان مذکورہ بالا معروضات پیش کرنے سے اس عاجز کا قلبی مقصد یہ ہے کہ جو رضا، جو حکم اور جس قدر اجازت ہو، یہ کمینہ اس کے مطابق عمل کرے، کچے میں آباد والے وڈیرہ کے رشتہ داروں کی بستی ہے، جن کے پاس ابتدائی ایام میں ایک دو بار جانا ہوا تھا، ان میں سے ایک دو آدمی یہاں بھی آتے جاتے رہتے اور ان کی محبت ہے، انہوں نے کہا کہ دوسروں لوگوں کو بھی شوق ہے آپ ضرور ہمارے پاس آئیں، سومر فقیر چورن بابٹن کی بستی والوں کو بھی کافی محبت ہے، اس بستی میں جانے کے لئے بھی کہا ہے۔ جو ارشاد مبارک ہو اسی میں اس عاجز بیکار کے لئے سعادت دارین ہے، دل کا ارادہ بھی یہی ہے کہ حضور کی رضا مبارک ہو۔

زیادہ ادب والسلام

عاجز بیکار لاشی اللہ بخش ادنیٰ سگ دربار معلّیٰ غفاری


(نوٹ: حضور کے اس مکتوب مبارک کے جواب میں بھی حسبِ معمول حضرت پیر مٹھا قدس سرہ نے درج ذیل جامع مگر انتہائی مختصر جواب اسی کاغذ پر تحریر فرمایا

اجازتست بهرجا که میخواهی۔ بسلامت روی و باز آئی

(اجازت ہے جس جگہ چاہیں سلامتی سے جائیں اور واپس آجائیں)

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *